لائیو

فیصلہ امریکا کو کرنا ہےکہ تنازع ختم کرنا ہے یا نہیں، ایران، چین کی جانب سے ایران کی مدد قابل قبول نہیں: امریکا

مادھو لعل حسین چانڈیو
فیصلہ امریکا کو کرنا ہےکہ تنازع ختم کرنا ہے یا نہیں، ایران، چین کی جانب سے ایران کی مدد قابل قبول نہیں: امریکا22 ستمبر، 2026

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے فوجی سربراہان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی مدد کے طریقوں پر بات چیت کے لیے ملاقات کرنے والے ہیں۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب یمن کے ایران نواز حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے۔ یہ پیش رفت سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ صالح بن فوزان آل فوزان کی جانب سے سعودی فوج اور اتحادی افواج پر زور دیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔ انہوں نے فوجیوں سے کہا کہ وہ متحد رہیں اور حوثیوں کے خلاف کارروائی کے دوران جان قربان کرنے کے لیے تیار رہیں۔

  • دوسری جانب افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی حملوں میں قندھار، پکتیا اور خوست کو نشانہ بنایا گیا اور چار شہری ہلاک ہوئے۔ تاہم قندھار کے ایک رہائشی نے اے ایف پی کو بتایا کہ شہر میں طیارے کی آواز کے بعد زوردار دھماکہ ہوا اور مرکزی علاقے میں آگ بھڑک اٹھی۔

  • یہ تازہ کارروائیاں رواں ہفتے افغانستان میں پاکستانی فضائی حملوں کے بعد سامنے آئی ہیں۔ پاکستان نے اس سے قبل تین مقامات پر کارروائی کرتے ہوئے 28 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جب کہ اقوام متحدہ اور افغان حکام نے ان حملوں میں تین شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

  • پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین پر موجود شدت پسند نیٹ ورکس اور وہاں سے ہونے والے حملوں کے خلاف کارروائی اس کے دفاع اور خودمختاری کے حق کے تحت کی جا رہی ہے، جب کہ طالبان حکومت پاکستان کے الزامات اور سرحد پار کارروائیوں کو مسترد کرتی رہی ہے۔

  • تازہ حملوں کے بعد افغانستان نے بھی مناسب جواب دینے کا اعلان کیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

تازہ اپڈیٹس

  1. برطانوی اور فرانسیسی رہنماؤں کی فلسطین کے حوالے سے اسرائیل پر کڑی تنقید

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں غزہ کی صورتحال اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی اقدامات کا معاملہ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا، برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے غزہ میں جاری انسانی بحران اور مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں غزہ میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں اور انسانی امداد کی ناکافی فراہمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جاری صورتحال پر عالمی برادری خاموش تماشائی نہیں بن سکتی، غزہ میں عام شہری، جن میں بچے بھی شامل ہیں، مسلسل متاثر ہو رہے ہیں جبکہ بنیادی انسانی ضروریات پوری کرنے کے لیے امداد کی فراہمی بدستور ناکافی ہے۔

    اینڈی برنہم نے مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع اور آبادکاروں کے تشدد میں اضافے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے خاص طور پر E1 کے علاقے میں بستیوں کے منصوبے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے پر پیش رفت دو ریاستی حل کے امکانات کو متاثر کر سکتی ہے۔

    برطانوی وزیراعظم کے مطابق E1 منصوبے کے نتیجے میں مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے کے درمیان علاقائی تسلسل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ برطانیہ پہلے ہی اسرائیلی بستیوں سے متعلق تجارتی اقدامات کا اعلان کرچکا ہے، جبکہ برطانیہ، فرانس اور کینیڈا نے ستمبر میں مغربی کنارے کی بستیوں سے درآمدات پر پابندی اور متعلقہ افراد و اداروں کے خلاف ہدفی اقدامات کا اعلان بھی کیا تھا۔

    اینڈی برنہم نے فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ برطانیہ، فرانس اور کینیڈا نے مشترکہ طور پر مؤقف اختیار کیا ہے کہ مغربی کنارے میں بستیوں کی مسلسل توسیع اور آبادکاروں کے تشدد میں اضافہ دو ریاستی حل کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔

    دوسری جانب فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بھی جنرل اسمبلی سے خطاب میں غزہ کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا، اگرچہ امن کے حوالے سے دعوے کیے جا رہے ہیں، تاہم غزہ میں انسانی امداد کی مؤثر اور ضروری رسائی اب بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔

    میکرون نے غزہ میں انسانی صورتحال اور فلسطینی شہریوں کو درپیش مشکلات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جنگ اور بحران کے اثرات سے نکلنے کے لیے محض سیاسی بیانات کافی نہیں بلکہ زمینی سطح پر انسانی امداد اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

    فرانسیسی صدر نے مغربی کنارے میں آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد اور اسرائیلی بستیوں کی توسیع پر بھی تنقید کی۔ فرانس اور برطانیہ پہلے ہی اس مؤقف کا اظہار کرچکے ہیں کہ بستیوں کی توسیع دو ریاستی حل کے قیام کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

    فرانس، برطانیہ اور کینیڈا نے اس سے قبل ایک مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی مسلسل توسیع، خصوصاً E1 منصوبے پر پیش رفت اور آبادکاروں کے تشدد میں اضافہ، دو ریاستی حل کے لیے فوری اور براہِ راست خطرہ ہے۔ تینوں ممالک نے فلسطینی ریاست اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ پرامن اور محفوظ بقائے باہمی پر مبنی دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ کیا تھا۔

    غزہ کے معاملے پر برطانیہ اور فرانس کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موجودہ اجلاس میں فلسطین، غزہ کی انسانی صورتحال، مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں اور دو ریاستی حل سمیت مشرق وسطیٰ کے بحران پر متعدد عالمی رہنما اظہار خیال کر رہے ہیں۔

    دونوں رہنماؤں کے بیانات میں غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی، شہریوں کے تحفظ، مغربی کنارے میں آبادکاری کی سرگرمیوں اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے سفارتی کوششوں کو نمایاں اہمیت دی گئی، جبکہ دو ریاستی حل کو خطے میں دیرپا امن کے لیے مرکزی فریم ورک کے طور پر پیش کیا گیا۔

  2. قتل اسرائیل کرتا ہے اور پابندیاں ایران پر لگتی ہیں، مسعود پزشکیان

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے امریکا اور اسرائیل پر شدید تنقید کی اور کہا ہے کہ قتل اسرائیل کرتا ہے لیکن پابندیاں ایران پر عائد کی جاتی ہیں، جو واضح دوغلی پالیسی ہے۔ امریکا کو سمجھ آ گیا ہے کہ ایران سرنڈر نہیں کرے گا، ایران نے جنگ کے دوران اپنا دفاع کیا اور کسی کے سامنے سر نہیں جھکایا۔

    ایرانی صدر نے خطاب کے آغاز میں ایران پر ہونے والے حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے ایران سے آئے ہیں جہاں ایک اسکول پر بمباری کی گئی۔ انہوں نے جنرل اسمبلی میں حملے میں شہید ہونے والے بچوں کی تصاویر بھی دکھائیں اور کہا کہ ان بچوں نے کوئی جرم نہیں کیا تھا۔

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل نے ان بچوں کو قتل کیا، جب کہ امریکی حملوں میں ایرانی خواتین، بچوں، مردوں اور سائنسدانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام دہشت گردی کا نشانہ بنے، ہم دہشت گرد نہیں ہیں بلکہ ہم نے اپنا دفاع کیا ہے۔ امریکا نے جدید ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کا استعمال کیا لیکن اس کے باوجود ایران نہیں جھکا۔ ایران نے اپنا دفاع کیا اور کبھی خواتین اور بچوں پر حملہ نہیں کیا۔

    غزہ کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے اسرائیل پر شدید تنقید کی اور کہا کہ اسرائیل غزہ میں ایک دہشت گرد کی طرح کارروائیاں کر رہا ہے اور وہاں نسل کشی ہو رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ غزہ کی صورتحال بین الاقوامی نظام اور میکانزم کی ناکامی ہے، جب کہ فلسطین میں انصاف کے بغیر امن ممکن نہیں۔ غزہ میں لوگ مزاحمت کر رہے ہیں اور بمباری اور حملوں کے ذریعے اس مزاحمت کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

    ایرانی صدر نے کہا کہ اپنا دفاع کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے، جب کہ بین الاقوامی طاقتوں کے ذریعے پڑوسی ممالک کو خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا۔ ایران خطے میں عدم استحکام کی وجہ نہیں ہے اور گزشتہ 400 سال سے ایران نے صرف اپنا دفاع کیا ہے۔

  3. ٹرمپ کا جنرل اسمبلی میں ایران کو سخت انتباہ؛ ’دنیا کو فیصلہ کرنا ہوگا، تہران سے معاہدہ ہوگا یا سخت کارروائی‘

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا آج پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے، جب کہ انہوں نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے تہران پر جوہری ہتھیاروں کے حصول اور دہشت گردی کی حمایت کے الزامات عائد کیے ہیں۔

    ٹرمپ نے اپنے خطاب کا آغاز امریکا کی طاقت اور معاشی و عسکری پوزیشن کو اجاگر کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مریکا واپس آچکا ہے اور ہمارا ملک آج پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔

    امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 12 ماہ کے دوران امریکی فوج پر پہلے سے زیادہ رقم خرچ کی گئی جب کہ موجودہ مدت میں یہ رقم 1.5 ٹریلین ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

    امریکی صدر نے ایران کے حوالے سے کہا کہ تہران کو دنیا کے لیے خطرہ بننے کے لیے طاقت جمع کرنے کی اجازت دی گئی، تاہم امریکا نے کارروائی کرکے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روک دیا۔ اگر ایران جوہری بم بنانے میں کامیاب ہوجاتا تو وہ خطے اور دنیا میں مزید تباہی پھیلا سکتا تھا۔

    ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مستقبل کے حوالے سے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ اب فیصلہ ایران کے ہاتھ میں ہے کہ وہ ایسا معاہدہ کرتا ہے جس کے ذریعے ملک دوبارہ تعمیر ہوسکے یا امریکا مزید سخت کارروائی کرے۔

    امریکی صدر نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ ایک ایسے معاہدے کے امکان پر یقین رکھتے ہیں جس کے تحت تہران اپنا جوہری پروگرام اور دہشت گردی کی حمایت ختم کرے۔ انہوں نے عالمی ممالک پر زور دیا کہ ایران کے خلاف مکمل معاشی دباؤ برقرار رکھا جائے۔

    ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج کا انتظار کر رہا ہے، انتخابات ایران سے متعلق امریکی پالیسی پر اثرانداز نہیں ہوں گے۔

    امریکی صدر نے کہا کہ اگر قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضرورت پڑی تو امریکا فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔ انہوں نے اپنی انتظامیہ کی معاشی، سکیورٹی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں کارکردگی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ امریکا تقریباً ہر شعبے میں قیادت کر رہا ہے۔

    ٹرمپ نے غیر قانونی امیگریشن کے خلاف اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکا کی سرحدیں اب اس کی تاریخ میں سب سے زیادہ محفوظ ہیں۔

    ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کا ذکر شروع کیے جانے کے کچھ دیر بعد جنرل اسمبلی میں موجود ایرانی وفد کے ارکان ہال سے باہر چلے گئے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی خود ٹرمپ کی تقریر سننے کے لیے ہال میں موجود نہیں تھے۔

    ٹرمپ کے خطاب کے موقع پر امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں کی بحالی کے امکانات بھی زیر بحث ہیں۔ ایران کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر امریکا فوجی دباؤ کم کرے اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرے تو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر بات ہوسکتی ہے، جب کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی مذاکرات کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔

  4. مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے، طیب اردوان

    ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے، جب کہ فلسطین کے معاملے پر ترکیہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے آزاد اور خودمختار فلسطین کی آواز بنتا رہے گا۔

    اردوان نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس مسلسل دوسرے سال جنرل اسمبلی کے اجلاس میں موجود نہیں، جب کہ فلسطین کو اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی بڑی اکثریت تسلیم کرچکی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ترکیہ گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی فلسطینی عوام کا مؤقف دنیا تک پہنچاتا رہے گا۔ محمود عباس کو امریکا کی جانب سے ویزا نہ دیے جانے کے باعث نیویارک میں اجلاس میں شرکت کا موقع نہیں ملا۔

