دلچسپ بات یہ ہے کہ اس اعلان کے بعد نہ تو مراکش کی حکومت نے اس دعوے کی تصدیق کی اور نہ ہی اس کی تردید کی، اس خاموشی نے سوالات کو مزید بڑھا دیا۔
کیا واقعی مراکش نے یہ شاہراہ ٹرمپ کے نام سے منسوب کی ہے؟ اگر ہاں! تو آخر کیوں؟ اور اس کا تعلق صرف ایک سڑک سے نہیں بلکہ مغربی صحارا کے نصف صدی پرانے تنازع، امریکا کی خارجہ پالیسی اور شمالی افریقہ کی طاقت کی سیاست سے کیوں جوڑا جا رہا ہے؟
ایک سڑک سے بڑھ کر ایک سفارتی پیغام
اگرچہ کسی سڑک یا عمارت کا نام کسی عالمی رہنما کے نام پر رکھنا غیر معمولی نہیں، لیکن اس معاملے میں اصل اہمیت شاہراہ نہیں بلکہ اس کا جغرافیائی محلِ وقوع ہے۔
تزنیت-داخلا شاہراہ تقریباً 1,055 کلومیٹر طویل ہے اور شمالی مراکش کو موریتانیہ سے ملاتی ہے۔ یہ شاہراہ گویلمیم، تان تان اور العیون سے گزرتی ہوئی داخلا تک پہنچتی ہے، جو مغربی صحارا میں واقع ایک اہم شہر ہے۔ یہ وہی علاقہ ہے جس پر مراکش اور پولیساریو فرنٹ گزشتہ تقریباً پچاس برس سے دعویدار ہیں۔
مغربی صحارا آخر ہے کیا؟
مغربی صحارا افریقہ کا ایک ایسا خطہ ہے جسے اقوام متحدہ آج بھی غیر خودمختار علاقہ قرار دیتی ہے۔
1975 میں اسپین کے انخلا کے بعد مراکش نے اس علاقے پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا، جبکہ الجزائر کی حمایت یافتہ پولیساریو فرنٹ نے صحراوی عرب ڈیموکریٹک ریپبلک (ایس اے ڈی آر) کے قیام کا اعلان کر دیا۔
اس کے بعد سولہ برس تک جنگ جاری رہی، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد بے گھر ہوئے اور بڑی تعداد میں صحراوی پناہ گزین الجزائر کے شہر تندوف کے کیمپوں میں منتقل ہو گئے۔
1991 میں اقوام متحدہ کی ثالثی سے جنگ بندی تو ہوگئی، مگر خود ارادیت کے لیے وعدہ کیا گیا ریفرنڈم آج تک منعقد نہیں ہوسکا۔
ٹرمپ نے مراکش کے لیے کیا کیا؟
ماہرین کے مطابق اگر واقعی مراکش نے شاہراہ کو ٹرمپ کے نام سے منسوب کیا ہے تو اس کی سب سے بڑی وجہ ٹرمپ کی مغربی صحارا سے متعلق پالیسی ہے۔
دسمبر 2020 میں ٹرمپ انتظامیہ نے امریکا کی تاریخ میں پہلی بار مغربی صحارا پر مراکش کی خودمختاری کو باضابطہ تسلیم کیا۔
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب مراکش نے امریکا کی ثالثی میں ہونے والے ابراہم معاہدوں (ابراہم اکارڈز) کے تحت اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔
اس فیصلے نے مراکش کی کئی دہائیوں پرانی سفارتی کوششوں کو غیر معمولی تقویت دی، کیونکہ اس سے پہلے کوئی بڑی مغربی طاقت مغربی صحارا پر مراکش کی خودمختاری کو اس انداز میں تسلیم نہیں کرتی تھی۔
بعد ازاں 2025 میں امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرارداد کی بھی حمایت کی، جس میں مذاکرات کو مراکش کے خودمختاری منصوبے کی بنیاد پر آگے بڑھانے کی بات کی گئی۔
شاہراہ یا سیاسی حکمت عملی؟
تجزیہ کاروں کے مطابق تزنیت-داخلا شاہراہ صرف ٹریفک کے لیے نہیں بنائی گئی بلکہ یہ مراکش کی ایک وسیع سیاسی اور معاشی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
گزشتہ دو دہائیوں کے دوران رباط نے مغربی صحارا میں شاہراہوں، بندرگاہوں، قابل تجدید توانائی کے منصوبوں، زرعی سرمایہ کاری اور ماہی گیری کے شعبے میں اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔
ان منصوبوں کا مقصد صرف ترقی نہیں بلکہ اس متنازع علاقے پر مراکش کے عملی کنٹرول کو مزید مضبوط بنانا بھی سمجھا جاتا ہے۔
اسی شاہراہ کے ذریعے مراکش داخلا اٹلانٹک پورٹ کو بھی ترقی دے رہا ہے، جو مستقبل میں افریقہ اور یورپ کے درمیان تجارتی مرکز بن سکتا ہے۔
افریقہ تک رسائی کا خواب
مراکش گزشتہ چند برسوں سے خود کو یورپ، افریقہ اور ساحل کے درمیان تجارتی راہداری بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسی مقصد کے تحت 2023 میں اس نے Atlantic Initiative متعارف کرائی، جس کے ذریعے مالی، برکینا فاسو اور نائجر جیسے خشکی میں گھرے ممالک کو بحرِ اوقیانوس تک رسائی دینے کی پیشکش کی گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق 2004 سے 2024 کے درمیان افریقی ممالک کے ساتھ مراکش کی برآمدات تقریباً 300 ملین ڈالر سے بڑھ کر 3 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔
کیا اس کا تعلق 2030 فیفا ورلڈ کپ سے بھی ہے؟
بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ٹرمپ کو یہ اعزاز دینے کا وقت بھی معنی خیز ہے۔ 2030 کا فیفا ورلڈ کپ اسپین، پرتگال اور مراکش مشترکہ طور پر منعقد کریں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مراکش چاہتا ہے کہ فائنل میچ اس کے ہاں کھیلا جائے اور اس مقصد کے لیے وہ واشنگٹن کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
دوسری رائے یہ بھی ہے کہ ممکن ہے شاہراہ کا متعلقہ حصہ حال ہی میں مکمل ہوا ہو، اسی لیے اب اس کے نام کے حوالے سے اعلان سامنے آیا۔
American-owned leftist publications in Israel started pushing opinion articles (written by Arabs and Americans) about why Israel MUST help Morocco "liberate" Ceuta and Melilla to secure America s interests against Spanish "disobedience".
— Apex Imperialist (@ApexImperialist) July 31, 2026
These publications began to float such… pic.twitter.com/XrBcbW7Gtt
الجزائر کیوں پریشان ہے؟
مغربی صحارا کے مسئلے پر سب سے بڑا مخالف الجزائر ہے، جو پولیساریو فرنٹ کی سیاسی، سفارتی اور انسانی حمایت کرتا ہے۔
الجزائر کا مؤقف ہے کہ صحراوی عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خود ارادیت ملنا چاہیے، جب کہ مراکش اسے اپنی "جنوبی صوبے" قرار دیتا ہے۔ اسی تنازع نے دونوں پڑوسی ممالک کے تعلقات کو برسوں سے کشیدہ رکھا ہوا ہے۔
2024 میں فرانس نے بھی مراکش کے خودمختاری منصوبے کی حمایت کی، جس پر الجزائر نے احتجاجاً پیرس سے اپنا سفیر واپس بلا لیا تھا۔
کیا تنازع حل ہونے کے قریب ہے؟
فروری 2026 میں امریکا کی سہولت کاری سے اسپین کے شہر میڈرڈ میں مراکش، پولیساریو فرنٹ، الجزائر اور موریتانیہ کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات ہوئے۔
بعد ازاں امریکی افریقا ایلچی مسعد بولوس نے کہا کہ مغربی صحارا تنازع حل کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اگرچہ ابھی کسی حتمی معاہدے کا اعلان نہیں ہوا، تاہم کئی مبصرین کا خیال ہے کہ واشنگٹن دونوں فریقوں کے درمیان کسی قابلِ قبول سیاسی حل کی کوشش کر رہا ہے۔
خاموشی بھی ایک پیغام؟
دلچسپ امر یہ ہے کہ ٹرمپ کے دعوے کے باوجود مراکش کی حکومت نے اس بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔
یہ خاموشی کئی سوالات چھوڑتی ہے۔ کیا شاہراہ واقعی ٹرمپ کے نام سے منسوب کی گئی ہے؟ کیا یہ محض ٹرمپ کا دعویٰ ہے؟ یا پھر رباط مناسب وقت پر اس کا اعلان کرنا چاہتا ہے؟
ان سوالات کے جواب ابھی سامنے آنا باقی ہیں، لیکن ایک بات واضح ہے کہ یہ معاملہ صرف ایک شاہراہ کے نام تک محدود نہیں بلکہ مغربی صحارا، مراکش کی سفارتی حکمت عملی، امریکا کے اثر و رسوخ اور شمالی افریقہ کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست سے جڑا ہوا ہے۔







