لائیو

حکومت اور جماعتِ اسلامی کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور؛ ’پٹرول ریلیف پیکیج مسترد، لیوی ختم کرو ورنہ اسلام آباد مارچ ہوگا‘، لیاقت بلوچ

مادھو لعل حسین چانڈیو
حکومت اور جماعتِ اسلامی کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور؛ ’پٹرول ریلیف پیکیج مسترد، لیوی ختم کرو ورنہ اسلام آباد مارچ ہوگا‘، لیاقت بلوچ4 ستمبر، 2026

نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ پیٹرولیم مصنوعات اور آئی پی پیز کے معاملات پر مذاکرات کا تیسرا دور ہوا ہے، تاہم جماعت اسلامی نے واضح کردیا ہے کہ 20 ستمبر کا مارچ پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے مطالبے کے لیے ہوگا۔ دوسری جانب ملک بھر میں جماعت اسلامی کے دھرنوں کی تعداد 40 ہو چکی ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ان میں عوام کی شرکت بڑھ رہی ہے۔

مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات کے معاملے پر وزیراعظم کی ٹاسک فورس نے بریفنگ دی، جب کہ دوسری بریفنگ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری اور جنرل ظفر نے آئی پی پیز کے حوالے سے پیش رفت پر دی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے عارضی ریلیف کے اقدامات بے بنیاد ہیں، اگر پیٹرولیم لیوی ختم کردی جائے تو عام آدمی کو 103 روپے فی لیٹر تک ریلیف مل سکتا ہے۔

لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ ملک کا سرکاری نظام اس قدر کرپٹ ہوچکا ہے کہ عام آدمی تک ریلیف نہیں پہنچتا، جب کہ حکمران طبقہ اپنی عیاشیاں چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے پیش رفت کے باوجود جماعت اسلامی کا 20 ستمبر کا مارچ لیوی کے خاتمے کے مطالبے پر ہوگا۔

لیاقت بلوچ نے بتایا کہ اویس لغاری اور جنرل ظفر نے آئی پی پیز کے معاملات پر بریفنگ دی ہے اور بتایا گیا ہے کہ 54 آئی پی پیز کے معاملات حتمی کرلیے گئے ہیں۔

ان کے مطابق آئی پی پیز کے ساتھ بات چیت کے نتیجے میں 4600 ارب روپے کی بچت کی گئی ہے، جب کہ مزید 36 آئی پی پیز کو بھی حتمی مرحلے میں لانے سے آگاہ کیا گیا ہے۔

نائب امیر جماعت اسلامی نے سوال اٹھایا کہ اگر آئی پی پیز کے معاملات میں اتنی بڑی بچت ہوئی ہے تو اس کا فائدہ عوام کو کیوں نہیں دیا گیا؟

انہوں نے مزید کہا کہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی کی مد میں بھی حاصل ہونے والی رقم اصل مقصد پر خرچ نہیں کی گئی بلکہ مبینہ طور پر اس کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچا۔

لیاقت بلوچ نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ نمائشی ریلیف کے بجائے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے سمیت ایسے اقدامات کیے جائیں جن کا براہِ راست فائدہ عام آدمی کو پہنچے۔

تازہ اپڈیٹس

  1. جماعت اسلامی کی حکومتی وفد سے ملاقات، پیٹرولیم لیوی میں کمی سمیت بنیادی مسائل کے مستقل حل پر زور

    جماعت اسلامی کے وفد نے نائب امیر لیاقت بلوچ کی قیادت میں وفاقی وزراء علی پرویز ملک، اعظم نذیر تارڑ اور بلال اظہر کیانی سے ملاقات کی، جس میں پٹرولیم سیکٹر، ایندھن کی فراہمی اور عوام کو ریلیف سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

    سرکاری اعلامیے کے مطابق ملاقات میں حکومت کی جانب سے حالیہ بحران کے دوران ملک بھر میں ایندھن کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کے اقدامات سے جماعت اسلامی کے وفد کو آگاہ کیا گیا، جب کہ جماعت اسلامی نے حکومت کے فیول ریلیف اقدامات کا خیرمقدم کیا۔

    لیاقت بلوچ نے پیٹرولیم لیوی میں کمی سمیت عوام کو درپیش بنیادی مسائل کے مستقل حل پر زور دیا۔

    اعلامیے کے مطابق جماعت اسلامی کے وفد کو سات روزہ رولنگ ایوریج کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے نظام پر بھی بریفنگ دی گئی۔

    وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت صارفین کے تحفظ اور ملک میں ایندھن کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کر رہی ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ موٹر سائیکلوں، چنگچی رکشوں، رکشوں اور چھوٹی گاڑیوں کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی دی جا رہی ہے، جس کا مقصد مستحق طبقات تک براہ راست ریلیف پہنچانا ہے۔

    علی پرویز ملک نے کہا کہ ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن سے یورو فائیو معیار کے ایندھن کی پیداوار اور پٹرول و ڈیزل کی مجموعی پیداوار میں اضافہ ہوگا، جس سے درآمدی ریفائنڈ پٹرولیم مصنوعات پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی۔

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ عوام کو ریلیف کی فراہمی وزیراعظم کی اولین ترجیح ہے۔

    وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ حکومت ٹیکس بیس بڑھانے اور براہ راست ٹیکسوں کے فروغ کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

    ملاقات کے دوران حکومتی وزراء نے جماعت اسلامی کی سفارشات وزیراعظم تک پہنچانے کی یقین دہانی بھی کرائی۔

  2. جب تک لیوی کا بھتہ ختم نہیں ہوگا، مسئلہ حل نہیں ہوگا: حافظ نعیم الرحمٰن

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ حکومت کے پاس اب پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں، عوام کو خیرات نہیں بلکہ ان کا حق دیا جائے، جب کہ جماعت اسلامی کے دھرنے جاری رہیں گے اور اسلام آباد میں تاریخی مارچ بھی ہوگا۔

    لاہور میں دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جماعت اسلامی کے دھرنوں کو ایک ماہ مکمل ہوچکا ہے، جن میں مردوں کے ساتھ خواتین بھی شریک ہیں۔ کارکنوں نے اپنے جذبے اور استقامت سے جدوجہد کو تیز کیا ہے اور آج میڈیا سمیت ہر جگہ پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کی بات ہورہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ روز ریلیف پیکیج کا اعلان کیا، لیکن اس کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ بھی عوام کے ساتھ دھوکہ ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ تین ماہ میں قوم کو 75 ارب روپے کا فائدہ ہوگا، جب کہ پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1567 ارب روپے وصول کیے جاچکے ہیں۔

    حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جب تک لیوی کا بھتہ ختم نہیں ہوگا، مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ ملک بھر میں نکلیں اور عوام کو لانگ مارچ کے لیے تیار کریں۔

    امیر جماعت اسلامی نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں کمی نہ کیے جانے پر بھی تنقید کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ صرف 3 فیصد شرح سود کم کرکے لیوی سے زیادہ رقم جمع کی جاسکتی ہے، جس سے ملکی خزانے اور عوام دونوں کو فائدہ ہوگا۔

    حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ پٹرول سستا ہوگا تو مہنگائی کی شرح بھی کم ہوگی، لیکن مفاد پرست طبقہ عوام کو ریلیف نہیں دینا چاہتا۔

    انہوں نے نے چینی کی قیمتوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی قلت پیدا کرکے قیمتیں بڑھائی جاتی ہیں، پھر یہی طبقہ چینی درآمد کرتا ہے اور اسے ٹیکس چھوٹ ملتی ہے۔ چینی ملک میں پہنچنے کے باوجود قیمتوں میں کمی نہیں آتی اور بعد میں اسے برآمد کردیا جاتا ہے۔ عوام کے لیے چینی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں جب کہ مافیاز کے لیے کمیشن میں اضافہ ہورہا ہے۔

    امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ ایک چھوٹا سا طبقہ مختلف سیاسی جماعتوں میں موجود ہے جو عوام کی قسمت کے فیصلے کرتا ہے۔ جمہوریت کے دعویداروں نے کبھی مافیاز، بینکوں، آئی پی پیز اور کلبز میں بیٹھنے والی اشرافیہ کے خلاف تحریک نہیں چلائی۔

    ان کا کہنا تھا کہ بعض کلبز کو بجٹ سے گرانٹس دی جاتی ہیں، جہاں عام آدمی کو داخلے کی اجازت نہیں جب کہ مخصوص طبقے کو مراعات حاصل ہیں۔

    حافظ نعیم الرحمٰن نے بیوروکریسی کی بڑی گاڑیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی افسر 1300 سی سی سے بڑی گاڑی نہ رکھے۔ عوام کے پیسوں سے بڑی بڑی گاڑیاں رکھنے، زمینوں پر مراعات حاصل کرنے اور ٹیکس نہ دینے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔

