پشاور میں امن و امان سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام، پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے امن کے قیام کے لیے طویل عرصے سے قربانیاں دی ہیں، صوبے میں پائیدار امن کے لیے موجودہ حکمتِ عملی پر نظرثانی اور تمام متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لے کر نئی پالیسی تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔
وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ اگر ان کی تجویز کردہ پالیسی پر مؤثر انداز میں عملدرآمد کیا جائے تو 100 دن میں خیبرپختونخوا میں امن کی صورتحال بہتر بنائی جاسکتی ہے، امن و امان کا مسئلہ صرف اضافی وسائل فراہم کرنے سے حل نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے پالیسی کی سمت میں بھی تبدیلی ضروری ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ وفاقی حکومت، صوبائی حکومت، انتظامیہ، پولیس اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو ایک میز پر بیٹھ کر دہشتگردی اور امن و امان سے متعلق مشترکہ پالیسی مرتب کرنی چاہیے، پالیسی سازی میں خیبرپختونخوا کے متعلقہ اداروں اور عوامی نمائندوں کو شامل کیے بغیر کیے گئے فیصلوں کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو سیاسی اختلافات کی نذر کرنا درست نہیں۔ وزیراعلیٰ کے مطابق صوبے میں امن کا قیام نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ پورے ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے ضروری ہے، اس لیے دہشتگردی کے خلاف حکمتِ عملی میں ضروری تبدیلیاں لانا ہوں گی۔
سہیل آفریدی نے سیکیورٹی اداروں کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔ سرکاری معلومات کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے ترقیاتی بجٹ سے 35 ارب روپے پولیس کو منتقل کیے ہیں، جبکہ مالی سال 2026 میں پولیس کے بجٹ میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق اسپیشل برانچ کو مضبوط بنانے اور پولیس کو جدید ہتھیار و دیگر ضروری سامان فراہم کرنے پر بھی کام جاری ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پولیس اور سیکیورٹی فورسز کو اضافی وسائل فراہم کرنا ضروری ہے، تاہم صرف وسائل میں اضافہ دہشتگردی کے مسئلے کا مکمل حل نہیں، امن کے لیے ایک جامع پالیسی، اداروں کے درمیان رابطہ اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت ضروری ہے۔
گورنر راج کے حوالے سے سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ وہ وفاقی حکومت کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کے باعث اپنے سیاسی اور پالیسی مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، خیبرپختونخوا کے عوام نے جس سیاسی قیادت کو مینڈیٹ دیا ہے، اس مینڈیٹ کے برخلاف کوئی اقدام قابلِ قبول نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی مسئلے کا حل تلاش کرنا ہے تو دھمکیوں کے بجائے سیاسی مشاورت اور آئینی طریقہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق صوبے میں امن و امان سے متعلق فیصلے باہمی مشاورت سے کیے جائیں تاکہ ان کے نتائج دیرپا ہوں۔
سہیل آفریدی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے امکان سے متعلق بیانات دیے گئے ہیں۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ اگر آئین میں دی گئی شرائط پوری ہوں تو گورنر راج یا ایمرجنسی سے متعلق اقدام کیا جاسکتا ہے، جبکہ وفاقی وزیر امیر مقام نے بھی صوبے میں گورنر راج کے لیے قانونی شرائط پوری ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا مسلسل وفاقی حکومت سے انسداد دہشتگردی کی پالیسی پر نظرثانی کا مطالبہ کررہے ہیں، صوبے میں امن کے لیے نئی حکمتِ عملی مرتب کرتے وقت صوبائی حکومت، انتظامیہ اور پولیس سمیت تمام متعلقہ اداروں کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن قائم کرنا مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے لیے وفاق اور صوبے کے درمیان مؤثر رابطہ ضروری ہے، سیاسی اختلافات اپنی جگہ، تاہم دہشتگردی اور امن و امان جیسے معاملات پر تمام اداروں کو مشترکہ حکمتِ عملی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔
یوں خیبرپختونخوا کی سیکیورٹی پالیسی اور گورنر راج کے معاملے پر وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان اختلافات بدستور برقرار ہیں، جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے واضح کیا ہے کہ وہ دھمکیوں کے باوجود اپنے مؤقف میں تبدیلی نہیں کریں گے اور صوبے کے عوامی مینڈیٹ کو بنیادی اہمیت دیتے ہیں۔







