لائیو

مشاورت کے بعد یہ رائے سامنے آئی کہ ذاتی انا کا معاملہ نہیں، چند دن انتظار کیا جاسکتا ہے: حافظ نعیم الرحمان

مادھو لعل حسین چانڈیو
مشاورت کے بعد یہ رائے سامنے آئی کہ ذاتی انا کا معاملہ نہیں، چند دن انتظار کیا جاسکتا ہے: حافظ نعیم الرحمان16 ستمبر، 2026

امیر جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے نیویارک سے انہیں فون کرکے اسلام آباد مارچ چند روز کے لیے مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی، جس پر جماعت اسلامی نے مرکزی قیادت اور صوبائی تنظیموں سے مشاورت کے بعد وقتی طور پر مارچ مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا۔

گزشتہ تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں!

تازہ اپڈیٹس

  1. جماعتِ اسلامی 27 ستمبر کے احتجاج کی حمایت کرتی ہے، حکومت پی ٹی آئی سے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنائے: حافظ نعیم الرحمان

    نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاج میں ہر ممکن احتیاط برتی، 42 شہروں میں دھرنے دیے، مذاکرات کیے اور ٹرین مارچ بھی کیا۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے ایک مرحلے پر محسوس ہوا کہ وزرا کی مذاکراتی ٹیم کے پاس دینے کے لیے کچھ نہیں، تاہم وزیراعظم کی یقین دہانی کی صورت میں جماعت اسلامی نے چند روز انتظار کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے نیویارک سے فون کرکے کہا کہ وہ وزیراعظم کی حیثیت سے درخواست کررہے ہیں کہ احتجاج چند روز کے لیے مؤخر کردیا جائے، وہ وطن واپسی پر خود ملاقات کریں گے اور مسئلے کا راستہ نکالنے کی کوشش کریں گے۔

    انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد جماعت اسلامی نے تمام صوبوں اور بڑے شہروں کی تنظیموں کو مشاورت میں شامل کیا، جہاں یہ رائے سامنے آئی کہ ذاتی انا کا معاملہ نہیں، چند دن انتظار کیا جاسکتا ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے حکومتی ریلیف کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت تقریباً 30 ارب روپے کے ریلیف کی بات کررہی ہے، جب کہ عوام سے پیٹرولیم لیوی کی مد میں تقریباً 150 ارب روپے وصول کیے جارہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کا مطالبہ کسی ذاتی یا سیاسی مفاد کے لیے نہیں بلکہ عوام کو ریلیف دلانے کے لیے ہے اور بنیادی مطالبہ پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ اور پیٹرول کی قیمت میں کمی ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی نے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے احتجاج کی بھی حمایت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پی ٹی آئی سے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنائی جائے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت کو احتجاج کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے بجائے مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے چاہئیں۔ ریاست کو مسائل کو بات چیت سے حل کرنا چاہیے۔

    حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے جماعت اسلامی کے ساتھ نرمی، مذاکرات اور مفاہمت کے بجائے سخت رویہ اختیار کیا تو جماعت اسلامی اپنا احتجاجی ردعمل بھی دکھا سکتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا معاملہ عوامی مسئلے پر مبنی ہے اور پیٹرولیم لیوی کے خاتمے تک مطالبے پر قائم رہیں گے۔

    حافظ نعیم الرحمن نے حکومت کی جانب سے ٹرین مارچ کے راستے میں رکاوٹوں کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ بعض مقامات پر کارکنوں کو قافلے میں شامل ہونے سے روکا گیا اور ٹرین بھی تاخیر کا شکار ہوئی۔

    انہوں نے کہا کہ ایک طرف پیپلز پارٹی کے وزرا جماعت اسلامی کی حمایت کی بات کرتے ہیں جب کہ دوسری طرف ان کے کارکنوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

  2. وزیراعظم کا امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کو فون، لانگ مارچ ملتوی کرنےکی درخواست

    جماعت اسلامی کے ترجمان کے مطابق وزیراعظم کا فون حافظ نعیم الرحمان کے ملتان پہنچنے کے بعد موصول ہوا، جہاں جماعت اسلامی کا کراچی سے اسلام آباد جانے والا احتجاجی ٹرین مارچ پہنچ چکا ہے۔

    ترجمان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے حافظ نعیم الرحمان سے کہا کہ ان کی پاکستان واپسی تک مارچ کو مؤخر کیا جائے، جبکہ وطن واپسی پر جماعت اسلامی کے ساتھ پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

    جماعت اسلامی کے مطابق حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم کو جواب دیا کہ جماعت اسلامی حکومت کے ساتھ کسی قسم کا تصادم نہیں چاہتی اور نہ ہی احتجاج کے دوران امن و امان کا مسئلہ پیدا کرنا مقصد ہے، جماعت اسلامی عوام کے مسائل اور ان کے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلی ہے اور حکومت کو عوامی احتجاج کے حق کو تسلیم کرنا ہوگا۔

    حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم کی درخواست پر فوری حتمی جواب دینے کے بجائے جماعت اسلامی کی شوریٰ سے مشاورت کا فیصلہ کیا ہے۔ جماعت اسلامی کے ترجمان کے مطابق شوریٰ سے مشاورت کے بعد وزیراعظم کی درخواست پر پارٹی کا ردعمل سامنے آئے گا۔

    ترجمان نے واضح کیا کہ اگر حکومت کی درخواست پر لانگ مارچ کچھ عرصے کے لیے مؤخر بھی کیا جاتا ہے تو جماعت اسلامی اپنے احتجاج کے حق سے دستبردار نہیں ہوگی۔ جماعت اسلامی پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوام کو ریلیف دینے کے مطالبے پر اپنی احتجاجی تحریک جاری رکھنے کا مؤقف رکھتی ہے۔

    جماعت اسلامی کا پیٹرولیم لیوی کے خلاف کراچی سے شروع ہونے والا ’سپر ٹرین لانگ مارچ‘ ملتان پہنچ گیا ہے۔ مارچ کے شرکا کراچی سے روانہ ہونے کے بعد مختلف شہروں سے گزرتے ہوئے ملتان پہنچے، جہاں حافظ نعیم الرحمان نے کارکنوں اور حامیوں سے خطاب بھی کیا۔

    جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے مطالبے پر ملک کے مختلف علاقوں میں احتجاجی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ پارٹی کے مطابق کراچی سے شروع ہونے والا مارچ ملتان کے بعد لاہور اور پھر اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کرے گا۔

    جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی عوام پر اضافی مالی بوجھ ہے اور حکومت کو اسے ختم کرکے عوام کو ریلیف دینا چاہیے۔ اس معاملے پر حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کے پانچ ادوار بھی ہوچکے ہیں، تاہم فریقین کے درمیان حتمی اتفاق رائے سامنے نہیں آیا۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف اس وقت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک میں موجود ہیں۔ وزیراعظم کی جانب سے جماعت اسلامی کو مذاکرات کی پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جماعت اسلامی کا احتجاجی مارچ اسلام آباد کی جانب بڑھ رہا ہے۔

    جماعت اسلامی کے مطابق احتجاج کا مقصد حکومت سے تصادم یا امن و امان کی صورتحال پیدا کرنا نہیں بلکہ پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوامی ریلیف کے مطالبات کو اجاگر کرنا ہے۔ وزیراعظم کی درخواست پر حتمی فیصلہ جماعت اسلامی کی شوریٰ سے مشاورت کے بعد کیے جانے کا امکان ہے۔

    ادھر حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کے اگلے مرحلے اور وزیراعظم کی وطن واپسی کے بعد متوقع ملاقات کو پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر آئندہ پیش رفت کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

  3. تم لیوی ختم نہیں کرسکتے تو ہم احتجاج ختم نہیں کرسکتے، حافظ نعیم الرحمان

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت پیٹرولیم لیوی ختم نہیں کرسکتی تو جماعت اسلامی بھی اپنا احتجاج ختم نہیں کرے گی، حکومت کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ مذاکرات کرے اور عوام کے لیے واضح اور ٹھوس ریلیف کا اعلان کرے۔

    ملتان میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جانب سے صرف ایک مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ عوام کو جینے دیا جائے اور پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ کیا جائے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت وزراء کے ذریعے دھرنا مؤخر کرنے کی اپیلیں کر رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ حالات خراب ہیں، تاہم جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ اگر حکومت لیوی ختم نہیں کرسکتی تو وہ احتجاج ختم نہیں کرسکتی۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی قوم کو ریلیف دلانے کے لیے نکلی ہے اور احتجاج کو آگے بڑھایا جائے گا۔ حکومت اگر عوام کو ریلیف نہیں دے سکتی تو اسے احتجاج مؤخر کرنے کا مطالبہ بھی نہیں کرنا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت جماعت اسلامی سے اس بات پر مذاکرات نہ کرے کہ لیوی ختم نہیں کرسکتے، اس لیے دھرنا ختم کردیا جائے۔

    امیر جماعت اسلامی نے حکومت کو مذاکرات کے ساتھ عوام کے سامنے اپنا مؤقف پیش کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وزراء کی بہت باتیں ہوچکیں، اب حکومت قوم کے سامنے آکر اپنی دلیل دے، جماعت اسلامی اپنی دلیل دے گی اور حقیقت عوام کے سامنے آجائے گی۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت بتائے کہ پیٹرولیم لیوی ختم کرنے سے کیا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ حکومت آئی ایم ایف کا حوالہ دیتی ہے، تاہم بڑے اخراجات، سرکاری گاڑیوں اور دیگر مراعات کے لیے آئی ایم ایف سے اجازت نہیں لی جاتی۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کا بوجھ موٹرسائیکل سواروں، مڈل کلاس، مزدوروں، کسانوں، چنگ چی رکشہ ڈرائیوروں، ٹرانسپورٹرز اور رائیڈرز سمیت عام شہری برداشت کر رہے ہیں۔ حکومت کو عوام کو ریلیف دینا ہوگا۔

    امیر جماعت اسلامی نے سود کے نظام اور پالیسی ریٹ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پالیسی ریٹ کم کیا جائے۔ اگر سود کی شرح میں تین فیصد کمی کی جائے تو حکومت کو 1700 ارب روپے کا فائدہ ہوسکتا ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی عام لوگوں کی طرح زندگی گزارنے والے طبقات کو ساتھ لے کر چل رہی ہے، جب کہ جاگیرداروں، وڈیروں اور مافیاز پر مبنی سیاست کرنے والے عوام کا دکھ نہیں سمجھ سکتے۔ حلال طریقے سے تجارت اور کاروبار کرنے والوں کو بھی تحریک کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔

    انہوں نے آئی پی پیز، شوگر، آٹا اور دیگر مافیاز سے متعلق بھی مختلف الزامات عائد کیے اور کہا کہ ان شعبوں میں کیے گئے مبینہ معاہدوں اور پالیسیوں کا بوجھ عوام پر پڑ رہا ہے۔

    سپر ٹرین مارچ کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ملتان میں عوام کی جانب سے شاندار استقبال پر وہ شکر گزار ہیں۔ ٹرین کو جان بوجھ کر چار گھنٹے تاخیر کا شکار بنایا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے بھی قافلہ تحریک کا حصہ بن چکا ہے جب کہ خیبر پختونخوا سے بھی قافلے نکل پڑے ہیں۔ جب ملک بھر سے عوام نکل پڑے ہیں تو کنٹینرز راستہ نہیں روک سکیں گے۔

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ پیٹرولیم لیوی ختم کرے اور عوام کو ریلیف دے۔ اگر حکومت نے کوئی ٹھوس اور متعین ریلیف نہ دیا تو احتجاج مؤخر نہیں کیا جائے گا۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی رات کو مشاورت کرے گی اور آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان صبح کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی پوری قوت کے ساتھ تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے اور اگر حکومت نے ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا تو احتجاج آگے بڑھتا چلا جائے گا۔

  4. جماعت اسلامی کا سپر ٹرین مارچ ملتان پہنچ گیا

    پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا سپر ٹرین مارچ اختتامی مراحل میں داخل ہوگیا، جب کہ ملتان ریلوے اسٹیشن پر امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کے استقبال کے لیے ہزاروں کارکنان اور شہری جمع ہونا شروع ہوگئے ہیں۔

    جماعت اسلامی کے مطابق ملتان ریلوے اسٹیشن پر حافظ نعیم الرحمٰن کے شاندار استقبال کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں، جب کہ کارکنان اپنے قائد کے استقبال کے لیے اسٹیشن پر موجود ہیں۔

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن رات 12 بجے ملتان میں جلسہ عام سے خطاب کریں گے، جس میں وہ پیٹرولیم لیوی کے خلاف جاری احتجاج اور حکومت کے ساتھ مذاکرات سے متعلق جماعت اسلامی کا مؤقف بیان کریں گے۔

    جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ سپر ٹرین مارچ کے بعد احتجاجی تحریک کا اگلا مرحلہ لاہور اور پھر اسلام آباد کی جانب ہوگا۔

  5. حکومت کے پاس ایک ہی گنجائش ہے، بھتہ لیوی ختم کرے، حافظ نعیم الرحمٰن

    پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا سپر لانگ مارچ دوسرے روز میں داخل ہوگیا، شالیمار ایکسپریس تقریباً چار گھنٹے کی تاخیر کے بعد روہڑی سے ملتان کے لیے روانہ ہوگئی، جہاں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔

    جماعت اسلامی کے شیڈول کے مطابق ٹرین مارچ کے 21 ستمبر کو ملتان پہنچنے کے بعد اگلے مرحلے میں قافلہ سڑک کے ذریعے لاہور اور پھر اسلام آباد کی جانب روانہ ہوگا۔

    روہڑی میں گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ حکومت کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور جماعت اسلامی کی جانب سے ایک ہی بات کی گئی ہے کہ عوام کو جینے دیا جائے اور پٹرولیم لیوی ختم کی جائے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر حکومت سے بات چیت کے نتیجے میں کوئی پیش رفت ہوتی ہے تو ٹھیک، بصورت دیگر جماعت اسلامی آگے بڑھ چکی ہے۔ احتجاج کا پہلا مرحلہ گزر چکا جب کہ جماعت اسلامی دوسرے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔

    حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جماعت اسلامی ملتان پہنچ رہی ہے جبکہ بلوچستان سے بھی مارچ شروع ہوچکا ہے۔ لوگ پہاڑوں اور میدانوں سے نکل کر احتجاج میں شریک ہو رہے ہیں۔

    امیر جماعت اسلامی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم لیوی ختم کی جائے، حکومت کے پاس اب یہی گنجائش ہے کہ لیوی ختم کرکے عوام کو ریلیف دیا جائے۔

    جماعت اسلامی نے 20 ستمبر کو کراچی سے ٹرین مارچ کے ذریعے اسلام آباد کی جانب احتجاج کا آغاز کیا تھا۔ مارچ کا اگلا مرحلہ ملتان کے بعد لاہور اور پھر اسلام آباد کی جانب ہوگا۔

  6. احتجاجی مارچ کا پہلا مرحلہ کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا گیا، حافظ نعیم الرحمان

    سکھر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کے معاملے پر حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کے پانچ ادوار ہوچکے ہیں، تاہم اب بھی بنیادی مطالبے پر کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آئی، حکومت اگر لیوی ختم کرنے کا مؤقف اختیار کرتی ہے تو اسے یہ بھی بتانا ہوگا کہ اس مد میں حاصل ہونے والی رقم کا متبادل کیا ہوگا۔

    امیر جماعت اسلامی نے دعویٰ کیا کہ پٹرولیم لیوی کے ذریعے عوام پر تقریباً 135 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالا گیا ہے، پہلے ہی مہنگائی نے عام شہری کی مشکلات میں اضافہ کر رکھا ہے، ایسے میں پیٹرولیم مصنوعات پر مزید مالی بوجھ عوام کے لیے مشکلات بڑھا رہا ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کا احتجاج اور مارچ کسی ایک طبقے یا علاقے تک محدود نہیں بلکہ ملک بھر کے عوام کو معاشی ریلیف دلانے کے لیے ہے، احتجاجی تحریک کے تحت مارچ کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل کرلیا گیا ہے اور آئندہ مراحل بھی عوامی مطالبات کے حصول کے لیے جاری رکھے جائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی کے باعث عام آدمی کے لیے گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہوگیا ہے، جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست ٹرانسپورٹ، اشیائے ضروریہ اور دیگر روزمرہ اخراجات کو متاثر کرتا ہے۔

    امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ حکومت کو عوام کو ریلیف دینے کے لیے ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جن کا براہ راست فائدہ عام شہری تک پہنچے، پٹرولیم لیوی کے خاتمے سے عوام پر موجود مالی دباؤ کم کیا جاسکتا ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کی تحریک کا مقصد جلاؤ گھیراؤ یا تشدد نہیں ہے، احتجاج جمہوری اور آئینی حق ہے اور جماعت اسلامی اپنے مطالبات کے حصول کے لیے پرامن طریقہ اختیار کرے گی۔

    انہوں نے معاشی پالیسیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شرح سود میں مزید کمی سے کاروباری سرگرمیوں اور معیشت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، کم شرح سود سے سرمایہ کاری کے مواقع بڑھنے اور کاروباری طبقے کو سہولت ملنے کی توقع کی جاسکتی ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے حکومت پر زور دیا کہ عوام کی مشکلات کو محض اعداد و شمار کے بجائے زمینی حقائق کی بنیاد پر دیکھا جائے، مہنگائی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اور دیگر معاشی بوجھ براہ راست عام شہری کے بجٹ کو متاثر کر رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی حکومت سے مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم اگر عوامی مطالبات پر پیش رفت نہ ہوئی تو احتجاجی تحریک کے آئندہ مراحل کا فیصلہ کیا جائے گا۔

    حافظ نعیم الرحمان کے مطابق جماعت اسلامی کا مطالبہ واضح ہے کہ عوام پر عائد غیر ضروری مالی بوجھ کم کیا جائے اور پٹرولیم لیوی کے خاتمے سمیت مہنگائی میں کمی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، تحریک کا مقصد عوام کو معاشی ریلیف دلانا اور ان کے مسائل کو اجاگر کرنا ہے۔

  7. ٹرین مارچ روہڑی پہنچ چکا ہے، جس کے بعد ملتان اور پھر اسلام آباد کا رخ کیا جائے گا: حافظ نعیم الرحمان

    امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈال کر اپنی کرپشن اور نااہلی چھپا رہی ہے، جب کہ پیٹرولیم لیوی عوام پر ’بھتہ ٹیکس‘ ہے جسے فوری ختم کرکے عوام کو حقیقی ریلیف دیا جائے۔

    ٹرین مارچ کے دوران کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ حکومت ایک لیٹر پیٹرول پر 135 روپے ٹیکس وصول کر رہی ہے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔ عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کا اثر پوری دنیا پر پڑتا ہے، لیکن پاکستان میں اضافی بوجھ صرف عوام پر کیوں ڈالا جا رہا ہے؟

    انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کا عالمی مارکیٹ کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں، اس لیے حکومت فوری طور پر یہ لیوی ختم کرے۔ پیٹرول کی قیمت کم ہونے سے کرائے اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں بھی کمی آئے گی۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کی تحریک کا بنیادی مطالبہ پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ اور عوام کو حقیقی ریلیف دینا ہے۔ حکومتی اخراجات ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے اور عوام سے وصول کیا جانے والا پیسہ حکمرانوں کی عیاشیوں پر خرچ ہو رہا ہے۔

    امیر جماعت اسلامی نے دعویٰ کیا کہ ایف بی آر کے عملے کی کرپشن 1300 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے، جب کہ حکمرانوں کے پاس 11 ارب روپے مالیت کے جہاز موجود ہیں۔ ایک طرف حکمرانوں کے اخراجات جاری ہیں اور دوسری جانب غریب اور متوسط طبقہ مہنگائی کے بوجھ تلے دب رہا ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے ٹرین مارچ کے حوالے سے کہا کہ یہ مارچ جوش و جذبے کے ساتھ جاری ہے اور عوام بڑی تعداد میں تحریک کا ساتھ دے رہے ہیں۔ شدید گرمی اور حبس کے باوجود کارکنان ایکانومی کلاس میں سفر کر رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ٹرین مارچ روہڑی پہنچ چکا ہے، جس کے بعد ملتان اور پھر اسلام آباد کا رخ کیا جائے گا۔ اسلام آباد مارچ میں چاروں طرف سے عوام شریک ہوں گے اور حکومت راستے بند کرکے لوگوں کو نہیں روک سکتی۔

    حافظ نعیم الرحمان نے اسلام آباد میں کنٹینرز لگانے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہروں کو کنٹینرز سے بند کرکے حکومت عوام اور معیشت دونوں کو نقصان پہنچا رہی ہے، جب کہ کنٹینرز میں موجود خوراک بھی خراب ہو رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت کو عوامی مشکلات کا احساس کرنا چاہیے۔ کنٹینر نہ لگاؤ، عوام کو ریلیف دو، شہروں کو بند کرنے کے بجائے انسانوں، معیشت، تعلیم اور روزگار کی شاہراہیں کھولی جائیں۔

    حافظ نعیم الرحمان نے پیپلز پارٹی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ وفاقی حکومت کے خلاف جماعت اسلامی کی تحریک کی حمایت کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن دوسری جانب مختلف مقامات پر ٹرین مارچ کے استقبال کے لیے آنے والے کارکنان کے لیے رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ حیدرآباد میں جماعت اسلامی کے استقبال میں رکاوٹیں ڈالی گئیں، جب کہ ٹنڈو آدم میں بھی کارکنان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سکھر اور روہڑی میں استقبال کے لیے آنے والے قافلوں کو پلیٹ فارم تک جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

    امیر جماعت اسلامی نے سوال کیا کہ اگر پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کے خلاف احتجاج کی حمایت کرتی ہے تو پھر مختلف مقامات پر رکاوٹیں کیوں کھڑی کی جا رہی ہیں؟

    انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمت اور مہنگائی پورے ملک کا مسئلہ ہے، اس لیے احتجاج کرنے والوں کو سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔ پیپلز پارٹی رکاوٹیں ڈالنے کے بجائے ٹرین مارچ کو فیسلیٹیٹ کرے۔

    انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پیپلز پارٹی کے اس رویے کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی اور حکومت کو بالآخر پیٹرولیم لیوی ختم کرکے عوام کو ریلیف دینا ہوگا۔

  8. جی ٹی روڈ کو بند کرنے کے لیے جہلم پر مٹی پہنچادی گئی

    صحافی خرم اقبال نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ’ایکس‘ پر پوسٹ کی ہے کہ جی ٹی روڈ پرجہلم پل کو بند کرنے کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔ کنٹینرز کے ساتھ مٹی کے ڈھیر رکھ دیئے گئے ہیں۔


  9. ٹنڈو آدم ریلوے اسٹیشن پر حافظ نعیم الرحمان کا تاریخی استقبال، جھنڈو مری سے قافلے کی شرکت

    ٹنڈو آدم: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کے ٹنڈو آدم ریلوے اسٹیشن پہنچنے پر جماعت اسلامی کے کارکنان اور حامیوں کی جانب سے استقبال کیا گیا۔

    اس موقع پر ضلع ٹنڈوالہیار کی تحصیل جھنڈو مری سے مولانا حماد اللہ سِنھڑو کی قیادت میں قافلے نے بھی شرکت کی۔

    کارکنان نے حافظ نعیم الرحمان کا استقبال کیا اور جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک کے سلسلے میں اپنی حمایت کا اظہار کیا۔

  10. حافظ نعیم الرحمان کا ’سپر ٹرین مارچ‘ حیدرآباد پہنچ گیا

    امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان حیدررآباد کینٹ اسٹیشن پہنچ گئے، حافظ نعیم الرحمان کا حیدرآباد کینٹ اسٹیشن پہچنے پر شاندار اور فقید المثال استقبال کیا گیا اور حافظ حافظ کے نعرے لگائے گئے۔

    امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حیدرآباد کینٹ اسٹیشن پر سپر ٹرین مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ سب کے جذبے، استقامت اور حوصلے کو سلام پیش کرتا ہوں۔

    کراچی سے شروع ہونے والا یہ سپر ٹرین مارچ آج حیدرآباد پہنچا ہے۔ یہ صرف ایک شہر سے دوسرے شہر کا سفر نہیں، بلکہ عوام کے حقوق کی آواز کو ملک کے دارالحکومت تک پہنچانے کا سفر ہے۔ ہم یہاں کسی پارٹی کی ذات کے لیے نہیں نکلے، ہم اپنے مفادات کے لیے نہیں نکلے، بلکہ پاکستان کے غریب، متوسط اور محنت کش عوام کے حقوق کے لیے نکلے ہیں۔

    انہوں نے کہا ہے کہ ہم اس نظام کے خلاف آواز بلند کررہے ہیں جس میں حکمران طبقہ عوام کی جیبوں پر بوجھ ڈالتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ ملک کی معیشت خراب ہے۔ یہ کیسا نظام ہے کہ یہ سب لوگ مل کر پاکستان کے غریبوں اور متوسط طبقے کے لوگوں کی جیبوں پر ڈاکا ڈالتے ہیں۔ 