    انہوں نے گندم اور آٹے کی قیمتوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو سستا آٹا نہیں ملتا جب کہ گندم خریدنے کے لیے 11 کمپنیاں بنادی گئی ہیں۔ حکمران طبقہ عوام کے بچوں کو تعلیم سے محروم رکھتا ہے جبکہ اپنے بچوں کی گریجویشن بیرون ملک کراتا ہے۔ ہم نے ظلم کے نظام کو گرانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی ہے۔

    امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں سے رابطہ کیا ہے اور سیاسی قوتوں کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا ہونا چاہیے۔ جماعت اسلامی کے دھرنے جاری رہیں گے، اسلام آباد میں تاریخی مارچ ہوگا اور کارکن ملک بھر میں عوام کو اس کے لیے تیار کریں۔

    حافظ نعیم الرحمٰن نے دھرنوں کو 'قومی خدمت' قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوامی حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

  3. حافظ نعیم الرحمان کا مولانا فضل الرحمان اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے رابطہ، پٹرولیم لیوی کے خلاف حمایت کی اپیل


    امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کی تحریک کے حوالے سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے رابطہ کیا ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے اپوزیشن جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ حکومت کی جانب سے عوام پر پٹرولیم لیوی کے اضافی بوجھ کے خلاف بھرپور آواز اٹھائیں اور عوام کو ریلیف دلانے کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔

    انہوں نے کہا کہ مہنگائی اور عوام کو درپیش بنیادی مسائل کے معاملے پر تمام اپوزیشن جماعتوں کو متحد ہو کر مؤثر اور بھرپور آواز اٹھانی چاہیے۔ عوام پہلے ہی مہنگائی کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں، ایسے میں پٹرولیم مصنوعات پر اضافی بوجھ ان کے مسائل میں مزید اضافہ کرے گا۔

    دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے جماعت اسلامی کی پٹرولیم لیوی کے خلاف تحریک کی حمایت کردی۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی عوام کے حقیقی مسئلے پر آواز اٹھا رہی ہے، جو قابلِ تحسین ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کو چاہیے کہ وہ عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور حکومت پر عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے دباؤ بڑھائیں۔

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے بھی پٹرولیم لیوی کے معاملے پر وفاقی حکومت سے عوام کو ریلیف دینے کا مطالبہ کیا۔

    انہوں نے جماعت اسلامی کی جانب سے عوامی مسائل کے حل کے لیے کی جانے والی جمہوری جدوجہد کو لائقِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو درپیش مشکلات کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

    سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات براہِ راست عام آدمی کی زندگی پر پڑتے ہیں، اس لیے عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کی تحریک کو مزید منظم کرنے اور عوامی حمایت حاصل کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل پر آواز اٹھانے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

  4. پٹرولیم لیوی کسی ایک جماعت کا نہیں پوری قوم کا مسئلہ ہے: ایمل ولی خان

    امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کے جاری احتجاجی دھرنوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    حافظ نعیم الرحمان نے گفتگو کے دوران اے این پی کی قیادت کو جماعت اسلامی کے احتجاجی دھرنوں میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی، جسے سینیٹر ایمل ولی خان نے قبول کرلیا۔

    ایمل ولی خان نے جماعت اسلامی کی جانب سے مہنگائی اور پٹرولیم لیوی کے خلاف جاری احتجاج کو سراہتے ہوئے کہا کہ مہنگائی اور پٹرولیم لیوی کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پوری قوم کا مشترکہ مسئلہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ عوام پہلے ہی شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں، جب کہ موجودہ حکومتی پالیسیاں ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کررہی ہیں۔ معاشی بدحالی اور غیر مساوی پالیسیوں کے خلاف تمام جمہوری اور سیاسی قوتوں کا متحد ہوکر مشترکہ آواز بلند کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    اے این پی کے مرکزی صدر نے کہا کہ ان کی جماعت عوام کے معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر جدوجہد میں اپنا فعال کردار ادا کرے گی۔

    دوسری جانب حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد بھاری ٹیکسز اور لیوی فوری طور پر ختم کی جائے تاکہ عوام کو درپیش معاشی مشکلات کا ازالہ ہوسکے۔

  5. مطالبات کی منظوری تک خواتین بھی حافظ نعیم الرحمان کے شانہ بشانہ رہیں گی، ثمینہ سعید

