سب سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ ریفرنڈم اور نیا صوبہ بنانا دو الگ چیزیں ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 48 شق 6 کے مطابق قومی اہمیت کے کسی معاملے پر وزیراعظم معاملہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے سامنے رکھ سکتا ہے اور منظوری کے بعد اسے عوام کے سامنے ریفرنڈم کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے۔

لیکن ریفرنڈم کا نتیجہ خود بخود پاکستان کے نقشے پر ایک نیا صوبہ نہیں بنا دیتا۔ نئے صوبے کے لیے آئینی ترمیم کا معاملہ پھر بھی سامنے آئے گا۔

اور یہاں آتا ہے آرٹیکل 239۔! فرض کریں، پنجاب کو تقسیم کر کے 'جنوبی پنجاب' بنانا ہے۔اس کے لیے 3 بڑے مراحل عبور کرنے ہوں گے:

پہلا: قومی اسمبلی سے دو تہائی ووٹ۔دوسرا: سینیٹ سے دو تہائی ووٹ۔  تیسرا اور سب سے مشکل! خود پنجاب اسمبلی کو بھی اپنے کل ارکان کے دو تہائی ووٹوں سے اس کی منظوری دینی ہوگی۔ اگر متعلقہ صوبائی اسمبلی نے انکار کر دیا تو کھیل وہیں ختم!

یہی نہیں موجودہ آئین میں نیا صوبہ بنانے کی ایک الگ، واضح شق موجود ہی نہیں؛ آرٹیکل 239 شق(4) بنیادی طور پر موجودہ صوبے کی حدود تبدیل کرنے کی بات کرتا ہے۔

اس لیے نیا صوبہ بنانا اتنا پیچیدہ ہے کہ آئین میں اس کے لیے الگ سے پہلی بار شق شامل کرنا پڑے گی! یعنی معاملہ اتنا سادہ نہیں۔

اور بات صرف سرحدیں بدلنے پر ختم نہیں ہوتی۔ نیا صوبہ بنانے کا مطلب ہے، آئین کی تقریباً 12 الگ الگ دفعات کو بدلنا! سینیٹ کی نشستیں کیسے بٹیں گی؟ قومی اسمبلی کے حلقے کیسے بنیں گے؟ نئی ہائی کورٹ کہاں بنے گی؟ اور سب سے بڑا جھگڑا پیسے کا! این ایف سی ایوارڈ کا پیسہ اب کس کو کتنا ملے گا؟

یعنی یہ صرف نقشے پر پنسل سے لکیر کھینچنا نہیں پورے ملک کے سیاسی اور مالی نظام کو نئے سرے سے توڑ کر جوڑنا ہے۔

اب آتے ہیں سب سے اہم سوال پر کہ کیا نیا صوبہ بننے سے پانی، بجلی، سکول اور سڑکیں بہتر ہو جائیں گی؟

جواب ہے ضروری نہیں کیونکہ صوبے کی تعداد بڑھانا اور گورننس بہتر کرنا دو الگ چیزیں ہیں۔ایک نیا صوبہ انتظامیہ کو لوگوں کے قریب لا سکتا ہے، اختیارات کی تقسیم تبدیل کر سکتا ہے اور بعض علاقوں کو اپنی ترجیحات طے کرنے کا زیادہ موقع دے سکتا ہے۔

لیکن اگر نئی اکائی کے پاس مؤثر ادارے، وسائل، جواب دہ انتظامیہ اور مضبوط مقامی حکومت نہ ہو تو صرف نیا نام، نیا دارالحکومت اور نئی بیوروکریسی وجود میں آسکتی ہے۔

اسی لیے آئین کا آرٹیکل 140اے کہتا ہے: اصل حل نیا صوبہ نہیں، بلکہ بااختیار مقامی حکومتیں اور بلدیاتی نظام ہے۔۔ایک نیا صوبہ انتظامیہ کو لوگوں کے قریب لا سکتا ہے، اختیارات کی تقسیم تبدیل کر سکتا ہے اور بعض علاقوں کو اپنی ترجیحات طے کرنے کا زیادہ موقع دے سکتا ہے۔

لیکن اگر نئی اکائی کے پاس مؤثر ادارے، وسائل، جواب دہ انتظامیہ اور مضبوط مقامی حکومت نہ ہو تو صرف نیا نام، نیا دارالحکومت اور نئی بیوروکریسی وجود میں آسکتی ہے۔

اسی لیے آئین کا آرٹیکل 140اے کہتا ہے: اصل حل نیا صوبہ نہیں، بلکہ بااختیار مقامی حکومتیں اور بلدیاتی نظام ہے۔