    حکمران کہتے ہیں کہ ہمارے حالات خراب ہیں، معیشت ٹھیک نہیں ہے، میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر معیشت ٹھیک نہیں ہے تو اس میں عوام کا کوئی قصور نہیں۔ اس کی ذمہ داری حکمران طبقے کی پالیسیوں پر عائد ہوتی ہے۔ 

    عوام نے اپنی ضروریات کم کیں، اپنے بچوں کے اخراجات محدود کیے، مہنگائی برداشت کی، لیکن حکمران اپنی عیاشیوں کو ختم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ہم پوچھتے ہیں کہ قربانی صرف عوام ہی کیوں دیں؟ حکمران طبقہ اپنی مراعات اور غیرضروری اخراجات کم کیوں نہیں کرتا؟ غریب سے اس کی روٹی کا حساب مانگا جاتا ہے، لیکن حکمرانوں کے اخراجات کا حساب کیوں نہیں لیا جاتا؟

    آج پیٹرولیم لیوی کے نام پر عوام سے اضافی رقم وصول کی جارہی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ پیٹرولیم لیوی کا یہ بھتہ ٹیکس ختم کیا جائے۔ 

    یہ صرف کارکنان کا قافلہ نہیں، یہ پاکستان کے مظلوم، غریب، متوسط اور محنت کش عوام کی آواز ہے۔ حکمران سن لیں! عوام مزید بوجھ برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ عوام کو ریلیف دینا ہوگا۔، 

    پیٹرولیم لیوی کا بھتہ ٹیکس ختم کرنا ہوگا اور حکمران طبقے کو اپنی مراعات اور عیاشیوں پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ ہم اپنے حقوق کے لیے پرامن اور جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ان شاء اللہ یہ قافلہ اسلام آباد پہنچے گا اور عوام کی آواز حکمرانوں تک پہنچائے گا۔


  11. کراچی سے سپر ٹرین مارچ کا آغاز، ’عوام کسمپرسی کا شکار ہیں جبکہ حکمران عیاشیاں کررہے ہیں‘

    امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ عوام کسمپرسی کا شکار ہیں جبکہ حکمران عیاشیاں کررہے ہیں، ملک بھر سے قافلے اسلام آباد کے سپر مارچ کے لیے روانہ ہونا شروع ہوگئے ہیں، حکومت کو پیٹرولیم لیوی ختم کرنا ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی کینٹ ریلوے اسٹیشن پر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

    پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے مطالبے کے لیے کراچی سے سپر ٹرین مارچ کا آغاز ہوگیا۔ امیر جماعت اسلامی کو کینٹ اسٹیشن پر کارکنوں کی بڑی تعداد نے الوداع کیا، جبکہ ڈرگ روڈ اور لانڈھی ریلوے اسٹیشن پر بھی کارکن بڑی تعداد میں اپنے قائد کو رخصت کرنے کے لیے موجود تھے۔ امیر کراچی منعم ظفر اور دیگر رہنماؤں نے بھی کارکنوں سے خطاب کیا۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکمت عملی کے مطابق لوگ اسلام آباد روانہ ہوچکے ہیں، آج باب خیبر اور بلوچستان سے بھی کاروان روانہ ہوجائے گا۔ اسلام آباد مارچ جماعت اسلامی یا اپنی ذات کے لیے نہیں کررہے، حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے عوام بدترین پریشانی کا شکار ہیں اور سفید پوش لوگ کسمپرسی میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی بدانتظامی کا بدلہ عوام سے لے رہی ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ لیوی کا بھتہ ختم ہونا چاہیے۔ حکومت نے عالمی مارکیٹ کا بہانہ بنا کر قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ کیا ہوا ہے۔ حکومت کو اشرافیہ کو لگام دینا، گاڑیاں چھوٹی کرنا اور بجلی پیدا کرنے والی نجی کمپنیوں کے معاہدوں میں اصلاحات کرنا ہوں گی، لیکن ان سب کا بوجھ عوام پر ڈالا جارہا ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ بجلی پیدا کرنے والی نجی کمپنیوں میں حکومت اور اس کے نمائندے موجود ہوتے ہیں، تیل کی مارکیٹنگ کمپنیوں، ریفائنریوں، آٹا اور چینی کے کاروبار میں بھی حکومت کے لوگ ملیں گے۔ اگر ہم گھر بیٹھ کر برداشت کریں گے تو یہ مزید لوٹتے رہیں گے، اسی لیے جماعت اسلامی نے میدان میں نکلنے کا راستہ چنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے کراچی میں 35 روز دھرنا دیا ہے، سکھر، لاڑکانہ اور حیدرآباد میں دھرنے جاری ہیں، جبکہ پنجاب کے مختلف علاقوں میں مارچ اور دھرنے ہورہے ہیں۔ ہمیں شوق نہیں کہ شدید گرمی میں احتجاج کریں، حکومت کے پاس صرف ایک ہی راستہ ہے کہ لیوی کا بھتہ ختم کرے۔

    حافظ نعیم الرحمٰن نے خبردار کیا کہ اگر لیوی ختم نہ کی گئی تو احتجاج بھی بڑھے گا اور ایسا نہ ہو کہ احتجاج حکومت گراؤ تحریک میں بدل جائے۔ حکومت نوشتہ دیوار پڑھ لے، یہ کسی کی انا کا مسئلہ نہیں، حکومت اپنا کریڈٹ لے اور بھتہ ٹیکس ختم کرے۔

    حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ سندھ کے مختلف ریلوے اسٹیشنوں پر امیر جماعت اسلامی سندھ کاشف سعید شیخ کاروان کا استقبال کریں گے۔ خواتین اور نوجوان بڑی تعداد میں کارکنوں کو رخصت کرنے کے لیے اسٹیشن پر موجود ہیں، جب ہم اسلام آباد پہنچ جائیں گے تو اپنی بہنوں کو بھی بلائیں گے۔

    امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا کہ آج حافظ نعیم الرحمٰن کی زیر قیادت سپر ٹرین مارچ کا آغاز ہورہا ہے، یہ مارچ ظالم حکمرانوں کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔ وزیراعظم کی صورتحال یہ ہے کہ بیرون ملک دورے ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے جبکہ قوم مہنگائی کے ہاتھوں پس رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ لیوی بھتہ ٹیکس ہے جس کا پیٹرول کی قیمتوں سے کوئی تعلق نہیں، 390 روپے کے پیٹرول میں 106 روپے لیوی کے نام پر وصول کیے جارہے ہیں۔ 35 روز کے دھرنے کے بعد کراچی کا کاروان اسلام آباد روانہ ہورہا ہے، کراچی سے حیدرآباد اور روہڑی تک کاروان پہنچے گا اور سکھر میں عظیم الشان تاریخی جلسہ ہوگا۔