    قائم مقام سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی ثمینہ سعید نے کہا ہے کہ حافظ نعیم الرحمان کی قیادت میں جماعت اسلامی نے تاریخ رقم کی ہے، جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم بھی نئی تاریخ رقم کرے گی۔

    لاہور میں خطاب کرتے ہوئے ثمینہ سعید نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمان کی کال پر بہن بھائیوں نے بھرپور ساتھ دیا، مطالبات کی منظوری تک خواتین بھی حافظ نعیم الرحمان کے شانہ بشانہ رہیں گی۔

    انہوں نے کہا کہ آج طالب علم، مزدور اور کسان حکومت کو پٹرولیم لیوی کی صورت میں ’بھتہ‘ دے رہے ہیں، ہمارا مطالبہ صرف جماعت اسلامی کا نہیں بلکہ پاکستان کے 25 کروڑ عوام کا مطالبہ ہے۔

    ثمینہ سعید نے کہا کہ حکمرانوں کی زبانیں پھسل جاتی ہیں اور وہ اپنے ہی صوبوں کے خلاف بات کرتے ہیں، حکمران طبقے نے کروڑوں بچوں کو تعلیم سے محروم کردیا جب کہ عوام سے صحت کی سہولیات بھی چھین لی گئی ہیں۔

    قائم مقام سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمان کی قیادت میں جاری تحریک عوام کے حقوق کے لیے ہے اور یہ جدوجہد جاری رہے گی۔

  6. لیوی بھتہ ختم نہ ہوا تو پہیہ جام، اسلام آباد مارچ اور ٹرین مارچ بھی ہو گا، حافظ نعیم الرحمان

    وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر جماعت اسلامی کے جاری دھرنے کے 23ویں روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت مذاکرات کے لیے سنجیدہ، بااختیار اور ذمہ دار ٹیم بھیجے، بصورت دیگر احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی۔

    حافظ نعیم الرحمان نے بتایا کہ جماعت اسلامی کی جانب سے ملک کے مختلف علاقوں میں 20 سے 30 مقامات پر دھرنے جاری ہیں اور آنے والے دنوں میں ان احتجاجی مراکز کی تعداد اور سرگرمیوں میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم اسلام آباد میں موجود ہے اور حکومت کے ساتھ آج مذاکرات متوقع ہیں، مذاکرات محض وقت گزارنے کے لیے نہیں بلکہ عوام کو حقیقی ریلیف دینے کے لیے ہونے چاہئیں۔

    امیر جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حکومت نے لیوی کی مد میں عوام سے بھاری رقم وصول کی ہے، جس کا براہِ راست بوجھ عام شہریوں پر پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق مہنگائی کے موجودہ دور میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہی ہیں۔

    حافظ نعیم الرحمان نے ایف بی آر کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ٹیکس اہداف پورے کرنے میں ناکامی کا بوجھ بھی عوام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ٹیکس وصولی کے نظام میں شفافیت لائی جائے اور کرپشن کا خاتمہ کیا جائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ حکمرانوں کو اپنی مراعات اور اخراجات پر بھی نظر ڈالنی چاہیے۔ اشرافیہ کو حاصل سہولیات اور سرکاری وسائل کے استعمال پر تنقید کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ عوام معاشی مشکلات سے دوچار ہیں جبکہ حکمران طبقے کی مراعات میں کمی نظر نہیں آتی۔

    انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے احتجاج کا مقصد اقتدار کا حصول نہیں بلکہ عام آدمی کے مسائل کو اجاگر کرنا ہے۔ نوجوانوں سے اپیل کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ عوامی حقوق کی اس جدوجہد کا حصہ بنیں۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لیے قابلِ عمل تجاویز پیش کرے گی۔ ان کے مطابق شرح سود میں کمی، بینکوں سے متعلق حکومتی پالیسی پر نظرثانی اور آئی پی پیز کو ہونے والی ادائیگیوں میں کمی جیسے اقدامات سے حکومت کے مالی وسائل میں گنجائش پیدا کی جا سکتی ہے۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ شرح سود میں ایک فیصد کمی سے حکومت کو سینکڑوں ارب روپے کی بچت ہوسکتی ہے، جبکہ مزید کمی اور آئی پی پیز کی ادائیگیوں پر نظرثانی کی صورت میں پٹرولیم لیوی ختم کرنے کے لیے مالی گنجائش پیدا کی جاسکتی ہے۔

