پاکستان بیورو شماریات (پی بی ایس) کی جانب سے جمعہ کو جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2025 میں برآمدات اور درآمدات کے درمیان فرق 3.35 ارب ڈالر تھا، جو ستمبر 2026 میں بڑھ کر 3.56 ارب ڈالر ہوگیا۔
اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2026 میں برآمدات میں نمایاں اضافے کے باوجود تجارتی خسارے میں سالانہ بنیادوں پر اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ستمبر 2026 میں ملکی برآمدات 17.6 فیصد اضافے کے ساتھ 2.94 ارب ڈالر رہیں، جبکہ گزشتہ سال ستمبر میں برآمدات 2.5 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں۔
دوسری جانب ستمبر 2026 میں درآمدات 11 فیصد سے زائد اضافے کے بعد 6.49 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو ستمبر 2025 میں 5.85 ارب ڈالر تھیں۔
ماہانہ بنیادوں پر بھی تجارتی خسارے میں اضافہ ہوا۔ اگست 2026 میں 3.29 ارب ڈالر رہنے والا تجارتی خسارہ ستمبر میں تقریباً 8 فیصد اضافے کے ساتھ 3.56 ارب ڈالر ہوگیا۔
پی بی ایس کے مطابق مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی، یعنی جولائی سے ستمبر کے دوران، پاکستان کا تجارتی خسارہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 9.37 ارب ڈالر کے مقابلے میں 15 فیصد سے زائد اضافے کے بعد 10.79 ارب ڈالر ہوگیا۔
رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ملکی برآمدات تقریباً 11 فیصد اضافے کے ساتھ 8.42 ارب ڈالر رہیں، جبکہ گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں برآمدات 7.59 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں۔
اسی عرصے کے دوران درآمدات 13 فیصد سے زائد اضافے کے بعد 19.22 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں درآمدات 16.97 ارب ڈالر رہی تھیں۔
یوں رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں برآمدات میں اضافے کے باوجود درآمدات کی رفتار زیادہ رہنے کے باعث مجموعی تجارتی خسارے میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔







