اس حوالے سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں وزارتِ اطلاعات و نشریات نے کہا کہ پاکستان کا نورستان یا افغانستان میں کسی بھی اندرونی جھڑپ سے کوئی تعلق نہیں اور پاکستانی سیکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس اداروں کے ملوث ہونے کے دعوے من گھڑت ہیں۔
وزارتِ اطلاعات و نشریات نے سابق افغان اہلکاروں کی بھرتی یا تربیت اور داعش سمیت کسی دہشت گرد گروہ کی سہولت کاری کے الزامات بھی مسترد کر دیے۔
وزارتِ اطلاعات کے مطابق پاکستان کے ملوث ہونے کا کوئی قابلِ تصدیق ثبوت پیش نہیں کیا گیا، جب کہ الزامات کے حق میں شناخت، دستاویزات، مواصلاتی ریکارڈ یا فرانزک شواہد بھی فراہم نہیں کیے گئے۔ سوشل میڈیا پر زیرِ گردش مبینہ ویڈیو بھی پاکستان سے کسی تعلق کو ثابت نہیں کرتی۔ اقوام متحدہ کی مسلسل رپورٹس افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی اور سرگرمیوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔
وزارتِ اطلاعات و نشریات نے کہا کہ افغان سرزمین پر سرگرم دہشت گرد گروہ پاکستان اور علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ دہشت گردوں کو پناہ دینے والی طالبان حکومت کا پاکستان پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام باعثِ تعجب ہے۔
وزارتِ اطلاعات نے مزید کہا کہ طالبان حکومت داخلی سلامتی کے مسائل کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالنے کے بجائے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کرے۔ طالبان حکومت افغان سرزمین کو پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کا وعدہ پورا کرے۔
وزارتِ اطلاعات و نشریات کے مطابق غیر شمولیتی اور غیر نمائندہ طالبان حکومت کے ایسے جھوٹے دعوے داخلی اختلافِ رائے اور خواتین، بچوں اور اقلیتوں پر جبر سے توجہ ہٹانے کی کوششوں کے بھی عکاس ہیں۔
یاد رہے کہ افغان طالبان نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی سیکیورٹی فورسز نے ملک کے مشرقی صوبے نورستان میں کارروائی کرتے ہوئے 28 مسلح افراد کو ہلاک اور 32 کو زخمی کر دیا ہے۔

افغان حکام نے الزام عائد کیا کہ یہ تمام افراد پاکستان کی سرحد عبور کر کے افغانستان میں داخل ہوئے تھے، جن کے بارے میں وزارتِ اطلاعات کا کہنا ہے کہ ان میں شدت پسند تنظیم داعش کے عناصر بھی شامل ہیں۔
وزارت نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی گروہوں نے ان مسلح افراد کی پشت پناہی کی تھی اور ان میں سے اکثریت کا تعلق سابق افغان حکومتی سیکیورٹی اداروں سے تھا۔