    امیر جماعت اسلامی نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے مذاکرات میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا اور معاملات کو طول دینے کی کوشش کی تو جماعت اسلامی احتجاجی سرگرمیوں میں مزید شدت لائے گی۔ ان کے مطابق اسلام آباد مارچ، پہیہ جام اور ٹرین مارچ سمیت مختلف آپشنز جماعت اسلامی کے زیرِ غور ہیں۔

    حافظ نعیم الرحمان نے پنجاب کی صورتحال پر بھی گفتگو کرتے ہوئے صوبے میں غربت، تعلیم اور صحت کے مسائل کو اجاگر کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سرکاری اسکولوں اور صحت کے شعبے سے متعلق حکومتی پالیسیوں پر عوام میں تشویش پائی جاتی ہے۔

    سندھ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے صوبائی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ صوبے میں طویل عرصے سے برسرِ اقتدار سیاسی قوتوں کو عوامی مسائل کے حل کے لیے جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے کراچی سمیت سندھ میں شہری مسائل اور مبینہ کرپشن کا معاملہ بھی اٹھایا۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی نے عوام کے معاشی اور بنیادی مسائل کو سیاسی بحث کا مرکزی موضوع بنانے کی کوشش کی ہے اور ان کی جماعت عام شہری کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

    حافظ نعیم الرحمان نے یومِ ختمِ نبوت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نبی اکرم ﷺ سے محبت ہر پاکستانی کے دل میں موجود ہے۔ انہوں نے ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے کردار ادا کرنے والے علما اور مذہبی جماعتوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ معاشرے کے مسائل کا حل اسلامی اصولوں میں موجود ہے اور اسلام عدل و انصاف، مساوات اور حقوق العباد کا درس دیتا ہے۔

    یومِ فضائیہ کے موقع پر حافظ نعیم الرحمان نے پاک فضائیہ کی خدمات کو بھی سراہا۔ انہوں نے ملکی دفاع اور قومی سلامتی کے لیے پاک فضائیہ سمیت افواجِ پاکستان کے مختلف شعبوں کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

    تاہم انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں کو سیاسی عمل سے دور رہنا چاہیے۔ ان کے مطابق اداروں کی غیر جانب داری سے عوام میں ان کے احترام، اعتماد اور وقار میں مزید اضافہ ہوگا۔

    حافظ نعیم الرحمان نے ایک بار پھر حکومت پر زور دیا کہ مذاکرات کو نتیجہ خیز بنایا جائے اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، بصورت دیگر جماعت اسلامی اپنے احتجاجی لائحہ عمل کو مزید آگے بڑھانے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

  7. ’سندھو دیش‘ کا کوئی نعرہ نہیں چلے گا، پاکستان ایک ہے: حافظ نعیم الرحمان

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت چینی برآمد کرنے کی اجازت دے رہی ہے، مافیاز نے پہلے چینی درآمد کرکے منافع کمایا اور اب اسے برآمد کرکے بھی پیسے کمائیں گے، جب کہ گندم، چینی اور آئی پی پیز مافیا عوام کا خون نچوڑ رہے ہیں۔

    لاہور میں گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پنجاب بھر میں دھرنے بڑھ رہے ہیں، جماعت اسلامی کی تحریک ظلم کے خلاف ہے اور یہ صرف کسی ایک مسئلے کی نہیں بلکہ نظام بدلنے کی تحریک ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہماری ہڑتال کامیاب رہی، 7 اگست کو 510 سڑکیں بند کی گئیں اور یہ تمام عمل عوامی شعور کو پروان چڑھانے کی جدوجہد ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ آئی پی پیز مافیا کو 1700 ارب روپے دیے جارہے ہیں، جماعت اسلامی کے دھرنے کے نتیجے میں عوام کو بجلی کے فی یونٹ نرخ میں 16 روپے تک ریلیف ملا، تاہم بجلی اب بھی مہنگی ہے اور اسے مزید سستا کرنا ہوگا۔ مہنگی بجلی اور مہنگے پٹرول کی موجودگی میں ملک ترقی نہیں کرسکتا۔

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کل حکومت سے مذاکرات ہورہے ہیں، اپنی تجاویز حکومت کے سامنے رکھیں گے، اگر مذاکرات سنجیدہ ہوئے تو ٹھیک، ورنہ پہیہ جام ہڑتال کی کال دوں گا۔ ٹرین مارچ بھی کریں گے اور شہر شہر پہنچ کر جلسے کیے جائیں گے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ دیگر سیاسی جماعتوں کے مسائل عوامی مسائل نہیں ہیں، مریم نواز پنجاب کارڈ استعمال کررہی ہیں، جب کہ پورا ملک ایک اکائی ہے اور مل کر ظالموں کو بھگائیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی اپنی ذات کے لیے نہیں بیٹھی، ہم پرامن لوگ ہیں، اگر دھرنوں سے تکلیف ہورہی ہے تو انہیں مزید بڑھائیں گے۔

    سندھ کی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پیپلزپارٹی کو سندھ اور شریف خاندان کو پنجاب چاہیے۔ پیپلزپارٹی کا سندھ کے جغرافیے سے کوئی تعلق نہیں، وہ صرف لوٹ مار کرتی ہے۔ سندھ میں بدترین وڈیرہ نظام ہے، جہاں وڈیرے کے سامنے بات کرنے والے کو مار دیا جاتا ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ’سندھو دیش‘ کا کوئی نعرہ نہیں چلے گا، پاکستان ایک ہے۔ صوبوں کو اپنی بات کرنی چاہیے لیکن عوام کو آپس میں نہیں لڑانا چاہیے۔ لوگ روزگار اور نوکریاں نہ ملنے کی وجہ سے آزادی کی بات کرتے ہیں۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ کراچی کے عوام 40 سال سے ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کے نظام سے نکلنے کے لیے جماعت اسلامی کو ووٹ دے رہے ہیں، تاہم پیپلزپارٹی نے شب خون مار کر میئرشپ پر قبضہ کیا اور عوام کی رائے کو کچلا۔ جب کوئی حق کی بات کرتا ہے تو اس کے خلاف نسل پرستی شروع کردی جاتی ہے۔

    مزید پڑھیں: حکومت اپنی نااہلی اور ناقص گورننس چھپانے کے لیے عوام پر بوجھ ڈال رہی ہے، حافظ نعیم الرحمان

    پنجاب کی تعلیم اور زراعت کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ مریم نواز نے پنجاب کی تعلیم کا بیڑا غرق کردیا، 11 ہزار اسکول بیچ دیے گئے جب کہ 25 ہزار مزید فروخت کرنے کی تیاری ہے۔ پنجاب میں نویں جماعت کے 50 فیصد سے زائد بچے فیل ہوگئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ دانش اسکولز بنا کر عوام کو دھوکا دیا گیا اور عوام کے اربوں روپے کھائے گئے، آج اساتذہ، ڈاکٹرز اور کسان سمیت مختلف طبقات سراپا احتجاج ہیں۔

    حافظ نعیم الرحمان نے الزام عائد کیا کہ کسانوں کو گندم کے پورے پیسے نہیں دیے گئے، جب کہ 11 کمپنیوں کے ذریعے گندم خرید کر مہنگی فروخت کی جارہی ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے سکیورٹی سے متعلق بیان پر تنقید کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ مریم نواز نے کہا کہ پنجاب کو انڈیا سے نہیں بلکہ صوبوں سے خطرہ ہے۔ نواز شریف انڈیا کے ساتھ دوستی کرکے پاکستان پر کاری وار کرتے رہے اور آج مریم نواز بھی اسی ذہنیت کے مطابق کام کررہی ہیں۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جن لوگوں نے انہیں اقتدار میں بٹھایا، انہیں سوچنا چاہیے کہ 6 ستمبر کو وہ کیا پیغام دے رہے ہیں۔ 6 ستمبر کو لوگوں نے ٹینکوں کے سامنے لیٹ کر ملک کا دفاع کیا، جماعت اسلامی ایسے کسی طبقے کو نہیں مانتی جو پاکستان کے نظریے کی نفی کرتا ہو۔

  8. ہڑتال کامیاب رہی، ہمارے 1500 کارکن گرفتار ہوئے، آنسو گیس کی شیلنگ ہوئی: حافظ نعیم الرحمان

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ملک گیر ہڑتال کامیاب رہی، ہمارے 1500 کارکن گرفتار کیے گئے جب کہ مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی گئی۔

    مینگورہ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے گزشتہ روز ہونے والی ملک گیر ہڑتال کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کارکنوں کو مبارکباد پیش کی۔

    انہوں نے کہا کہ ہمارے نوجوانوں نے تاریخی جدوجہد کی ہے اور ملک بھر میں تحریک بڑھ رہی ہے، کراچی کے تاجروں نے ہڑتال کی بنیاد رکھی جب کہ اندرون سندھ کے تمام شہروں میں عوام سڑکوں پر نکل آئے۔

    حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا بھر میں بھی کامیاب ہڑتال ہوئی جب کہ مالاکنڈ ڈویژن میں مکمل طور پر کاروباری سرگرمیاں بند رہیں۔

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی کی تحریک عام لوگوں کی آواز ہے، حکمرانوں نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے، دو وقت کی روٹی مشکل ہوچکی ہے، سفر کرنا دشوار اور بجلی کے بھاری بل عوام کے لیے بوجھ بن گئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول پر لیوی عائد کرکے قیمتیں آسمان پر پہنچا دی گئی ہیں، پیٹرول مہنگا ہونے سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں جب کہ ہر موٹرسائیکل سوار پٹرول پر 35 فیصد ٹیکس ادا کرتا ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ عوام کو لیوی کے بھتے کا علم نہیں تھا اور اس کا پیٹرول کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں، حکمران اپنی عیاشیوں کے لیے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے کارکنوں نے عوام میں شعور پیدا کیا ہے، دو سال قبل آئی پی پیز کے خلاف دھرنا دیا تو عوام کو ریلیف ملا۔

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ لوڈشیڈنگ زیادہ ہے اس لیے آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے کرنا پڑیں گے، لیکن بجلی بنانے والی کمپنیوں کے پیسے عوام سے لیے گئے جب کہ آئی پی پیز کے قرضے اور سود بھی عوام سے وصول کیے جاتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ 1994 سے اب تک تمام آئی پی پیز کے ساتھ ناجائز معاہدے کیے گئے اور آئی پی پیز کو بجلی نہ بنانے کے بھی پیسے دیے جاتے ہیں۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ لوگ بچوں کی فیس ادا کرنے اور دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہیں جب کہ خواتین بجلی کے بل ادا کرنے کے لیے زیور فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ جماعت اسلامی مسائل پر سیاست کرتی ہے، لاشوں پر نہیں۔

    حافظ نعیم الرحمان کے مطابق آئی پی پیز کے خلاف مری روڈ پر 14 روزہ دھرنا دیا گیا، حکومت نے ابتدا میں انکار کیا تاہم بعد میں معاہدہ کیا۔ جماعت اسلامی کے دھرنے کے نتیجے میں بجلی کی قیمت میں 30 فیصد تک کمی ہوئی۔

  9. جماعت اسلامی اور حکومت کی مذاکراتی کمیٹیوں کا اجلاس 7 ستمبر کو اسلام آباد میں ہوگا، لیاقت بلوچ

    نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان اور مذاکراتی ٹیم کے چیئرمین لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ وزیراعظم اور جماعت اسلامی کی مذاکراتی کمیٹیوں کا اجلاس 7 ستمبر کو اسلام آباد میں ہوگا، جب کہ جماعت اسلامی کے دھرنے، احتجاج اور جلسے ملک بھر میں جاری رہیں گے۔

    لاہور میں بیان دیتے ہوئے لیاقت بلوچ نے بتایا کہ جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم میں عنایت اللہ خان، فراست علی شاہ، ضیاء الدین انصاری، نصر اللہ رندھاوا اور نوید علی بیگ شامل ہوں گے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کے ذریعے عوامی مسائل کے حل کے لیے بات چیت کی جائے گی، تاہم مسئلے کے حل میں پیش رفت کا انحصار حکومت کی سنجیدگی اور اس بات پر ہوگا کہ وہ کتنے وقت میں مطالبات پر عملی اقدامات کرتی ہے۔

    لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کے دھرنے اور احتجاج کسی ذاتی یا سیاسی مفاد کے لیے نہیں بلکہ عوام کے مسائل کے حل کے لیے ہیں۔

    انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کے باوجود ملک بھر میں جماعت اسلامی کے دھرنے، احتجاج اور جلسے جاری رہیں گے۔

  10. حکومت اپنی نااہلی اور ناقص گورننس چھپانے کے لیے عوام پر بوجھ ڈال رہی ہے، حافظ نعیم الرحمان

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کے دھرنے 22ویں روز میں داخل ہو گئے ہیں اور یہ احتجاج کسی ذاتی مسئلے کے لیے نہیں بلکہ عوام کے بنیادی حقوق کے لیے ہے۔

    دھرنے کے مقام پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ملک میں صحت، تعلیم سمیت بنیادی سہولیات میسر نہیں، جبکہ حکومت نے عوام کے بنیادی حقوق پر ڈاکا ڈالا ہوا ہے۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ شہباز شریف حکومت نے 4 ہزار ارب روپے سے زائد پٹرولیم لیوی وصول کی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف سے سوال ہے کہ یہ رقم کہاں استعمال ہوئی؟