    ترک صدر نے غزہ کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تین برس کے دوران ہزاروں فلسطینی شہید ہوچکے ہیں اور غزہ کے لوگ اب بھی ملبے تلے اپنے پیاروں کو تلاش کررہے ہیں۔

    اردوان نے غزہ میں بچوں کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں بچوں کی شہادتوں اور معذوری کے واقعات انتہائی تشویشناک ہیں۔

    اردوان نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد اور بے دخلی کی کارروائیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یروشلم میں مسلمانوں اور مسیحیوں کو مقدس مقامات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

    ترک صدر نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے اور اسرائیل پر دباؤ بڑھانے کی اپیل کرتے ہوئے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ فلسطین کو 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر، علاقائی سالمیت کے ساتھ اور مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنا کر قائم ہونا چاہیے۔

    اردوان نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ قائم مشترکہ دفاعی معاہدے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ یہ تعاون تینوں ممالک کے درمیان یکجہتی کو مضبوط بنانے اور خطے کے مسائل کے حل کے لیے علاقائی سطح پر کوششوں کا حصہ ہے۔

    ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب نے اگست میں مکہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت تینوں ممالک نے دفاعی تعاون اور اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

    ترک صدر نے روس یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے بھی سفارتی کوششیں جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ دونوں فریقوں سے رابطے میں ہے تاکہ بحیرہ اسود میں بحری آمدورفت کا تحفظ، غذائی تحفظ اور جنگ کو مزید خطوں تک پھیلنے سے روکا جاسکے۔ اردوان نے بحیرہ اسود میں تجارتی بحری جہازوں پر حالیہ حملوں کو ناقابل قبول قرار دیا۔

    ترک صدر نے مغربی ممالک میں اسلاموفوبیا، نسل پرستی اور غیر ملکیوں سے نفرت کے بڑھتے رجحان پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے مسلمان خواتین اور بچیوں کے ساتھ امتیازی سلوک ختم کرنے پر زور دیا۔

    اردوان نے نومبر میں ترکیہ کے شہر انطالیہ میں ہونے والی عالمی موسمیاتی کانفرنس سی او پی31 کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ موسمیاتی انصاف کانفرنس کا اہم موضوع ہوگا۔

    اپنے خطاب کے اختتام پر ترک صدر نے کہا کہ دنیا کے سامنے خوف، تنازع اور تنہائی سے غیر یقینی صورتحال کو مزید گہرا کرنے یا انصاف، یکجہتی اور مشترکہ خوشحالی کی راہ اختیار کرنے کے دو راستے ہیں۔ ترکیہ نے دوسرے راستے کا انتخاب کیا ہے، جس کے لیے اردوان نے عالمی برادری سے مشترکہ وژن اپنانے کی امید ظاہر کی۔

  5. دنیا میں دراڑیں وسیع، افریقہ کی سلامتی کونسل میں مستقل نشستیں ہونی چاہییں: انٹونیو گوتریس کا جنرل اسمبلی سے آخری خطاب

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جنرل اسمبلی سے اپنے آخری خطاب میں کہا ہے کہ دنیا میں موجود دراڑیں وسیع ہورہی ہیں اور عالمی طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہورہا ہے، جبکہ جنگ، موسمیاتی تبدیلی اور مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے خطرات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

    انتونیو گوتریس نے کہا کہ دنیا ایک کثیر قطبی نظام کی جانب بڑھ رہی ہے جہاں باہمی اعتماد کمزور پڑ رہا ہے۔ عالمی طاقت تین بڑے طریقوں سے تبدیل ہورہی ہے، ریاستوں کے درمیان نئے معاشی، سیاسی اور ٹیکنالوجی مراکز ابھر رہے ہیں، طاقت نجی کمپنیوں اور افراد کی جانب منتقل ہورہی ہے جب کہ مصنوعی ذہانت اور خودکار ہتھیاروں کے ذریعے طاقت انسانوں سے مشینوں کی طرف بھی منتقل ہورہی ہے۔

    گوتریس نے خبردار کیا کہ دنیا کے موجودہ ادارے ان تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ابھی پوری طرح تیار نہیں۔ صرف فوجی، معاشی یا ٹیکنالوجی طاقت امن کی ضمانت نہیں دے سکتی، طاقت کو قانون کے تابع بنانا ہوگا اور یہ اصول تسلیم کرنا ہوگا کہ طاقت کا استعمال اس بات کا حتمی فیصلہ نہیں کرسکتا کہ کس کی زندگی اور مستقبل اہم ہے۔