    منعم ظفر خان نے کہا کہ عوام کا سمندر اسلام آباد کی جانب بڑھے گا۔ حکمرانوں کو عوامی مطالبات تسلیم کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کینٹ اسٹیشن کراچی میں موجود ہیں اور آج یہاں سے سپر ٹرین مارچ شروع ہورہا ہے۔ یہ مارچ بھتہ ٹیکس کے خلاف کیا جارہا ہے، پیٹرول کی قیمتوں میں لیوی بھتہ ٹیکس ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حکمران چین کی بانسری بجا رہے ہیں اور ریلیف کے نام پر عوام کو دھوکا دیا جارہا ہے۔ ریلیف دینے کے نام پر کروڑوں روپے کے اختیارات دیے جارہے ہیں، حکومت کو اب شاہ خرچیاں ختم کرنا ہوں گی۔ حکمرانوں کو مفت بجلی اور مفت پیٹرول مل رہا ہے، یہ بھی اب ختم ہونا چاہیے۔

    منعم ظفر خان نے کہا کہ ہمارا واضح اور دوٹوک مطالبہ ہے کہ بھتہ ٹیکس ختم کیا جائے۔ ہمارا کارواں حیدرآباد، روہڑی اور سکھر پہنچے گا، جہاں سکھر میں عظیم الشان تاریخی جلسہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ فارم 47 کی شکل میں سیاست کا بیڑا غرق کردیا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی تمام رکاوٹیں دور کرکے ہر صورت اسلام آباد پہنچے گی۔ اگر حکمران گرفتاریاں کرنا چاہتے ہیں تو یہ شوق بھی پورا کرکے دیکھ لیں، 3 ستمبر کی پرامن ہڑتال میں بھی گرفتاریاں کی گئی تھیں۔ جماعت اسلامی کی جدوجہد جاری رہے گی۔

  12. حکومت کے پاس آخری موقع، احتجاجی تحریک جاری، اسلام آباد مارچ سے دستبردار نہیں ہوں گے، حافظ نعیم الرحمان

    امیر جماعت اسلامی نے کہا ہے کہ حکومت کے لیے موجودہ مذاکرات آخری موقع ہو سکتے ہیں، جماعت اسلامی اپنی احتجاجی تحریک جاری رکھے گی اور اسلام آباد مارچ سے دستبردار نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پوری قوت کے ساتھ اسلام آباد پہنچے گی، جبکہ عوامی ریلیف کا فیصلہ اب وزیراعظم کے اقدامات سے مشروط ہے۔ وزیراعظم ریلیف دیتے ہیں یا نہیں، فیصلہ حکومت نے کرنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوں گے۔

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پی ٹی آئی سے بھی بات چیت کے لیے حکومت کو کمیٹی تشکیل دینی چاہیے اور راجہ ناصر عباس کی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کی تجویز پر عمل ہونا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پرامن احتجاج ہر سیاسی جماعت کا آئینی حق ہے۔ حکومت احتجاج روکنے کے لیے شہروں کو کنٹینرز سے نہیں بھر سکتی، جبکہ ریڈ زون اور دیگر اصطلاحات کا آئین سے کوئی تعلق نہیں۔ آئین پرامن احتجاج کا حق سب کو دیتا ہے اور ہم تمام سیاسی جماعتوں کے احتجاج کے حق کو تسلیم کرتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ملکی مسائل کے حل کے لیے آئین کی بالادستی ضروری ہے اور پاکستان کے 25 کروڑ عوام سب سے زیادہ اہم ہیں۔ مڈل کلاس اور تنخواہ دار طبقہ مہنگائی سے شدید متاثر ہے۔

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں پنجاب حکومت کی پالیسیوں پر شدید تحفظات ہیں۔ پنجاب میں 11 ہزار اسکول آؤٹ سورس کیے جا چکے ہیں جبکہ مزید 25 ہزار اسکول آؤٹ سورس کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ پنجاب کی جامعات کو مطلوبہ گرانٹس نہیں دی جا رہیں اور تعلیمی اداروں کی نجکاری اور آؤٹ سورسنگ پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو اپنی عیاشیاں اور مراعات کم کرنا ہوں گی۔ آئی پی پیز، چینی، آٹا اور بینکنگ شعبے میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پاکستان کا بحران غریب اور مڈل کلاس عوام کی وجہ سے نہیں۔ تنخواہ دار طبقہ 700 ارب روپے ٹیکس ادا کر رہا ہے جبکہ غریبوں اور مڈل کلاس سے پٹرولیم لیوی کی مد میں بھاری رقم وصول کی جا رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کو بجلی پیدا کیے بغیر اربوں روپے کی ادائیگی کی گئی۔ پاکستان کے مسائل کے ذمہ دار چند طاقتور مفادات ہیں۔

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کا خاتمہ کرنا ہوگا اور پٹرول کی قیمت کم کرنا ہوگی۔ عالمی مارکیٹ میں قیمت کم ہونے کے باوجود پٹرول مہنگا کرنے پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دو تین ڈالر عالمی قیمت کم ہونے کے باوجود پٹرول کی قیمت بڑھانے کی وجہ بتائی جائے۔

