تیمرگرہ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ بھرپور جلسے کے انعقاد پر جماعت اسلامی کی مقامی قیادت کو مبارکباد دیتا ہوں، یہ اجتماع چند ہی گھنٹوں میں بڑے جلسے میں تبدیل ہوگیا۔
انہوں نے کہا کہ 20 ستمبر کا لانگ مارچ ملکی سیاست کا رخ بدل دے گا، جب کہ جماعت اسلامی کے مسلسل دھرنوں کے باعث حکومت پیٹرول پر ریلیف دینے پر مجبور ہوئی ہے، تاہم اعلان کردہ ریلیف ناکافی ہے اور پیٹرولیم لیوی ختم کرنا ہوگی۔
حافظ نعیم الرحمان نے خبردار کیا کہ لیوی ختم کرو، ورنہ ہم اسلام آباد آ رہے ہیں، پہلے سے حالات سمجھ جاؤ، ہم آئے تو تمہارے پاس کچھ نہیں بچے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کے 40 شہروں میں دھرنے جاری ہیں اور یہ دھرنے بھی جاری رہیں گے جبکہ 20 ستمبر کو لانگ مارچ بھی ہوگا۔ تیمرگرہ، شانگلہ، میرپورخاص، حیدرآباد، کراچی اور سکھر سمیت مختلف مقامات پر احتجاجی دھرنے جاری ہیں، جبکہ بٹ خیلہ کا دھرنا بھی بڑے جلسے میں تبدیل ہوگیا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ سندھ، خیبرپختونخوا، پنجاب اور بلوچستان میں دھرنے اور احتجاج جاری ہیں، جماعت اسلامی نے پوری قوم کو ایک لڑی میں پرو دیا ہے اور وہ عوام کے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکمران عوام سے لیوی کے نام پر بھتہ لیتے ہیں اور خود عیاشیاں کرتے ہیں۔ مریم نواز نے جنگی حالات میں بھی 11 ارب روپے کا جہاز خریدا، جبکہ صرف نمائشی اقدامات سے عوامی مسائل حل نہیں ہوں گے اور لیوی کا خاتمہ کرنا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا مؤقف ہے کہ سود کم کرنے سے آئی ایم ایف ناراض ہوگا، لیکن آئی ایم ایف کے ڈر سے حکمران اللہ اور رسول ﷺ سے جنگ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق سود میں معمولی کمی سے بھی 1700 ارب روپے کی بچت ہوسکتی ہے۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ بینکوں، چینی، آٹے اور آئی پی پیز کے مافیاز ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اور قوم کے خون پسینے کی کمائی سے ان مافیاز کو پالا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے مافیاز تمام سیاسی جماعتوں میں موجود ہیں اور یہ کسی ایک جماعت کا مسئلہ نہیں۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی اب جماعت اسلامی کی تحریک سے جڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے حکومت سے کہا کہ اپنی گاڑیوں اور اخراجات کو کم کریں، لیکن حکمران یہ بات سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کی میز پر حکومت جماعت اسلامی کی دلیل کے سامنے ہار چکی ہے۔ اگر حکومت نے عوام کو ریلیف نہ دیا تو فیصلے سڑکوں پر ہوں گے اور ضرورت پڑنے پر حکومت گراؤ تحریک بھی شروع کی جائے گی۔
حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف خطرے میں ہیں اور ان کے حالات بہتر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا ہر رہنما اور کارکن ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے اور کارکنوں اور قیادت میں کوئی فرق نہیں سمجھا جاتا۔
اس سے قبل امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم کی جانب سے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے متاثرہ عوام کے لیے اعلان کردہ خصوصی ریلیف اسکیم پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کی جدوجہد کے نتیجے میں حکومت 100 روپے فی لیٹر ریلیف دینے پر مجبور ہوئی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ موٹر سائیکل، رکشا، چنگچی اور چھوٹی گاڑیوں کے لیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف کی وزیراعظم کی اسکیم کا جائزہ لیا جائے گا اور اس حوالے سے آج رات جماعت اسلامی اپنا موقف دے گی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے اعلان کردہ ریلیف اسکیم سے پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کی جاری جدوجہد پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ پیٹرولیم لیوی کے مکمل خاتمے تک لانگ مارچ اور دھرنے جاری رہیں گے۔







