پارٹی ذرائع کے مطابق علیمہ خان کو لاہور میں پولیس نے حراست میں لیا، تاہم گرفتاری کے مقام اور انہیں کس مقدمے کے تحت گرفتار کیا گیا، اس حوالے سے حکام کی جانب سے تفصیلی بیان سامنے آنا باقی ہے۔

علیمہ خان گزشتہ عرصے کے دوران اپنے بھائی عمران خان کی صحت، جیل میں سہولیات اور قانونی معاملات کے حوالے سے متعدد مرتبہ میڈیا سے گفتگو کرتی رہی ہیں۔ رواں ماہ بھی وہ اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتی رہی ہیں اور عمران خان سے ملاقات کے معاملے پر مؤقف پیش کرتی رہی ہیں۔

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان کی گرفتاری پر ان کی بہن نورین خان نے ردعمل دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ علیمہ خان کو راستے سے حراست میں لیا گیا اور یہ اقدام 27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے دباؤ ڈالنے کے لیے کیا گیا ہے۔

نورین خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ علیمہ خان کو راستے سے اغوا کیا گیا اور انہیں ایم پی او کے تحت حراست میں لیے جانے کا علم سوشل میڈیا کے ذریعے ہوا۔

انہوں نے کہا کہ یہ سب 27 ستمبر کے حوالے سے دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے، تاہم 27 ستمبر بہت بڑا دن ہوگا اور وہ اس تحریک کا حصہ ہیں۔

نورین خان کا کہنا تھا کہ علیمہ خان کو گرفتار کرنے سے تحریک مزید تیز ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان ناحق قید ہیں اور انہیں ہسپتال منتقل نہیں کیا جا رہا۔

انہوں نے کہا کہ ان کی فیملی بھی اس تحریک کا حصہ ہے اور سب اس میں نکلیں گے، جسے گرفتار کرنا ہے کرلیا جائے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی علیمہ خان کی گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں نورین نیازی نے فون پر گرفتاری سے آگاہ کیا۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ واضح کیا ہے کہ 27 ستمبر کا مارچ پُرامن اور سیاسی ہوگا اور اس کا مقصد آئینی و سیاسی مطالبات کے لیے پُرامن جدوجہد کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کسی قسم کا تصادم یا تشدد نہیں چاہتی۔

انہوں نے کہا کہ ایسے میں علیمہ خان کو گرفتار کرنا یا ایم پی او کے تحت نظر بند رکھنا کشیدگی کو ہوا دینے کے مترادف ہے، جس کی وہ شدید مذمت کرتے ہیں۔

بیرسٹر گوہر نے مطالبہ کیا کہ ایسے اقدامات فوری طور پر بند کیے جائیں اور علیمہ خان کو فی الفور رہا کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات کے خلاف پارٹی اپنا آئندہ کا لائحہ عمل جلد دے گی۔

واضح رہے کہ علیمہ خان کو لاہور میں پولیس نے حراست میں لیا ہے۔ لاہور کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری حکم کے مطابق انہیں مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) کے تحت 30 روز کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق علیمہ خان گھر سے جم خانہ جانے کے لیے روانہ ہوئی تھیں کہ پولیس نے انہیں راستے میں حراست میں لیا، جب کہ بعد ازاں انہیں کوٹ لکھپت جیل منتقل کیے جانے کی اطلاع سامنے آئی۔

علیمہ خان کی گرفتاری ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔

دوسری جانب راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کا طبی معائنہ مکمل کرلیا گیا ہے۔ جیل ذرائع کے مطابق پمز اسپتال کے ڈاکٹر عارف خان کی سربراہی میں خصوصی میڈیکل ٹیم نے عمران خان کا معائنہ کیا۔

ذرائع کے مطابق طبی ٹیم میں ماہر امراض چشم سمیت مختلف شعبوں کے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف شامل تھا، جبکہ ضروری طبی آلات بھی ٹیم کے ہمراہ اڈیالہ جیل پہنچائے گئے تھے۔

جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کے بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور آنکھوں سمیت مختلف طبی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ طبی معائنے کے بعد خصوصی میڈیکل ٹیم اڈیالہ جیل سے واپس روانہ ہوگئی۔

عمران خان کی صحت اور طبی سہولیات سے متعلق معاملہ گزشتہ کئی ماہ سے قانونی اور سیاسی بحث کا موضوع بھی رہا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے رواں ماہ اڈیالہ جیل حکام کو عمران خان کو طبی سہولیات فراہم کرنے، اہل خانہ سے ملاقات اور دیگر جیل سہولیات سے متعلق متعدد ہدایات جاری کی تھیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے میں جیل حکام کو عمران خان کو خاندان سے ملاقاتوں کی سہولت دینے، ان کے بیٹوں سے ٹیلی فونک رابطے کا انتظام کرنے اور روزانہ ورزش و چہل قدمی کے لیے وقت فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی تھی۔ عدالت نے طبی سہولیات کی فراہمی کو بھی جیل قواعد کے مطابق یقینی بنانے کا حکم دیا تھا۔

ادھر عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق معاملہ بھی عدالتوں میں زیرِ سماعت رہا ہے۔ سپریم کورٹ کے ایک سابق حکم کے تناظر میں ان کی طبی نگہداشت اور اسپتال منتقلی سے متعلق درخواستیں اور عدالتی کارروائی جاری رہی ہیں۔

علیمہ خان کی گرفتاری اور اسی روز اڈیالہ جیل میں عمران خان کے طبی معائنے کی پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بانی پی ٹی آئی کی صحت، جیل سہولیات اور ان سے اہل خانہ کی ملاقاتوں سے متعلق معاملات مسلسل عدالتی اور سیاسی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