اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اس وقت 36 شہروں میں دھرنے ہو رہے ہیں، جبکہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں خواتین کے بڑے پروگرام بھی منعقد کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ آج تیمرگرہ جا رہے ہیں جہاں بڑا دھرنا ہو رہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ عوام نے پٹرولیم لیوی کو بھتہ ٹیکس قرار دیا ہے اور پٹرولیم لیوی کا پٹرول کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک مافیائی نظام کے تحت چند افراد کو فائدہ پہنچانے کے لیے عوام پر ظلم کیا جا رہا ہے، تاہم حکومت کے پاس ان باتوں کا جواب موجود ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ بائیکو کمپنی نئے نام سے کام کر رہی ہے اور وہ بھی اپنی استعداد سے کم پر کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ملک میں ایک ایلیٹ گروپ ہے جو عوام کو لوٹ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شوگر مافیا عوام کو لوٹ رہا ہے، چینی ایکسپورٹ کرکے مصنوعی قلت پیدا کی جاتی ہے اور پھر خود ہی چینی امپورٹ کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کیا ڈرامہ ہے، یہ مافیائی نظام ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ 2200 اور 2 ہزار روپے من میں گندم کسان سے خریدی گئی، پھر یہی گندم 4 سے 5 ہزار روپے من میں فروخت ہوئی۔ ان کے مطابق ان تمام چکر بازیوں میں ایک ہی مافیا شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر آئی پی پیز کے معاہدے قوم کے سامنے آ جائیں تو پوری قوم تھو تھو کرنا شروع کر دے گی۔ ان کے مطابق حالات جیسے بھی ہوں، پاکستانی عوام کے بجلی کے بلوں میں کیپسٹی کی رقم شامل ہو کر آ رہی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے الزام عائد کیا کہ اس فراڈ میں ن لیگ، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سب شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جماعتیں عوام کے مسائل پر کبھی نہیں بولتیں کیونکہ ان میں مافیا کے لوگ شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب تک مافیاز ختم نہیں ہوں گے، ملک کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک بھر میں ایلیٹ کلاس کے لیے کلبز قائم ہیں، جو انگریزوں کے بنائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ کلبز کن زمینوں پر بنے ہیں اور کتنا ٹیکس دیتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی کلب کی ممبر شپ 10 ہزار روپے سے زیادہ نہیں ہے۔ حکومت ان کلبز کا فرانزک آڈٹ کرے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ایک خاص قسم کا طبقہ ہم پر سوار ہے اور ہماری قسمت کا فیصلہ کرتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پٹرولیم لیوی ختم کرے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے حکومت کو بہت مناسب تجاویز دی ہیں۔ اگر ساڑھے 11 فیصد شرح سود میں 3 فیصد کمی کر دی جائے تو ملک کو 1700 ارب روپے کی بچت ہو سکتی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے الزام عائد کیا کہ حکومت بینکوں کے مافیا کو سپورٹ کر رہی ہے۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے سوال کیا کہ شرح سود کم کیوں نہیں کی جاتی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بینک مافیا ہے اور بدترین سرمایہ دارانہ نظام موجود ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان کے اسٹیٹ بینک کو خود مختار کرنے کی بات کی جا رہی ہے، وہاں ہائرنگ اور فائرنگ کون کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اسٹیٹ بینک، اسٹیٹ کے اندر اسٹیٹ ہے تو یہ پاکستان کے لیے سیکیورٹی رسک ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایکس ریفائنری قیمت میں بہت سی ایسی چیزیں شامل ہیں جنہیں کم کیا جا سکتا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کسی بھی صورت اپنے مطالبات سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ ہم نے پٹرولیم لیوی ختم کرانی ہے اور ہم اسلام آباد آ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جو حکومتی ٹاؤٹس تھے، انہیں اس احتجاج سے تکلیف ہو رہی ہے۔ حکومت سے کہتا ہوں کہ کوئی ایڈونچر کرنے کی کوشش نہ کرے، اگر انہوں نے ایڈونچر کیا تو حکومت کو مشکل ہو گی۔
حافظ نعیم الرحمان نے سوال کیا کہ یہ 1300 سی سی گاڑی کیوں استعمال نہیں کرتے، کیا 1300 سی سی گاڑی میں کانٹے لگے ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنخواہ دار طبقے سے ٹیکس لیا جا رہا ہے جبکہ جاگیردار سے ٹیکس نہیں لیا جاتا۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے احتجاج سے عوام کو ریلیف ملتا ہے اور جماعت اسلامی نے ایک دن بھی یہ نہیں کہا کہ مذاکرات نہیں کریں گے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اگر حکومت نے ٹال مٹول سے کام لیا تو جماعت اسلامی مذاکرات ختم کر دے گی۔
انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی نے اے پی سی میں بلایا تو ضرور جائیں گے۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی بانی پی ٹی آئی کو سیاسی قیدی سمجھتی ہے اور اپوزیشن کے ساتھ جماعت اسلامی کے رابطے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی اپنے احتجاج کے ذریعے لوگوں کو شعور بھی دے رہی ہے۔ ان کے مطابق چونکہ جماعت اسلامی پرامن ہے، اس لیے حکومت ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت نے جماعت اسلامی سے تین چار دن کا وقت مانگا تھا، تاہم حکومت نے زیادتی یہ کی کہ مذاکرات کے ساتھ ساتھ تیل کی قیمت بھی بڑھاتی رہی۔
انہوں نے کہا کہ اگر اس دوران تیل کی قیمتیں نہ بڑھائی جاتیں تو شاید جماعت اسلامی اسلام آباد مارچ کی کال نہ دیتی۔







