امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے تصدیق کی ہے کہ جمعے کے روز ہونے والے فضائی حملے میں بلال حسن الجاسم مارا گیا، جو القاعدہ سے منسلک نیٹ ورک کا سرگرم رکن تھا۔ امریکی حکام کے مطابق الجاسم اس داعش اسنائپر سے براہِ راست رابطے میں تھا جس نے دسمبر میں شام کے شہر پالمیرا کے قریب گھات لگا کر دو امریکی فوجیوں اور ان کے مقامی مترجم کو قتل کیا تھا۔
سینٹ کام کی جانب سے ہفتے کے روز جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی دہشتگرد نیٹ ورکس کو کمزور کرنے اور امریکی افواج پر حملوں کا بدلہ لینے کے لیے کی گئی،امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے عناصر کو کسی صورت نہیں بخشا جائے گا اور امریکا ہر اس شخص کا پیچھا کرے گا جو امریکی مفادات یا فوجیوں کے خلاف کارروائی میں ملوث ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کے لیے کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں، چاہے وہ حملوں کی منصوبہ بندی کریں یا انہیں عملی شکل دینے میں معاونت کریں، امریکا اور اس کے اتحادی شام میں دہشتگرد تنظیموں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گے۔
یہ فضائی حملہ آپریشن ہاک آئی اسٹرائیک کے تحت کیا گیا، جس کا آغاز دسمبر میں ہونے والے حملے میں جان سے جانے والے امریکی فوجیوں کی یاد میں کیا گیا تھا۔ اس حملے میں آئیوا نیشنل گارڈ کے سارجنٹ ولیم نیتھنیل ہاورڈ، سارجنٹ ایڈگر برائن ٹوریس ٹووَر اور ان کے ساتھ موجود امریکی مترجم ایاد منصور ساکت ہلاک ہو گئے تھے، جبکہ تین دیگر امریکی فوجی اور متعدد شامی اہلکار زخمی بھی ہوئے تھے۔امریکی حکام کے مطابق حالیہ فضائی کارروائی شمال مغربی شام کے ایک نامعلوم مقام پر کی گئی، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اس حملے میں بلال حسن الجاسم کے علاوہ کوئی اور دہشتگرد بھی ہلاک ہوا یا نہیں۔
سینٹ کام کا مزید کہنا ہے کہ آپریشن ہاک آئی اسٹرائیک کے آغاز کے بعد سے امریکی افواج اور اتحادیوں نے داعش کے بیس سے زائد جنگجوؤں کو ہلاک جبکہ تین سو سے زیادہ کو گرفتار کیا ہے۔ اس دوران داعش کے ایک سو سے زائد ٹھکانوں، اسلحہ گوداموں اور کمانڈ مراکز کو بھی نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ شام میں داعش اور القاعدہ سے وابستہ دہشتگرد عناصر کے خلاف کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک امریکی اہلکاروں اور مفادات کو لاحق خطرات کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔






