گرپتونت سنگھ پنوں کا کہنا ہے کہ بھارت میں سکھ برادری کے خلاف مبینہ کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے اور موجودہ بھارتی حکومت کی پالیسیوں کے باعث سکھوں کے مذہبی، سیاسی اور سماجی حقوق کو خطرات لاحق ہیں

خالصتان حامی رہنما نے الزام عائد کیا کہ سکھ برادری کے خلاف کارروائیاں محض انفرادی واقعات تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع تر ریاستی پالیسی کا حصہ ہیں۔ تاہم بھارتی حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے اور سکھ علیحدگی پسند گروپوں کو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتی ہے۔

گرپتونت سنگھ پنوں اس سے قبل بھی بھارت میں سکھوں کو درپیش مبینہ خطرات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملے کو عالمی سطح پر اٹھانے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ وہ بھارتی حکومت پر سکھ علیحدگی پسند تحریک کے خلاف کارروائیوں کی آڑ میں سکھ برادری کو نشانہ بنانے کے الزامات بھی عائد کرتے رہے ہیں۔

پنوں خود بھی بھارتی حکومت کی جانب سے سخت کارروائیوں کا سامنا کر چکے ہیں۔ بھارت کی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی ان کے خلاف مقدمات اور تحقیقات کرچکی ہے، جبکہ بھارتی حکومت نے انہیں دہشتگرد قرار دے رکھا ہے۔ بھارتی حکام کا مؤقف ہے کہ پنوں اور ان کی تنظیم بھارت کی خودمختاری اور سالمیت کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

دوسری جانب گرپتونت سنگھ پنوں کے مبینہ قتل کی سازش سے متعلق امریکا میں ایک الگ مقدمہ بھی سامنے آچکا ہے، جس میں امریکی استغاثہ نے الزام عائد کیا کہ انہیں امریکا میں قتل کرنے کی سازش کی گئی تھی۔

اس مقدمے میں بھارتی شہری نکھل گپتا پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ پنوں کے قتل کی مبینہ سازش میں شریک تھے۔ امریکی محکمہ انصاف کے مطابق نکھل گپتا نے امریکی عدالت میں اپنے خلاف عائد الزامات میں جرم قبول کیا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق مقدمے میں بھارت سے تعلق رکھنے والے ایک مبینہ سرکاری اہلکار کا بھی ذکر کیا گیا تھا، جس پر سازش میں کردار ادا کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ بھارت نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی بات بھی کی تھی۔

گرپتونت سنگھ پنوں کا تازہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت میں سکھ علیحدگی پسند تحریک، انسانی حقوق اور سکھ کارکنوں کے خلاف مبینہ کارروائیوں کا معاملہ عالمی سطح پر بھی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔

پنوں کے ’’نسل کشی‘‘ کے الزام کی آزادانہ طور پر تصدیق اس بیان سے نہیں ہوتی، جبکہ بھارتی حکومت سکھ علیحدگی پسندوں کے خلاف اپنے اقدامات کو قومی سلامتی اور دہشتگردی کے خلاف کارروائی قرار دیتی ہے۔ دونوں جانب سے ایک دوسرے کے خلاف شدید الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

سکھ برادری کے حقوق، خالصتان تحریک اور بھارت میں ریاستی اقدامات سے متعلق یہ تنازع گزشتہ کئی برسوں سے بھارت، امریکا، کینیڈا اور برطانیہ سمیت مختلف ممالک میں سیاسی اور سفارتی سطح پر بھی زیرِ بحث رہا ہے۔