نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مذاکراتی عمل میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران ایرانی عوام نے غیر معمولی استقامت اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور پوری قوم اپنی قیادت کے ساتھ کھڑی رہی، ایران نے بے مثال قربانیاں دے کر اپنے وطن کا دفاع کیا۔
ترجمان وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ایران اس جنگ میں اپنی اعلیٰ قیادت کی شہادتوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گا۔ جنگ کے دوران ایران نے اپنی سیاسی اور عسکری قیادت کے متعدد اہم افراد کو کھو دیا، جس کا دکھ ایرانی قوم ہمیشہ محسوس کرتی رہے گی۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ مجوزہ ایران-امریکا معاہدے میں لبنان میں جنگ بندی بھی شامل ہوگی۔ ایران اور لبنان کے عوام نے اسرائیلی جارحیت کا سامنا کیا اور دونوں ممالک کے عوام نے اس دوران بھاری قربانیاں دیں۔
انہوں نے لبنان کی خودمختاری کے احترام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو لبنان کی آزادی اور خودمختاری کا احترام یقینی بنانا چاہیے۔
ایرانی ترجمان نے امریکا اور اسرائیل پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام پر ڈھائے گئے مظالم کو نہ بھلایا جا سکتا ہے اور نہ ہی معاف کیا جا سکتا ہے۔ مجوزہ معاہدے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ایران ماضی کے واقعات اور حملوں کو فراموش کر دے گا۔
انہوں نے عالمی اداروں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی تنظیمیں ایرانی عوام کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کی مؤثر مذمت کرنے میں ناکام رہیں۔
کبھی نہیں بھولیں گےامریکی واسرائیلی جارحیت میں قیادت اورشہریوں کانقصان اٹھایا، ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی
— ARY NEWS (@ARYNEWSOFFICIAL) June 15, 2026
صہیونی قابض ریاست نےفلسطین کےبعدلبنان میں ظلم کابازارلگارکھاہے، ترجمان ایرانی وزارت خارجہ
ایران امریکامعاہدہ آخری مراحل میں ہے،ترجمان ایرانی وزارت خارجہ… pic.twitter.com/IJHQliR4PS
اسماعیل بقائی نے بتایا کہ معاہدے پر دستخط سے قبل ایرانی حکام پڑوسی ممالک کے دورے کریں گے اور انہیں مذاکراتی پیش رفت سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ معاہدے کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران خطے میں استحکام، باہمی احترام اور سفارتی تعاون کو فروغ دینے کا خواہاں ہے، تاہم قومی مفادات، خودمختاری اور عوام کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ معاہدے کو مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے خاتمے اور خطے میں استحکام کی جانب ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس کی حتمی تفصیلات اور دستخط کے بعد سامنے آنے والی شرائط پر عالمی توجہ مرکوز ہے۔





