ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف آج ایوان صدر میں صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے، جس میں خیبر پختونخوا کی مجموعی صورتحال، امن و امان اور پاکستان تحریک انصاف کے اعلان کردہ لانگ مارچ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم صدر مملکت کو خیبر پختونخوا میں پیدا ہونے والی صورتحال اور وفاقی سطح پر ہونے والی مشاورت سے آگاہ کریں گے۔ اجلاس میں صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق مختلف پہلوؤں کا جائزہ بھی لیے جانے کا امکان ہے۔

اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وزیراعظم ہاؤس میں اعلیٰ سطح کا مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں خیبر پختونخوا کی سیکیورٹی اور سیاسی صورتحال پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی وزرا اور متعلقہ حکام نے شرکت کی جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے 4 اکتوبر کو متوقع لانگ مارچ اور اس سے پیدا ہونے والی ممکنہ صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ پی ٹی آئی نے پہلے اعلان کردہ مارچ کو 4 اکتوبر تک مؤخر کیا تھا۔

حکومتی سطح پر ہونے والی مشاورت میں خیبر پختونخوا کے حوالے سے آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت دستیاب آپشنز پر بھی غور کیا جارہا ہے۔ متعلقہ حکام کی جانب سے صوبے کی امن و امان کی صورتحال، انتظامی معاملات اور وفاق و صوبے کے درمیان تعاون سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے ہیں۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی بھی آئینی یا انتظامی اقدام سے قبل تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے صدر مملکت سے مشاورت بھی اسی سلسلے کا حصہ قرار دی جارہی ہے۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت وفاقی حکومت کی جانب سے عائد کیے جانے والے بعض الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے، جبکہ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ اس کا اعلان کردہ لانگ مارچ سیاسی اور جمہوری سرگرمی ہے۔

خیبر پختونخوا میں حالیہ سیکیورٹی صورتحال بھی وفاقی حکومت کی تشویش کا ایک اہم سبب بتائی جارہی ہے۔ 18 ستمبر کو کوہاٹ پولیس لائنز میں ہونے والے حملے میں 21 افراد جاں بحق ہوئے تھے، جس کے بعد صوبے میں امن و امان کی صورتحال مزید زیر بحث آئی۔

صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان متوقع مشاورت کے بعد خیبر پختونخوا کی صورتحال سے متعلق آئینی و سیاسی معاملات پر حکومت کی آئندہ حکمت عملی مزید واضح ہونے کا امکان ہے