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت اپنی نااہلی اور ناقص گورننس چھپانے کے لیے عوام پر بوجھ ڈال رہی ہے۔ قوم ایف بی آر کے افسران اور ان کی کرپشن کا بوجھ بھی اٹھا رہی ہے، جبکہ ایف بی آر اپنے اہداف پورے نہیں کرتا۔

    حافظ نعیم الرحمان نے آئی پی پیز کے معاہدوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بجلی کے پیسے بھی ادا کیے جاتے ہیں جو پیدا ہی نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی کے دھرنے اس وقت 30 سے زائد مقامات پر جاری ہیں۔

    کشمیر کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ یاسین ملک کا خط دیکھ کر انتہائی دکھ ہوا ہے اور بھارت انہیں بدترین عدالتی قتل کی طرف لے کر جا رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان نے یاسین ملک کے معاملے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ اگر پاکستان یاسین ملک کا مقدمہ نہیں لڑ سکتا تو اس کا مطلب ہے کہ ہم کشمیر کا مقدمہ کمزور کر رہے ہیں۔

    امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کو بھارت کے ساتھ یاسین ملک کا مقدمہ لڑنا چاہیے۔


  11. حکومتی کمیٹی کے پاس جماعت اسلامی کے دلائل کو رد کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا، لیاقت بلوچ

    نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور پٹرولیم لیوی عوام کے ساتھ زیادتی ہے، جس کے خلاف جماعت اسلامی کا احتجاج 24ویں روز میں داخل ہو چکا ہے۔

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی کا احتجاج ذاتی نہیں بلکہ عوام کا مسئلہ ہے۔ عوام نے دھرنوں میں پرامن کردار ادا کیا ہے اور عوام کو ریلیف دلوانے کے لیے جماعت اسلامی ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پٹرول، ڈیزل، گیس اور آٹے کی قیمتیں آسمان پر پہنچ چکی ہیں جبکہ مہنگائی اور بدترین لوڈشیڈنگ نے عوام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ حکمران طبقے کو عام آدمی کی مشکلات کا کوئی احساس نہیں۔

    لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ حکومت نے رات کی تاریکی میں ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے عوام پر بوجھ ڈال دیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پٹرولیم لیوی اور قیمتوں میں اضافہ سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت کیا جا رہا ہے۔

    نائب امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ رہتا ہے، تاہم عالمی مارکیٹ میں موجودہ قیمتیں قابل برداشت ہیں، اصل مسئلہ پٹرولیم لیوی کا ہے۔ ان کے مطابق فی لیٹر پٹرول پر 130 سے 148 روپے تک اضافی وصول کیے جا رہے ہیں، جس کے باعث پیداواری لاگت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

    لیاقت بلوچ نے بتایا کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں حکومتی ٹیم کے ساتھ اڑھائی گھنٹے تک مذاکرات ہوئے، جن میں وفاقی وزرا، سیکریٹریز اور ٹیکنیکل ماہرین بھی موجود تھے۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی کی مذاکراتی کمیٹی نے بھرپور تیاری کے ساتھ اپنے مطالبات اور تجاویز حکومت کے سامنے پیش کیں۔

    انہوں نے کہا کہ حکومتی کمیٹی کے پاس جماعت اسلامی کے دلائل کو رد کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ حکومت نے مزید دو سے تین دن کا وقت مانگا ہے، جس کے بعد مذاکرات دوبارہ ہوں گے۔

    لیاقت بلوچ کے مطابق وفاقی حکومت کی ایک کمیٹی نے منصورہ پہنچ کر امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات کی تھی، جس میں مذاکرات پر اتفاق ہوا۔ حکومتی کمیٹی نے دھرنا مؤخر کرنے کی درخواست کی، تاہم حافظ نعیم الرحمان نے اسے مسترد کردیا۔

    انہوں نے کہا کہ رانا ثنااللہ نے بھی دھرنے مؤخر کرنے کی پیشکش پر غور کرنے کا کہا، لیکن جماعت اسلامی نے دھرنا مؤخر کرنے سے صاف انکار کردیا۔ حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ناجائز اضافہ واپس لیا جائے اور بنیادی عوامی مسائل کے حل پر توجہ دی جائے۔


مزید خبریں