فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے غزہ کی نگرانی کے لیے ایک بورڈ کے ارکان کا اعلان کیا ہے، جس میں اکثریت امریکی شہریوں کی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب غزہ کا انتظام سنبھالنے والی فلسطینی ماہرین پر مشتمل کمیٹی نے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں اپنا پہلا اجلاس منعقد کیا، جس میں امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر بھی شریک تھے، جو مشرق وسطیٰ کے معاملات میں نمایاں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ اس سے قبل خود کو ’بورڈ آف پیس‘ کا سربراہ قرار دے چکے ہیں اور جمعے کے روز انہوں نے اس بورڈ کے تمام ارکان کے ناموں کا اعلان کیا۔ ان میں ٹونی بلیئر کے علاوہ جیرڈ کشنر، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور سٹیو وِٹکوف شامل ہیں، جو ٹرمپ کے کاروباری ساتھی اور عالمی مذاکرات کار سمجھے جاتے ہیں۔
ٹونی بلیئر کو مشرق وسطیٰ میں ایک متنازع شخصیت تصور کیا جاتا ہے، کیونکہ انہوں نے 2003 میں عراق پر حملے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے گزشتہ سال کہا تھا کہ وہ یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ٹونی بلیئر کی نامزدگی سب کے لیے قابل قبول ہو۔
ٹونی بلیئر نے 2007 میں وزارت عظمیٰ چھوڑنے کے بعد اقوام متحدہ، یورپی یونین، امریکہ اور روس پر مشتمل ’مشرق وسطیٰ کوارٹیٹ‘ کے نمائندے کے طور پر اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے پر کئی برس کام کیا تھا۔
NEW:
— Megatron (@Megatron_ron) January 17, 2026
🇮🇱🇵🇸 Trump’s ‘BOARD OF PEACE’ for Gaza:
- Tony Blair
- Marco Rubio
- Steve Witkoff
- Jared Kushner
- Marc Rowan
- Ajay Banga
- Robert Gabriel pic.twitter.com/e0kw9JryZV
وائٹ ہاؤس کے مطابق ’بورڈ آف پیس‘ ان امور پر توجہ دے گا جن میں حکمرانی کی صلاحیت میں بہتری، علاقائی روابط، تعمیر نو، سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور بڑے پیمانے پر فنڈنگ اور سرمائے کی فراہمی شامل ہیں۔
بورڈ کے دیگر ارکان میں عالمی بینک کے صدر اجے بنگا، امریکی ارب پتی مالیاتی ماہر مارک روون اور رابرٹ گیبریل شامل ہیں، جو ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور قومی سلامتی کونسل کے رکن ہیں۔
یاد رہے کہ جنگ کے بعد غزہ کے انتظام کے لیے قائم کی گئی فلسطینی ٹیکنوکریٹس کی کمیٹی نے جمعے کو قاہرہ میں اپنا پہلا اجلاس منعقد کیا تھا۔ یہ کمیٹی بدھ کے روز اس وقت تشکیل دی گئی جب امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والے غزہ جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہوا۔ اس کمیٹی میں 15 ٹیکنوکریٹس شامل ہیں جنہیں فلسطینی علاقے میں روزمرہ امور چلانے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔







