3 ایم پی او کیا ہے؟

3 ایم پی او سے مراد مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کی دفعہ 3 ہے۔ پنجاب میں نافذ قانون کے مطابق حکومت کسی شخص کو اس وقت گرفتار اور حراست میں لینے کا حکم دے سکتی ہے جب اسے یہ اطمینان ہو کہ متعلقہ شخص کو اس لیے حراست میں رکھنا ضروری ہے تاکہ اسے ایسے عمل سے روکا جا سکے جو عوامی سلامتی یا امن و امان کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

یعنی اس قانون کا بنیادی تصور ’احتیاطی نظربندی‘ یا Preventive Detention ہے۔ اس میں کسی شخص کو کسی جرم میں سزا دینے کے بجائے اس خدشے کی بنیاد پر حراست میں لیا جاتا ہے کہ اس کی سرگرمیاں مستقبل میں امن و امان یا عوامی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

بغیر ایف آئی آر اور وارنٹ کے گرفتاری کیسے ہوتی ہے؟

3 ایم پی او کے تحت کارروائی عام فوجداری مقدمے سے مختلف ہوتی ہے۔ اس کے لیے کسی شخص کے خلاف لازماً ایف آئی آر درج ہونا یا عدالت سے گرفتاری کا وارنٹ حاصل کرنا ضروری نہیں ہوتا۔

تاہم قانون کے تحت حراست کی وجوہات متعلقہ شخص کو بتانا اور اسے حکومت کے سامنے نمائندگی کا موقع دینا بھی لازم قرار دیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر کو کیا اختیار حاصل ہے؟

یہ معاملہ قانون میں مختلف ادوار کے دوران ہونے والی ترامیم اور حکومت کی جانب سے اختیارات کی تفویض سے بھی جڑا ہے۔

پنجاب میں ڈپٹی کمشنر کو بعض حالات میں 3 ایم پی او کے تحت کارروائی کا اختیار تفویض کیا جا سکتا ہے، جب کہ قانون کی دفعہ 3 کے تحت حراست کے لیے مخصوص قانونی تقاضے پورے کرنا ضروری ہیں۔ ماضی میں بھی پنجاب حکومت کی جانب سے ڈپٹی کمشنرز کو یہ اختیارات تفویض کیے جاتے رہے ہیں۔

حراست کے معاملے میں قانون یہ بھی کہتا ہے کہ کسی شخص کو تین ماہ سے زیادہ حراست میں رکھنے کے لیے ریویو بورڈ کی جانب سے کیس کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے اور بورڈ کو اس حراست کے لیے کافی وجہ موجود ہونے کی رائے دینا ہوتی ہے۔

3 ایم پی او کی تاریخ کہاں سے شروع ہوئی؟

3 ایم پی او کی تاریخ پاکستان کے نوآبادیاتی دور کے ’احتیاطی نظربندی‘ کے تصور سے جڑی ہوئی ہے۔ برطانوی دور میں بھی انتظامیہ کو ایسے افراد کو پیشگی حراست میں لینے کے اختیارات حاصل تھے جن کے بارے میں حکام کا خیال ہوتا تھا کہ وہ امن و امان یا ریاستی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد بھی احتیاطی نظربندی کا تصور مختلف قوانین کے ذریعے برقرار رہا۔

موجودہ مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کا تعلق 1960 سے ہے۔ پاکستان کوڈ کے مطابق ویسٹ پاکستان مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کو 2 دسمبر 1960 کو نافذ کیا گیا۔ اس کا بنیادی مقصد احتیاطی نظربندی اور عوامی امن و امان سے متعلق قوانین کو یکجا کرنا تھا۔

یہ قانون جنرل ایوب خان کے مارشل لا دور میں نافذ ہوا تھا اور بعد میں مغربی پاکستان کے خاتمے کے بعد مختلف صوبوں میں ترامیم کے ساتھ اس کا اطلاق جاری رہا۔ پنجاب میں یہی قانون بعد میں پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کے نام سے نافذ رہا۔

سیاسی کارکنوں کے خلاف استعمال

وقت گزرنے کے ساتھ 3 ایم پی او کا استعمال صرف امن و امان کے عام معاملات تک محدود نہیں رہا بلکہ سیاسی کارکنوں اور احتجاج کرنے والوں کی گرفتاریوں کے لیے بھی اس قانون کا استعمال ہوتا رہا ہے۔

ماضی میں مختلف حکومتوں کے ادوار میں سیاسی کارکنوں، احتجاج کرنے والے گروہوں اور دیگر افراد کو 3 ایم پی او کے تحت حراست میں لیے جانے کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ ڈان کی ایک تاریخی رپورٹ کے مطابق اس قانون کو مختلف حکومتوں نے استعمال کیا اور بعض مواقع پر سیاسی مخالفین کے خلاف اس کے مبینہ غلط استعمال پر بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔

حالیہ برسوں میں بھی اس قانون کا استعمال سیاسی کارکنوں کے خلاف ہوا ہے۔ نومبر 2024 میں لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب کے ڈپٹی کمشنرز کو دفعہ 3 کے تحت مزید نظربندی کے احکامات جاری کرنے سے عارضی طور پر روک دیا تھا، جبکہ عدالت میں اس قانون کے مبینہ غلط استعمال سے متعلق درخواست زیرِ سماعت تھی۔

ستمبر 2026 میں عمران خان کی بہنوں کی نظربندی کے احکامات بھی لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیے گئے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ نظربندی کے احکامات میں مخصوص الزامات موجود نہیں اور دفعہ 3 کے طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا۔ یہ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے، جس پر عدالت میں قانونی کارروائی جاری ہے۔

3 ایم پی او اور بنیادی حقوق کی بحث

3 ایم پی او کے حوالے سے سب سے اہم بحث بنیادی حقوق اور احتیاطی نظربندی کے درمیان توازن کی ہے۔

آئین پاکستان کا آرٹیکل 10 گرفتاری اور حراست سے متعلق مختلف ضمانتیں فراہم کرتا ہے، تاہم اسی آرٹیکل میں احتیاطی نظربندی کے قوانین کے لیے بھی مخصوص آئینی فریم ورک موجود ہے۔ آئین کے مطابق ایسے قوانین کے تحت حراست کے معاملات میں ریویو بورڈ اور دیگر حفاظتی طریقہ کار بھی لاگو ہوتے ہیں۔

اسی لیے قانونی ماہرین کے ایک حلقے کی جانب سے 3 ایم پی او کے استعمال، خصوصاً سیاسی کارکنوں اور احتجاج کرنے والوں کی نظربندی، پر بنیادی حقوق اور انتظامی اختیارات کے حوالے سے سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ دوسری جانب حکومتیں عموماً یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہیں کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے احتیاطی نظربندی کا اختیار ضروری ہے۔

3 ایم پی او پر اعتراضات اور اصلاح کی تجاویز

3 ایم پی او کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص کے خلاف جرم کے شواہد موجود ہیں تو اس کے خلاف عام فوجداری قانون کے تحت مقدمہ چلایا جانا چاہیے، جبکہ محض خدشے کی بنیاد پر طویل حراست بنیادی حقوق کے حوالے سے سوالات پیدا کرتی ہے۔

دوسری جانب قانون کے حامیوں کے مطابق بعض حالات میں کسی ممکنہ خطرے کو جرم کے وقوع پذیر ہونے کے بعد نہیں بلکہ اس سے پہلے روکنے کے لیے انتظامیہ کو احتیاطی نظربندی کا اختیار درکار ہوتا ہے۔