پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ 4 اکتوبر کے لانگ مارچ سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے ٹی وی پر غیر ضروری بحثیں اور من گھڑت الزامات سامنے لائے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں مبینہ کرپشن، حکومتی کارکردگی اور دیگر مسائل پر اٹھنے والے سوالات سے توجہ ہٹانے کے لیے بھی ایسی مہم چلائی جا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت کسی بھی شعبے میں کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہیں ہو رہی۔

وزیراعلیٰ نے ملکی معیشت پر بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 2022 میں حکومت کی تبدیلی کے وقت پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ 6.1 فیصد تھی، جو گزشتہ چند برسوں میں کم ہوکر 2 سے 3 فیصد کے درمیان رہی۔

انہوں نے موجودہ شرح نمو، فی کس آمدنی، قرضے، غربت، تجارتی خسارے اور بے روزگاری کے حوالے سے بھی مختلف اعداد و شمار پیش کیے اور کہا کہ عوام کو سیاسی بحثوں کے بجائے یہ بتایا جانا چاہیے کہ ملک کا قرضہ تقریباً ایک لاکھ ارب روپے تک کیوں پہنچا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ بجلی، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے، غربت اور محدود روزگار کے مواقع کے باعث عام آدمی مشکلات کا شکار ہے۔ پاکستان کی برآمدات تقریباً 30 ارب ڈالر جب کہ درآمدات تقریباً 70 ارب ڈالر ہیں، جس سے تقریباً 40 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ بنتا ہے۔ انہوں نے حکومت پر برآمدات بڑھانے کے بجائے ترسیلات زر پر زیادہ انحصار کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔

انہوں نے نوجوانوں کے ملک چھوڑنے کو ’برین ڈرین‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ لاکھوں پروفیشنل نوجوان ملک سے باہر جا چکے ہیں۔ اس عمل کو ’برین ایکسپورٹ‘ کہنا مسئلے کی سنگینی سے لاعلمی کے مترادف ہے۔ سہیل آفریدی نے سرکاری اخراجات اور مہنگی گاڑیوں و طیاروں کی خریداری پر بھی سوالات اٹھائے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے دعویٰ کیا کہ 4 اکتوبر کو عوام کی بڑی تعداد اسلام آباد کی جانب نکلے گی اور یہ تعداد ماضی کے اجتماعات سے زیادہ ہوگی۔ 27 ستمبر کے لیے بھی بڑی تعداد میں کنٹینرز اور سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے، تاہم لانگ مارچ کی نئی تاریخ 4 اکتوبر مقرر کی گئی ہے۔ پی ٹی آئی نے اس سے قبل 27 ستمبر کا مارچ مؤخر کرکے 4 اکتوبر کو پشاور سے روانگی کا اعلان کیا تھا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر کسی نے مارچ کے دوران انتشار پھیلانے یا دوبارہ 9 مئی جیسی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی تو کارکن اس کے لیے تیار ہوں گے۔ کسی شخص کے پاس ایسی چیز ہو جس سے کسی کو نقصان پہنچ سکتا ہو تو اسے پولیس کے حوالے کیا جائے، جب کہ جو شخص انتشار پھیلانے کی کوشش کرے گا وہ ان کی جماعت کا حصہ نہیں ہوگا۔

انہوں نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ نہتے اور پرامن انداز میں مارچ میں شریک ہوں اور قیادت کی جانب سے دی گئی ہدایات پر عمل کریں۔ مارچ کے لیے پارٹی میں باقاعدہ چین آف کمانڈ قائم کیا گیا ہے اور اگر کسی مشران کو کوئی مسئلہ پیش آئے تو متبادل شخص کمان سنبھالے گا۔

وزیراعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ پی ایم ایل ن یا اسے لانے والے عناصر اپنے لوگوں کو مارچ میں شامل کرکے انتشار پیدا کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے افراد کی شناخت کرکے پولیس کے حوالے کیا جائے گا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر دوسرا 9 مئی‘ کروانے کی سازش کی گئی تو اس بار کارکن مکمل طور پر تیار ہوں گے۔ تاہم انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ پرامن ہوگا اور کسی کو انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

مارچ کے روٹ سے متعلق سوال پر سہیل آفریدی نے کہا کہ پہلے مرحلے میں صوابی جائیں گے اور اس کے بعد آگے بڑھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا میں ان کے حوالے سے مارچ کے روٹ اور اسلام آباد جانے کے بارے میں مختلف باتیں سامنے آ رہی ہیں۔

علی امین گنڈاپور سے متعلق سوال پر وزیراعلیٰ نے بتایا کہ وہ ڈی آئی خان میں شہدا کے پاس گئے اور زخمیوں کی عیادت کی، جہاں علی امین گنڈاپور سے بھی مختصر بات ہوئی۔ ان کے مطابق گنڈاپور کے حوصلے بلند تھے اور دونوں مل کر مارچ کی قیادت کریں گے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ پی ٹی آئی کی کوئی ایسی ڈیمانڈ نہیں جو آئین یا قانون میں موجود نہ ہو۔ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مطالبات تسلیم کیے جائیں تو مسئلہ ختم ہوسکتا ہے۔

انہوں نے آئین کو عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان ’سوشل کنٹریکٹ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو آئین نے متحد رکھا ہے اور اگر کوئی اس معاہدے کو تسلیم نہیں کرے گا تو حالات سنگین ہوسکتے ہیں۔ حالات کو اس نہج تک نہیں لے کر جانا چاہیے۔

مزید پڑھیں: صوبے میں گورنر راج کی دھمکیوں پر اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، سہیل آفریدی

سہیل آفریدی نے کہا کہ ان کی جماعت مذاکرات کے دروازے بھی بند نہیں کر رہی اور عمران خان نے بعض پارٹی مشران کو مذاکرات کی ذمہ داری دے رکھی ہے۔ مذاکرات سے متعلق معاملہ پارٹی قیادت ہی آگے بڑھائے گی۔

وزیراعلیٰ نے پولیس کسٹڈی میں دو افراد کی ہلاکت اور ایک ایس ایچ او کی شہادت کے معاملے پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ابھی یہ تصدیق نہیں ہوئی کہ پولیس کسٹڈی میں ہلاک ہونے والے افراد میں سے کسی نے ایس ایچ او کو شہید کیا تھا یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ معاملے کی انکوائری کا حکم دیا گیا ہے اور جس کی بھی غلطی ثابت ہوئی، اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ پولیس ایکٹ سے متعلق انہوں نے کہا کہ قانون اسمبلی میں آچکا ہے اور کسی بھی وقت اجلاس بلا کر اسے منظور کیا جاسکتا ہے۔