    انہوں نے کہا کہ پٹرولیم لیوی سے ماہانہ 150 ارب روپے وصول کیے جا رہے ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے 26 سے 30 ارب روپے ماہانہ کے ریلیف پیکج کا اعلان کیا گیا ہے۔ 150 ارب روپے کی لیوی کے مقابلے میں 26 سے 30 ارب روپے کا ریلیف ناکافی ہے اور حکومت لیوی کی مد میں ریلیف پیکج سے تقریباً چھ گنا زیادہ رقم وصول کر رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پٹرولیم لیوی ختم کیے بغیر عوام کو حقیقی ریلیف نہیں مل سکتا۔ پٹرول کی قیمت کم ہونے کے باوجود ٹرانسپورٹ کے کرائے میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ کرایوں میں 7 فیصد اضافے سے عوام مزید مشکلات کا شکار ہیں۔ حکومتی ریلیف پیکج میں ٹرانسپورٹرز کے مسائل کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ بائیک اپنے نام پر نہ رکھنے والوں کے لیے بھی ریلیف کے حصول میں مشکلات ہیں، جبکہ ڈیلرز بھی حکومتی ریلیف پیکج کے طریقہ کار سے پریشان ہیں۔ حکومتی ریلیف پیکج عوام کے مسائل کا مکمل حل نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کا خاتمہ ہی پٹرول کی قیمت میں اضافے کا بنیادی حل ہے۔ پٹرولیم لیوی کے خلاف تحریک پورے پاکستان میں جاری ہے اور 20 ستمبر سے اسلام آباد لانگ مارچ کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ وزیراعظم نے لانگ مارچ مؤخر کرنے کی درخواست کی۔ وزیراعظم سے کہا گیا کہ لوگ مر رہے ہیں، ہمیں احتجاج کا کوئی شوق نہیں۔ وزیراعظم کی جانب سے وطن واپسی پر ملاقات اور ریلیف کی یقین دہانی کرائی گئی، تاہم وزیراعظم کی یقین دہانی کے باوجود جماعت اسلامی احتجاج سے دستبردار نہیں ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے لانگ مارچ بھی ختم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم کی درخواست پر جماعت اسلامی ان سے ملاقات کا موقع دے گی اور وزیراعظم کے ساتھ ملاقات میں عوامی ریلیف کے مطالبات پیش کیے جائیں گے۔

    امیر جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ احتجاج سے دستبرداری کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ دھرنے اور احتجاجی کیمپ بدستور جاری رہیں گے۔ وزیراعظم سے ملاقات تک کارکن عوام سے رابطہ مہم جاری رکھیں گے اور عوام سے باقاعدہ تحریری تائید حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کارکن مسلسل میدان میں موجود رہیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ اسلام آباد مارچ کے لیے مختلف پلان تیار کیے گئے ہیں اور اسلام آباد میں کئی مقامات سے داخل ہونے کا پلان تیار ہے۔ جماعت اسلامی کا ایجنڈا فساد یا انتشار نہیں بلکہ عوام کو ریلیف دلانا ہے۔

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت ریلیف دے گی تو مسئلہ حل ہو جائے گا، تاہم ریلیف نہ ملا تو لانگ مارچ جاری رکھا جائے گا۔ اکتوبر کے پہلے عشرے میں بھی لانگ مارچ جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ملتان میں جماعت اسلامی کا اسلام مارچ پڑاؤ جاری رہے گا، جبکہ خیبر اور بلوچستان میں بھی احتجاجی سرگرمیاں جاری ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ عوام سے بھتہ وصول کرنے کے لیے مختلف ٹیکسز عائد کیے جا رہے ہیں۔ پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی نے ملک گیر تحریک کا آغاز کیا، کیونکہ سیاسی جماعتیں عوام کے بنیادی مسائل سے دور ہو چکی ہیں۔

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ تحریک کے دوران عوام میں زبردست جوش و خروش دیکھنے میں آیا۔ 7 اگست کو ملک بھر میں 510 مقامات پر دھرنے دیے گئے۔ احتجاج کے دوران چوراہے بند کیے گئے، تاہم ایمبولینسز کو راستہ دیا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ 16 اگست سے صوبائی ہیڈکوارٹرز پر دھرنوں کا آغاز کیا گیا اور تحریک بڑھتے بڑھتے 42 شہروں تک پہنچ گئی۔ 42 شہروں میں روزانہ مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد دھرنوں میں شریک ہو رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ عوام اور تاجروں کی حمایت سے 3 ستمبر کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔ احتجاج کے دباؤ پر حکومت نے مذاکرات کا آغاز کیا اور حکومت کی درخواست پر جماعت اسلامی کی مذاکراتی کمیٹی نے تفصیلی پریزنٹیشن دی۔

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت کو بتایا گیا کہ مختلف شعبوں میں اصلاحات سے پٹرولیم لیوی ختم کی جا سکتی ہے، تاہم حکومت پٹرولیم لیوی ختم کرنے سے متعلق آئی ایم ایف کے دباؤ کا مؤقف اختیار کر رہی ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ پٹرولیم لیوی ختم نہیں ہوگی تو احتجاج بھی ختم نہیں ہوگا۔ جماعت اسلامی نے 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان کیا، جس کے سلسلے میں کراچی سے روہڑی تک ٹرین مارچ کیا گیا اور روہڑی سے ملتان تک ٹرین مارچ کے دوسرے مرحلے کا آغاز کیا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ اس وقت جماعت اسلامی کے قافلے کا پڑاؤ ملتان میں ہے۔ ہماری جدوجہد کا کوئی ذاتی یا جماعتی مفاد نہیں۔ پٹرول کی قیمت میں اضافے سے ہر چیز مہنگی ہو رہی ہے، پٹرول کی قیمت بڑھنے سے مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور مہنگائی کے باعث عام لوگوں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہو رہے ہیں۔

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ یہ 25 کروڑ عوام کا مسئلہ ہے اور پٹرولیم لیوی کا خاتمہ عوام کا بنیادی مطالبہ ہے۔

  13. اسلام آباد پہنچنے کے بعد بھی عوامی جدوجہد ختم نہیں ہوگی، مطالبات کی منظوری تک احتجاجی تحریک جاری رہے گی: حافظ نعیم الرحمٰن

    امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ پیٹرولیم لیوی کے خلاف شروع کی گئی تحریک اب صرف پٹرول کی قیمتوں میں کمی یا لیوی کے خاتمے تک محدود نہیں رہی بلکہ عوام کو درپیش معاشی مسائل اور پورے ’مافیا سسٹم‘ کے خلاف جدوجہد ہے۔

    کراچی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کراچی دھرنے کے شرکا، خواتین اور نوجوانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دھرنا پوری استقامت کے ساتھ جاری رہا اور یہ پورے کراچی کی آواز بن گیا۔

    انہوں نے کہا کہ دھرنے میں تاجر، صنعت کار، طلبہ، علما، شعرا، ادیب، کھلاڑی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہوئے اور اپنے مسائل بیان کیے۔

    حافظ نعیم الرحمٰن نے گورنر ہاؤسز کے اخراجات اور اشرافیہ کے لیے مختص مراکز پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ گورنر ہاؤس کو یونیورسٹی اور مفت تعلیم کے مرکز میں تبدیل ہونا چاہیے تھا۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ کلب، جم خانہ، گالف کلب اور ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے کلب اشرافیہ کے الگ طرز زندگی کی علامت ہیں، جہاں گالف گراؤنڈ، سوئمنگ پول اور ٹینس کورٹ سمیت دیگر سہولیات موجود ہیں، جب کہ عام شہری بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

    امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ متوسط طبقے کے والدین بچوں کی فیس، بجلی کے بل، مکان کے کرائے، علاج اور دو وقت کی روٹی میں سے انتخاب کرنے پر مجبور ہیں۔

    انہوں نے حکومت کی پیٹرولیم پالیسی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ پیٹرول پر مختلف ٹیکسز اور لیویز کے ذریعے عوام پر بھاری بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔

    حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو صرف عالمی مارکیٹ کی قیمتوں سے جوڑنا درست نہیں، کیونکہ پیٹرولیم لیوی، کلائمیٹ سپورٹ لیوی اور کسٹم ڈیوٹی سمیت مختلف مدات میں رقم وصول کی جا رہی ہے۔

    انہوں نے ریفائنریوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، شوگر، آٹا اور آئی پی پیز سمیت مختلف شعبوں میں ’مافیا‘ اور کارٹلز کی موجودگی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

    حافظ نعیم الرحمٰن نے پاکستان کے معاشی نظام میں سود کے خاتمے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت پر مغربی معاشی اصول جوں کے توں لاگو نہیں کیے جا سکتے اور پالیسی ریٹ میں کمی سے لازماً مہنگائی بڑھنے کا دعویٰ درست نہیں۔

    امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ سود پر مبنی معاشی نظام کو تبدیل کرنا ہوگا اور اگر سود فوری طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا تو اسے مرحلہ وار کم کیا جائے۔ انہوں نے حکومت سے آئین میں سود کے خاتمے سے متعلق مقررہ ہدف پر عملدرآمد کا مطالبہ بھی کیا۔

    حافظ نعیم الرحمٰن نے سندھ اور پنجاب میں تعلیمی نظام کی صورتحال پر بھی تنقید کی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ سندھ کے متعدد سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات موجود نہیں، جب کہ پینے کے صاف پانی سمیت دیگر ضروری سہولتوں کا فقدان ہے۔

    انہوں نے کہا کہ غریبوں کے بچے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں جب کہ حکمران طبقے کے بچے بیرون ملک تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

    پنجاب کے حوالے سے انہوں نے دعویٰ کیا کہ لاکھوں بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور متعدد سرکاری اسکولوں کی آؤٹ سورسنگ کی جا رہی ہے۔ انہوں نے پنجاب حکومت کی تعلیمی پالیسیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

    حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جماعت اسلامی کی تحریک ایک یا دو دن کی نہیں بلکہ عوام کو ریلیف ملنے تک جاری رہے گی۔ پیٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاجی تحریک کے دوران عوام میں اس معاملے سے متعلق شعور پیدا ہوا ہے اور جماعت اسلامی اس تحریک کو مزید آگے بڑھائے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ کراچی سے اسلام آباد کے لیے تاریخی ٹرین مارچ شروع ہوگا، جو کراچی سے روہڑی، پھر ملتان اور اس کے بعد اسلام آباد کی جانب روانہ ہوگا۔

    حافظ نعیم الرحمٰن نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان، سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں بھی احتجاجی سرگرمیاں جاری ہیں اور ملک کے مختلف شہروں سے کارکن اسلام آباد کی جانب مارچ میں شریک ہوں گے۔

    جماعت اسلامی کے مطابق کراچی سے ٹرین مارچ 20 ستمبر کو روانہ ہونا ہے، جب کہ ملک کے دیگر حصوں سے بھی قافلے اسلام آباد کی طرف جائیں گے۔

    حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ اسلام آباد پہنچنے کے بعد بھی عوامی جدوجہد ختم نہیں ہوگی اور مطالبات کی منظوری تک احتجاجی تحریک جاری رکھی جائے گی۔

  14. حکومت نے جماعت اسلامی کی تجاویز پر غور کے لیے کل تک کا وقت مانگا ہے، لیاقت بلوچ

    نائب امیر جماعتِ اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان دوٹوک اور واضح ہے، حکومت نے عوام کو مؤثر معاشی ریلیف نہ دیا تو جماعت اسلامی اپنے اعلان کے مطابق تحریک آگے بڑھائے گی۔

    حکومتی ٹیم سے مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ حکومت نے جماعت اسلامی کی تجاویز کو معقول اور درست قرار دیا ہے اور ان پر غور کے لیے کل تک کا وقت مانگا ہے، حکومت کی جانب سے کوئی قابلِ عمل تجویز سامنے آئی تو اسے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت چاہے تو لاہور آکر بھی جماعت اسلامی کے سامنے اپنا مؤقف پیش کرسکتی ہے، تاہم 20 ستمبر کے اسلام آباد مارچ کے اعلان پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور جماعت اسلامی اپنے اعلان کے مطابق مارچ کی طرف بڑھے گی۔

    لیاقت بلوچ نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ اور اس کے ذریعے عوام کو ریلیف دینا ناگزیر ہے، لیوی کے باعث معیشت پر پڑنے والے بوجھ کو کم کیا جائے۔ صرف مخصوص طبقے کو ریلیف دینے کے بجائے تمام معاشی شعبوں کو ریلیف دینا ضروری ہے تاکہ پاکستان کی معیشت کو حقیقی سہارا مل سکے۔

    ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چکر بازی اور محدود ریلیف کے بجائے براہ راست معاشی ریلیف کی طرف آنا چاہیے، حکومت اپنی حکمت عملی، مائنڈ سیٹ اور رویوں میں تبدیلی لائے، گورننس بہتر کرے اور عوام کو حقیقی ریلیف دے۔

    لیاقت بلوچ نے کہا کہ اگر احتجاج، لانگ مارچ اور مظاہرے حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں تو حکومت کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنی چاہیے، اب حکومت کو سیاسی اور اسٹریٹجک فیصلے کرنا ہوں گے۔

    انڈیا کے حوالے سے لیاقت بلوچ نے کہا کہ انڈیا پاکستان میں عدم استحکام کی نئی کوشش کی طرف بڑھ رہا ہے، مبینہ نئی کارروائی کے تناظر میں پاکستان کو اندرونی استحکام پر توجہ دینا ہوگی۔

    انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ جماعت اسلامی کا واضح مطالبہ ہے اور اس کے نتیجے میں عوام اور معیشت کو ریلیف ملنا چاہیے، مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو جماعت اسلامی 20 ستمبر کے اسلام آباد مارچ کی جانب بڑھے گی۔

مزید خبریں