ڈھاکا نے بھارتی حکام پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ قانونی طریقہ کار مکمل کیے بغیر بعض مہاجرین کو زبردستی سرحد پار بنگلہ دیش بھیجنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں۔ یہ صورتحال 2024 میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد مزید حساس ہو گئی ہے، جبکہ بھارت بھی غیر قانونی تارکین وطن کی شناخت اور بے دخلی کی مہم چلا رہا ہے۔
بنگلہ دیش بارڈر گارڈ (BGB) اور بھارت کی بارڈر سیکیورٹی فورس (BSF) کے اعلیٰ حکام کے درمیان نئی دہلی میں چار روزہ اجلاس کے اختتام پر جاری مشترکہ اعلامیے میں مذاکرات کو "خوشگوار، مثبت اور مستقبل پر مبنی" قرار دیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق اجلاس میں سرحدی علاقوں میں غیر قانونی، غیر ارادی اور جبری سرحدی عبور کے معاملات پر بھی بات چیت کی گئی، جو حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم اور متنازع مسئلہ بن چکا ہے۔
بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان 4 ہزار کلومیٹر سے زائد طویل سرحد موجود ہے، جو دنیا کی طویل ترین زمینی سرحدوں میں شمار ہوتی ہے۔ بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP)، جو تریپورہ، مغربی بنگال اور آسام جیسی سرحدی ریاستوں میں بھی برسر اقتدار ہے، غیر قانونی ہجرت کے خاتمے کو اپنی ترجیحات میں شامل کرتی ہے۔ پارٹی گزشتہ سال سے بنگلہ زبان بولنے والے بعض مسلمانوں کو، جنہیں "غیر قانونی درانداز" قرار دیا جاتا ہے، بنگلہ دیش واپس بھیجنے کی کوشش کر رہی ہے۔
بنگلہ دیش کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر نئی دہلی کو ایک درجن سے زائد سفارتی خطوط ارسال کیے جا چکے ہیں جن میں اس طرز عمل کو روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
بنگلہ دیش بارڈر گارڈ کے مطابق حالیہ ہفتوں میں سرحد پار زبردستی بھیجنے کی متعدد مبینہ کوششیں ناکام بنائی گئی ہیں، جس کے بعد سرحدی علاقوں میں نفری، انٹیلی جنس سرگرمیوں اور ڈرون نگرانی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
اس ہفتے کے آغاز میں بنگلہ دیش کی وزیر مملکت برائے خارجہ شمع عبید اسلام نے کہا تھا کہ قانونی طریقہ کار کے بغیر افراد کو سرحد پار دھکیلنا "مکمل طور پر ناقابل قبول" ہے اور اس سے دونوں ممالک کے تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
بنگلہ دیش کا کہنا ہے کہ اس نے سرحدی علاقوں میں گشت مزید سخت کر دیا ہے اور عوامی آگاہی مہم بھی شروع کی ہے تاکہ مبینہ جبری سرحدی عبور کے واقعات کو روکا جا سکے۔ دوسری جانب بھارت نے مئی میں ڈھاکا سے درخواست کی تھی کہ وہ بھارت میں بغیر قانونی دستاویزات مقیم 2,860 سے زائد مشتبہ بنگلہ دیشی شہریوں کی شہریت کی تصدیق کرے۔
مزید پڑھیں: ’ممنوع جزیرہ‘؛ ٹرمپ کی نظریں ایران کے خارگ جزیرے پر کیوں ہیں؟
مشترکہ اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک نے انسانی اسمگلنگ، سرحدی ہلاکتوں، اسمگلنگ، سرحدی انفراسٹرکچر اور مربوط بارڈر مینجمنٹ پلان کے نفاذ پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ دونوں فریقوں نے بھارت-بنگلہ دیش سرحد پر امن، سکون اور استحکام برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے مشترکہ گشت کو مزید مؤثر بنانے، نگرانی بڑھانے، حقیقی وقت میں معلومات کے تبادلے کو فروغ دینے اور سرحد پار جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف مشترکہ کارروائیاں تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک کے سرحدی حکام کا اگلا اعلیٰ سطحی اجلاس نومبر میں ڈھاکا میں منعقد ہوگا۔






