ڈی ایچ او کوہاٹ ڈاکٹر ناصر حسین کے مطابق دھماکے میں 16 پولیس اہلکاروں اور 5 عام شہریوں سمیت  21 افراد شہید جبکہ 78 زخمی ہوئے۔

اس حوالے سے آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے میڈیا  کو بتایا کہ بارود سے بھری گاڑی پرانی پولیس لائنز کے گیٹ ٹکرائی، گاڑی ٹکرانےکے بعد دھماکا ہوا اور فائرنگ بھی ہوئی، فائرنگ کے دوران اسپیشل برانچ کی عمارت پر ایک اورخودکش دھماکاہوا۔

سینٹرل پولیس آفس پشاور کے مطابق 7 مسلح دہشتگرد پولیس لائنز میں داخل ہوئے، پولیس اور سی ٹی ڈی نےدہشتگردوں کا بھرپور مقابلہ کیا اور اب تک 6 دہشتگرد ہلاک ہو چکےہیں۔

سینٹرل پولیس آفس کے مطابق ہلاک دہشتگردوں میں خود کش بمبار اور اسنائپر شامل ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز اور پولیس نے علاقےکو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ 

ڈی ایچ کیو اسپتال میں ایمرجنسی نافذ

پولیس کے مطابق دھماکے کے زخمیوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کیاگیا ہے، زخمیوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

ایم ایس ڈی ایچ کیو اسپتال طاہر علی شاہ کا کہنا ہے کہ  ڈی ایچ کیو اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ کوہاٹ ہنگو روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیاگیا ہے اور پولیس لائنز کے قریب مزید نفری پہنچ گئی ہے۔

ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے سے قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا، دھماکے کی جگہ پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

دہشتگردی کی بزدلانہ کارروائیوں سے قوم کےحوصلے پست نہیں کیےجاسکتے، وزیراعلیٰ کے پی نے دھماکے کی رپورٹ طلب کرلی

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کوہاٹ دھماکےکا نوٹس لیتے ہوئے پولیس حکام سے رپورٹ طلب کرلی اور کہا کہ واقعے کےتمام پہلوؤں کا جائزہ لےکر تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے، دہشتگردی کی بزدلانہ کارروائیوں سے قوم کےحوصلے پست نہیں کیےجاسکتے۔

سہیل آفریدی نے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا بزدلانہ واقعہ انتہائی افسوسناک اور ناقابل قبول ہے، زخمیوں کو فوری طبی امداد کی فراہمی کیلئےدستیاب وسائل بروئےکار لائے جائیں، اسپتالوں میں زخمیوں کے علاج اور ضروری طبی سہولیات کی دستیابی یقینی بنائی جائے، شدید زخمیوں کو دیگر اسپتالوں میں منتقل کرنے کے انتظامات کیے جائیں۔

پولیس کے مطابق دھماکے کے زخمیوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ زخمیوں میں پولیس اہلکار

بھی شامل ہیں۔

اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال لایا گیا ہے، جہاں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ کوہاٹ ہنگو روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے، جبکہ پولیس لائنز کے قریب مزید نفری پہنچ گئی ہے۔

پولیس کے مطابق دھماکا نماز جمعہ کے دوران ہوا۔ دھماکے کے باعث مسجد کے باہر گڑھا پڑ گیا، جبکہ مسجد کا بیرونی حصہ شدید متاثر ہوا اور دیوار بھی گر گئی۔

ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے سے قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا، جبکہ دھماکے کی جگہ پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

دھماکے پر سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر راجہ پرویز اشرف نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

نماز جمعہ کے موقع پر حملہ انتہائی مذموم اور بزدلانہ فعل ہے۔حافظ نعیم الرحمان


امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے بھی کوہاٹ دھماکے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔

انہوں نے کہا کہ کوہاٹ میں نماز جمعہ کے موقع پر حملہ انتہائی مذموم اور بزدلانہ فعل ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے حکومت اور انتظامیہ سے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

راجہ پرویز اشرف نے دھماکے میں زخمی ہونے والوں کی فوری مدد کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ جمعہ کے مقدس روز انسانی جانوں سے کھیلنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔

راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، مل کر اس عفریت کو ختم کرنا ہوگا۔

انہوں نے صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے دہشت گردی کے پس پردہ محرکات سامنے لانے کا مطالبہ کیا۔

راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پوری قوم کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کی قیادت دھماکے کے متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے۔