رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ گزشتہ ماہ ترکیہ میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد پیش آیا، جہاں صدر ٹرمپ نے اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں اور اجلاس میں شرکت کی تھی۔ ٹرمپ کے مطابق امریکی سیکرٹ سروس نے انہیں ممکنہ سکیورٹی خطرے سے آگاہ کیا اور ہدایت کی کہ وہ معمول کے مطابق ایئر فورس ون کے ذریعے سفر کرنے کے بجائے ایک دوسرے فوجی طیارے میں منتقل ہوجائیں۔
امریکی صدر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں سکیورٹی حکام کی جانب سے خطرے کے بارے میں بتایا گیا تھا، تاہم انہوں نے اس کی نوعیت یا ممکنہ حملے سے متعلق زیادہ تفصیلات جاننے کی کوشش نہیں کی۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں مسلسل مختلف نوعیت کی دھمکیاں موصول ہوتی رہتی ہیں، اس لیے وہ ایسے معاملات میں سیکرٹ سروس اور فوج کے ماہرین کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کو طیارہ تبدیل کرنے کے لیے انتہائی غیر معمولی طریقہ اختیار کیا گیا۔ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر انہیں مبینہ طور پر ایک کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے موجودہ طیارے سے نکالا گیا تاکہ صدر کی نقل و حرکت اور طیارے کی تبدیلی کا اندازہ باہر موجود افراد کو نہ ہوسکے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے ایئر فورس ون میں سوار ہونے کے بعد سکیورٹی حکام نے انہیں خفیہ طور پر دوسرے طیارے میں منتقل کیا۔ اس کارروائی کا مقصد صدر کی موجودگی اور سفر کے حقیقی انتظامات کو ممکنہ خطرات سے پوشیدہ رکھنا تھا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے بعد میں جس فوجی طیارے کے ذریعے سفر کیا، اسے خود بھی ایئر فورس ون کے مقابلے میں زیادہ خطرے سے دوچار قرار دیا، ممکنہ حملہ آور کے لیے یہ طیارہ زیادہ آسان ہدف ہوسکتا تھا کیونکہ اس کی شناخت اور سکیورٹی صلاحیتیں ایئر فورس ون جیسی نہیں تھیں
واقعے کے وقت وائٹ ہاؤس کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ ترکیہ سے برطانیہ کے لیے ایئر فورس ون کے ذریعے روانہ ہوئے ہیں۔ تاہم بعد میں سامنے آنے والی امریکی میڈیا رپورٹس نے اس سفر کے حوالے سے مختلف تفصیلات پیش کیں۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ٹرمپ کے طیارے میں سوار ہونے کے کچھ ہی دیر بعد سکیورٹی حکام نے انہیں وہاں سے نکالا اور انتہائی خفیہ انداز میں دوسرے طیارے میں منتقل کیا۔ اس دوران صدر کی نقل و حرکت کو عام نظروں سے چھپانے کے لیے معمول سے ہٹ کر انتظامات کیے گئے۔
یہ تبدیلی ایسے وقت میں ہوئی جب مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا تھا، جبکہ ترکیہ جغرافیائی طور پر ایران کے قریب واقع ہے۔ اسی تناظر میں امریکی سکیورٹی حکام صدر کے سفر اور طیارے کی سکیورٹی کو غیر معمولی اہمیت دے رہے تھے
صدر ٹرمپ نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکیہ ایک نئے طیارے پر پہنچے تھے، جو قطر کی جانب سے تحفے میں دیا گیا تھا۔ یہ طیارہ ٹرمپ کے لیے پہلے ہی خاصی توجہ کا مرکز بن چکا تھا اور اس کی تزئین و آرائش، حفاظتی انتظامات اور استعمال سے متعلق امریکا میں بحث جاری تھی
ترکیہ سے واپسی کے وقت اچانک پرانے ایئر فورس ون کے استعمال کے فیصلے نے بھی کئی سوالات اٹھائے۔ بعد میں سامنے آنے والی معلومات سے معلوم ہوا کہ طیارے کی تبدیلی محض انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ سکیورٹی خدشات سے بھی منسلک تھی
رپورٹس کے مطابق نئے طیارے پر صدر ٹرمپ کا یہ پہلا بین الاقوامی سفر تھا۔ طیارے کو صدارتی استعمال کے قابل بنانے کے لیے کی جانے والی تیز رفتار تزئین و آرائش اور اس کے حفاظتی انتظامات پہلے ہی امریکی سیاسی اور عوامی حلقوں میں زیر بحث تھے
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایران کے ساتھ امریکی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا تھا اور خطے میں ممکنہ حملوں کے خدشات بھی موجود تھے۔ امریکی صدر کو ماضی میں بھی متعدد سکیورٹی خطرات اور دھمکیوں کا سامنا رہا ہے، جس کے باعث سیکرٹ سروس ان کے بیرون ملک دوروں کے دوران سکیورٹی انتظامات کو انتہائی خفیہ رکھتی ہے
صدر ٹرمپ کے تازہ انکشاف نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ ان کے بیرون ملک سفر کے دوران ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے امریکی حکام کس حد تک متبادل راستوں، طیاروں اور خفیہ نقل و حرکت کے انتظامات کرتے ہیں
ٹرمپ کے مطابق وہ سکیورٹی ماہرین کی ہدایات کو اہمیت دیتے ہیں اور جب انہیں کسی ممکنہ خطرے سے آگاہ کیا جاتا ہے تو وہ متعلقہ اداروں کے فیصلوں پر عمل کرتے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس واقعے سے متعلق ممکنہ حملہ آور، دھمکی کی نوعیت یا مخصوص انٹیلی جنس معلومات ظاہر نہیں کیں







