رائٹرز کے مطابق جولائی میں انقرہ میں نیٹو سربراہ اجلاس کے اختتام پر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ قطر کی جانب سے تحفے میں دیے گئے نئے صدارتی طیارے پر براہِ راست امریکا واپس نہیں جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ طیارہ برطانیہ کے ملڈن ہال ایئربیس بھیجا جائے گا تاکہ وہاں موجود امریکی فوجی اسے دیکھ سکیں، جبکہ وہ ایک پرانے ایئر فورس ون کے ذریعے ملڈن ہال جائیں گے
صدر کے ہمراہ سفر کرنے والے صحافیوں کے لیے یہ تبدیلی ابتدا ہی سے باعثِ حیرت تھی۔ ٹرمپ نے اجلاس کے دوران ایران کی جانب سے انہیں قتل کرنے کی مبینہ کوششوں کا بار بار ذکر بھی کیا تھا، جس کے باعث صحافیوں میں یہ قیاس آرائی شروع ہوگئی کہ شاید صدر کو کسی حقیقی سیکیورٹی خطرے کا سامنا ہے
انقرہ سے ملڈن ہال جانے والی پرواز میں وائٹ ہاؤس کے عملے نے صحافیوں کو کھڑکیوں کے پردے بند رکھنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ یہ سیکرٹ سروس کی درخواست ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ اقدام بھی خفیہ آپریشن کا حصہ تھا
رائٹرز کے مطابق ٹرمپ کو کیٹرنگ کے ایک ٹرک کے ذریعے طیارے سے نکالا گیا اور ایک دوسرے سرکاری جیٹ میں منتقل کردیا گیا، جبکہ صحافیوں کو اس تبدیلی سے لاعلم رکھا گیا۔ برطانیہ پہنچنے کے بعد صحافیوں نے ٹرمپ کو طیارے کے ایک حصے سے باہر آتے دیکھا اور پھر وائٹ ہاؤس کے عملے کی ہدایت پر ان کے ساتھ پیدل چلتے ہوئے قطر کے فراہم کردہ نئے ایئر فورس ون تک پہنچے۔
اس وقت ٹرمپ نے طیارے کی تبدیلی میں سیکیورٹی خدشات کے کردار سے انکار کیا، تاہم کھڑکیوں کے پردے بند رکھنے کی وجہ پوچھے جانے پر ایران سے لاحق مسلسل خطرات کا اعتراف کیا
ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا ’اگر میں جاتا ہوں تو آپ بھی جاتے ہیں، ٹھیک ہے؟ شاید کسی دن آپ پیشہ بدلنا چاہیں‘
تقریباً ایک ماہ بعد یہ حقیقت سامنے آئی کہ صدر صحافیوں کے ساتھ ملڈن ہال جانے والے طیارے میں تھے ہی نہیں اور ان کی محفوظ منتقلی کے لیے ایک تیسرا طیارہ استعمال کیا گیا تھا۔ واقعے نے امریکی صدر کی نقل و حرکت کو خفیہ رکھنے کے لیے اختیار کیے گئے غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کو نمایاں کردیا۔







