لیاقت باغ دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ وہ دو سال قبل ہونے والی تاریخی جدوجہد کے مقام پر کھڑے ہیں، جس کے نتیجے میں بجلی سستی ہوئی اور عوام کو بڑا ریلیف ملا۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لیے بھی مل کر جدوجہد کرے گی اور حکومت کو عوام کو ریلیف دینا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کی آمدنی ہی قابلِ ٹیکس نہیں، وہ بھی پیٹرولیم لیوی ادا کر رہے ہیں، جو بہت بڑا ظلم ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف کہا جاتا ہے کہ پیٹرولیم لیوی ختم نہیں کی جاسکتی، جبکہ دوسری جانب حکمران اپنی ذاتی تقریبات کے لیے لندن جاتے ہیں اور کروڑوں روپے خرچ کرتے ہیں۔ اگر یہ ذاتی اخراجات ہیں تو اس کا جواب دینا پڑے گا اور مریم نواز کو بھی جواب دینا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہر چیز پر طرح طرح کے ٹیکسز عائد کردیئے گئے ہیں، جبکہ جو بجلی بنتی ہی نہیں اس کے پیسے بھی پاکستانی عوام ادا کرتے ہیں۔ پیٹرولیم لیوی ’’جگا ٹیکس‘‘ ہے جسے قبول نہیں کیا جاسکتا۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کے دھرنوں کا مسلسل 28 واں روز ہے اور کارکن ڈٹے ہوئے ہیں۔ آج ہر جگہ انقلاب کی آوازیں آرہی ہیں، جبکہ مٹھی بھر طبقہ مسلسل عوام کے حقوق کا استحصال کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ 25 کروڑ عوام کی خاطر نکلی ہے۔ دو سال قبل آئی پی پیز کے خلاف احتجاج کیا گیا تو حکومت کہتی تھی کہ آئی پی پیز سے بات نہیں کرسکتے، تاہم جماعت اسلامی کے دھرنے کے باعث حکومت آئی پی پیز سے مذاکرات پر مجبور ہوئی۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ آج وہ پیٹرولیم لیوی کے خلاف نکلے ہیں، جو عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔ لیوی کا پیٹرول کی قیمتوں سے کوئی تعلق نہیں، حکومت غریب عوام پر بوجھ ڈال رہی ہے جبکہ خود عیاشیاں کررہی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جن کی کوئی آمدن نہیں، ان طالب علموں سے بھی 106 روپے کا لیوی وصول کیا جارہا ہے۔ حکومت کہتی ہے کہ آئی ایم ایف کے باعث لیوی ختم نہیں کی جاسکتی، لیکن دوسری جانب حکمرانوں کی عیاشیاں جاری ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے مریم نواز اور نواز شریف کے لندن جانے پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ قوم پوچھتی ہے کہ اس دورے کے اخراجات سامنے لائے جائیں۔ عوام کو بتایا جائے کہ ان کے گوشوارے کتنے ہیں اور آمدنی کیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ انتخابات کے قریب کم گوشوارے ظاہر کیے جاتے ہیں۔

تعلیم کے معاملے پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پنجاب میں نویں جماعت کے 52 فیصد جبکہ راولپنڈی ڈویژن میں 60 فیصد بچے فیل ہوئے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ کیسی گڈ گورننس ہے، قوم کے ساتھ مذاق کیا جارہا ہے اور تعلیم کو تباہ کیا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یکساں تعلیم کے مواقع نہ ملنا پاکستان کے آئین کے خلاف ہے۔ حکومت لیپ ٹاپ کی تقسیم جیسے نمائشی اقدامات کرتی ہے، لیکن علاج اور بنیادی سہولیات کے لیے عوام کے پاس کچھ نہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ مریم نواز کو جواب دینا ہوگا کہ نویں جماعت کے 52 فیصد بچے کیوں فیل ہوئے۔ راولپنڈی میں 60 فیصد سے زائد بچے فیل ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز نے اسکول فروخت کردیئے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری تعلیم خیرات نہیں بلکہ عوام کا حق ہے، آئین کے مطابق مفت، معیاری اور یکساں تعلیم دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ آج اچھی تعلیم کے لیے بھاری فیسیں وصول کی جاتی ہیں جو آئین کی روح کے خلاف ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ یہ گلا سڑا نظام ہے، اسے بدلیں گے، اگر اسی نظام میں مافیا پنپتے رہے تو قوم برباد ہوتی جائے گی۔ لوگوں کو نکلنا اور اٹھنا ہوگا، ہمیں اپنے بچوں کو آگے بڑھانا ہے اور اس حکمران طبقے کو ٹھڈے مار کر نکالنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ گورنر ہاؤسز اور وزرائے اعلیٰ کے ہاؤسز کو شاندار آئی ٹی یونیورسٹیوں میں تبدیل کیا جائے گا۔ حافظ نعیم الرحمان نے حکومت پر فسطائیت کا نظام قائم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی ’پیرا فورس‘ نے حبیب جالب کی بیٹی کو بھی نہیں بخشا۔

انہوں نے کہا کہ شریف خاندان اور پیپلز پارٹی کی جانب سے جو انکروچمنٹ کی گئی ہے، اگر عوام نے اپنی پیرا فورس بنا لی تو حکمرانوں کو ایئر لفٹ بھی نہیں ملے گی۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی نے اپنی تجاویز حکومت کو دے دی ہیں۔ مذاکرات میں جتنے دن بڑھ رہے ہیں، ایک دن میں تین دھرنے بڑھ رہے ہیں۔ حکومت نے تین دن کی مہلت مانگی، شاید اسے امید تھی کہ جماعت اسلامی رک جائے گی، لیکن جس دن مہلت مانگی گئی اسی دن پیٹرول کی قیمتیں بڑھا دی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کی 25 کروڑ عوام کی توہین کررہی ہے، ہم اسلام آباد آکر بتائیں گے کہ عوام کی طاقت کیا ہوتی ہے۔ انہوں نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر روک سکتے ہو تو کنٹینر لگا لینا۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ یہی مری روڈ ہے، 1996 اور 1997 کو یاد رکھنا۔ ہماری سیاست کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ عوام کے لیے ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے ایک بار پھر اعلان کیا کہ 20 ستمبر کو تاریخی اسلام آباد مارچ میں ملک بھر سے عوام پہنچیں گے اور عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