اس کے بعد یہ بحث دوبارہ شدت اختیار کر گئی ہے کہ آیا واشنگٹن صرف دباؤ ڈال رہا ہے یا واقعی ایرانی سرزمین پر قبضے کا منصوبہ زیر غور ہے۔
یہ جزائر اتنے اہم کیوں ہیں؟
ایران کے جنوبی جزائر آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہیں، جہاں سے دنیا کی تقریباً ایک پانچواں حصہ تیل گزرتا ہے۔ قشم ایران کا سب سے بڑا جزیرہ ہے۔
ابوموسیٰ اور دیگر چھوٹے جزائر خلیج میں ایران کی دفاعی حکمت عملی اور بحری نگرانی کے لیے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔ ان پر کنٹرول کا مطلب صرف ایک جزیرہ حاصل کرنا نہیں بلکہ عالمی توانائی کی گزرگاہ پر اثر انداز ہونا بھی ہے۔
کیا امریکا کے پاس قبضے کی فوجی صلاحیت موجود ہے؟
دفاعی ماہرین کے مطابق امریکا کے پاس اتنی بحری، فضائی اور آبی حملہ آور صلاحیت موجود ہے کہ وہ کسی چھوٹے ایرانی جزیرے پر وقتی قبضہ کر سکے۔ مشرقِ وسطیٰ میں اس کے ہزاروں فوجی، جنگی بحری جہاز اور فضائی اڈے موجود ہیں۔
تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ کسی جزیرے پر قبضہ کرنا ایک چیز ہے، لیکن اسے مسلسل اپنے کنٹرول میں رکھنا بالکل مختلف اور کہیں زیادہ مشکل کام ہے۔
قبضہ برقرار رکھنا کیوں مشکل ہوگا؟
تجزیہ کاروں کے مطابق قشم جیسے بڑے جزیرے کو سنبھالنے کے لیے ہزاروں اضافی فوجیوں، مسلسل بحری رسد، فضائی برتری اور ایرانی حملوں سے مستقل دفاع کی ضرورت ہوگی۔
ایران اپنی سرزمین سے میزائل، ڈرون، توپ خانے اور تیز رفتار کشتیوں کے ذریعے امریکی افواج کو مسلسل نشانہ بنا سکتا ہے۔ ایسی صورت میں امریکی فوج کو صرف جزیرے کی حفاظت ہی ایک مستقل جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
کیا اس سے آبنائے ہرمز محفوظ ہو جائے گی؟
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ضروری نہیں۔ ایران کو جہاز رانی متاثر کرنے کے لیے جزائر پر موجود ہونا لازمی نہیں، کیونکہ وہ اپنی سرزمین سے بھی میزائل اور ڈرون حملے کر سکتا ہے۔
اگر امریکا واقعی اس خطرے کو مکمل ختم کرنا چاہے تو اسے صرف جزائر نہیں بلکہ ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں میں بھی وسیع فوجی کارروائی کرنا ہوگی، جو ایک بڑے زمینی جنگی محاذ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
اس کے عالمی اثرات کیا ہو سکتے ہیں؟
اگر امریکا ایرانی جزائر پر قبضے کی کوشش کرتا ہے تو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی مزید خطرناک ہو سکتی ہے، تیل اور گیس کی عالمی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
اس کے علاوہ انشورنس اخراجات اور عالمی تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، خلیجی ممالک بھی اس تنازع کے براہِ راست اثرات کی زد میں آ سکتے ہیں، ایران خطے میں موجود امریکی اڈوں اور اتحادی ممالک کو مزید نشانہ بنا سکتا ہے۔
Donald Trump says the US is going to bomb Iran’s civilian infrastructure if there is no deal by next week. But the US is already bombing sites all along Iran’s southern coastline.
— Al Jazeera English (@AJEnglish) July 15, 2026
Al Jazeera s @soraya_lennie reports. pic.twitter.com/SaBCyRP9IK
کیا واقعی ایسا ہونے جا رہا ہے؟
زیادہ تر بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگرچہ امریکا کے پاس فوجی صلاحیت موجود ہے، لیکن سیاسی، عسکری اور اقتصادی قیمت اتنی زیادہ ہوگی کہ اس امکان کو فی الحال کمزور سمجھا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اگرچہ اس امکان کو مسترد نہیں کیا، مگر اب تک ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ واشنگٹن جلد ایرانی جزائر پر زمینی قبضے کی کارروائی شروع کرنے والا ہے۔