    اقوام متحدہ کے سربراہ نے غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملوں کے بعد غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف ہونے والی کارروائیوں میں قتل اور تباہی کی ایسی سطح دیکھی گئی جس کا انہوں نے اپنے سیکریٹری جنرل کے دور میں پہلے مشاہدہ نہیں کیا۔

    گوتریس نے غزہ میں اقوام متحدہ کو اپنا مینڈیٹ ادا کرنے کی اجازت دینے اور اس کے عملے و انسانی امدادی کارکنوں کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام فریقوں کو عالمی قانون اور عالمی عدالت انصاف کے احکامات کی پابندی کرنی چاہیے۔

    انہوں نے خبردار کیا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد، فلسطینیوں کی بے دخلی اور اسرائیلی آبادکاری میں توسیع دو ریاستی حل کے راستے کو تباہ کررہی ہے اور دو ریاستی حل ’ہماری آنکھوں کے سامنے ختم‘ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

    انتونیو گوتریس نے یوکرین جنگ کا ذکر کرتے ہوئے روس کے حملے کو اقوام متحدہ کے منشور کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے نتیجے میں شہری اب بھی مارے جارہے ہیں اور اس تنازع نے خطے میں تباہ کن صورتحال پیدا کردی ہے۔

    گوتریس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات پر بھی زور دیا اور کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں آنے والی تبدیلیوں کے باوجود افریقہ کو اب تک سلامتی کونسل میں مستقل نمائندگی حاصل نہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ 21ویں صدی کی سلامتی کونسل میں افریقہ کی مستقل نشستیں نہ ہونا ناانصافی اور ناقابلِ دفاع صورتحال ہے، جس میں تبدیلی ضروری ہے۔

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے موسمیاتی بحران کو نسلوں کے درمیان طاقت کے گہرے عدم توازن کی مثال قرار دیا۔ ایک نسل آنے والی نسلوں کے مستقبل کو استعمال کررہی ہے جب کہ سب سے کم ذمہ دار لوگ اس بحران سے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔

    گوتریس نے بڑی عالمی تیل کمپنیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ انہوں نے ماحول کو نقصان پہنچایا اور اس کے نتائج سے منافع کمایا۔

    اپنے آخری جنرل اسمبلی خطاب کے اختتام پر گوتریس نے کہا کہ امن، ترقی اور انسانی حقوق کو ایک دوسرے کا متبادل نہیں بلکہ باہم جڑے ہوئے معاملات سمجھنا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ ترقی کے بغیر امن نہیں، امن کے بغیر ترقی نہیں اور انسانی حقوق کے بغیر نہ امن ممکن ہے نہ ترقی۔

    انتونیو گوتریس نے کہا کہ ان کی مدتِ ملازمت 31 دسمبر کو ختم ہوجائے گی، تاہم اقوام متحدہ کی اقدار اور اصولوں کے لیے ان کا عزم برقرار رہے گا۔ خطاب کے اختتام پر جنرل اسمبلی میں موجود نمائندوں نے کھڑے ہوکر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔

  6. شہباز شریف کی ایرانی صدر سے ملاقات

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کی نیو یارک میں ملاقات ہوئی ہے، جس میں دونوں رہنماؤں نے ’علاقائی امن، سلامتی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق‘ کیا ہے۔

    ملاقات کے بعد پاکستانی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی صدر کے ساتھ ملاقات میں وزیر اعظم شہباز شریف نے ’خطے میں دیرپا امن و استحکام کے قیام کے لیے تحمل، کشیدگی میں کمی اور مسلسل سفارتی رابطوں کی ضرورت‘ پر زور دیا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات میں پاکستانی وزیراعظم نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد جاری رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے۔

  7. بلوچستان میں پاکستان افغانستان سرحد پر جھڑپ کی اطلاعات

    بلوچستان میں سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ضلع قلعہ عبداللہ کے قریب سرحد پر پاکستان اور افغانستان کی سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔

    بلوچستان حکومت کے ایک سینیئر عہدیدار نے رابطہ کرنے پر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ جھڑپیں گلستان سیکٹر میں ہوئیں، تاہم انھوں نے زیادہ معلومات فراہم نہیں کیں۔

    دوسری جانب بلوچستان کے محکمہ داخلہ کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغانستان کی جانب سے قلعہ عبداللہ میں گلستان سیکٹر میں دراندازی کی کوشش کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

    اس علاقے میں ہونے والی جھڑپوں کے بارے میں سیکورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان کی جانب سے مبینہ دراندازی اور جارحیت کی کوشش پر مؤثر جوابی کارروائی کی گئی، جس کے نتیجے میں کئی افغان طالبان ہلاک ہو گئے ہیں۔

    دوسری جانب محکمہ داخلہ کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کا کہنا ہے پاکستان کی سرحدی حدود اور خودمختاری کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائےگی اور افغانستان کی جانب سے کسی بھی جارحانہ اقدام کا جواب پاکستان اپنی دفاعی صلاحیت کے مطابق بھرپور انداز میں دے گا۔

    گلستان قلعہ عبداللہ کی تحصیل ہے۔ یہ علاقہ بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ سے شمال مغرب میں تقریباً 90 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

  8. چینی صدر کا امریکا اور ایران پر ’اسلام آباد معاہدے‘ کی طرف لوٹنے پر زور

    چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ بیجنگ، امریکا اور ایران کی ’اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت‘ (ایم او یو) کی طرف واپسی کی حمایت کرتا ہے۔

    ان خیالات کا اظہار چینی صدر نے جمعرات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وائٹ ہاؤس میں اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران کیا۔

    چینی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، شی جن پنگ نے ملاقات کے دوران کہا کہ بیجنگ، امریکا اور ایران کی ’اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت‘ (ایم او یو) کی طرف واپسی کی حمایت کرتا ہے۔

    اعلیٰ سطح کے سرکاری دورے کے لیے واشنگٹن پہنچنے کے چند گھنٹے بعد چینی صدر شی جن پنگ نے چینی سرکاری میڈیا میں شائع ہونے والے اپنے بیان میں کہا کہ چین اور امریکہ کو حریف کے بجائے شراکت دار ہونا چاہیے۔

    تین روزہ دورے کے دوران، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنے چینی ہم منصب کا پرتپاک اور خصوصی استقبال کیا گیا، تجارت، مصنوعی ذہانت، تائیوان اور ایران جیسے معاملات پر مشکل بات چیت متوقع ہے۔

  9. چین کی جانب سے ایران کی مدد ناقابل قبول ہے، امریکا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ سے وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران واضح کیا کہ چین کی جانب سے ایران کی مدد ناقابل قبول ہے۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق چین میں امریکی سفیر ڈیوڈ پرڈیو نے امریکی میڈیا سی این بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ واشنگٹن نے کئی ہفتے قبل بھی بیجنگ کو اس حوالے سے اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ امریکا نے چین پر واضح کیا ہے کہ ایران کو براہ راست یا بالواسطہ کسی بھی قسم کی مدد، خواہ وہ انٹیلی جنس، پرزہ جات یا فوجی سازوسامان کی فراہمی ہو، مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔ سفیر کے مطابق صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ہونے والی ملاقات میں بھی یہ مؤقف دہرایا۔


  10. لبنان کے نام پر کسی اور کو مذاکرات کرنے کا حق حاصل نہیں، نواف سلام

    لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان کے نام پر مذاکرات کرنے کا حق کسی اورکو حاصل نہیں، لبنان کو اب دوسرے کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی نہیں بننے دیا جائے گا۔

    نواف سلام نے کہا کہ لبنان کی خودمختاری پر کوئی سودے بازی نہیں کی جاسکتی،لبنان میں حکومتی رٹ قائم کرنا چاہتے ہیں اور اسے غیر ریاستی جنگوں سے نکالنے کے لیے کوششیں کررہے ہیں، بحرانوں اور غیرملکی مداخلتوں کے باعث لبنان تباہی کے دہانے پر پہنچا۔

    لبنانی وزیر اعظم نے کہا کہ دائمی جنگ بندی اور اسرائیلی فوج کے لبنان سے مکمل انخلا کے خواہاں ہیں۔


مزید خبریں