عالمی خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق پارلیمان میں حزبِ اختلاف کے سربراہ سیتنی رانڈریاناسولونائیکو کے مطابق صدر راجویلینا اتوار کے روز اُس وقت ملک سے فرار ہوئے جب فوج کے کئی یونٹس نے بغاوت کرتے ہوئے مظاہرین کا ساتھ دینا شروع کر دیا تھا۔
پیر کی شب فیس بک پر قوم سے اپنے خطاب میں صدر راجویلینا نے کہا تھا کہ وہ اپنی جان کی حفاظت کے لیے کسی محفوظ مقام پر منتقل ہو گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ مڈغاسکر کو تباہ نہیں ہونے دیں گے، مگر اپنی موجودگی کی جگہ ظاہر نہیں کی۔
Soldiers in Madagascar rejected an order to shoot protestors, they joined them, escorted them while protecting them from any harm and they marched together protesting pic.twitter.com/gHv385nv74
— African Hub (@AfricanHub_) October 13, 2025
فوجی ذرائع کے مطابق صدر فرانسیسی فوجی طیارے کے ذریعے ملک سے روانہ ہوئے۔ فرانسیسی ریڈیو کے مطابق راجویلینا نے روانگی سے قبل فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سے ایک معاہدہ کیا تھا۔
البتہ میکرون نے مصر میں غزہ جنگ بندی کانفرنس کے دوران کہا کہ وہ اس کی تصدیق نہیں کر سکتے، لیکن زور دیا کہ مڈغاسکر میں آئینی نظام برقرار رہنا چاہیے۔
یہ مظاہرے 25 ستمبر کو پانی اور بجلی کی قلت کے خلاف شروع ہوئے تھے، مگر جلد ہی بدعنوانی، ناقص حکمرانی اور غربت کے خلاف عوامی بغاوت میں تبدیل ہو گئے۔
یہ احتجاج نیپال اور مراکش میں حالیہ سیاسی بحرانوں سے مشابہ قرار دیا جا رہا ہے، جہاں نوجوان نسل نے حکومتوں کے خلاف بڑا کردار ادا کیا۔
صدر راجویلینا نے اپنے سابق حامی ایلیٹ یونٹ کیپسیٹ کی حمایت کھو دی تھی، جو 2009 میں ان کی پہلی بغاوت کے دوران ان کے ساتھ تھا۔ ہفتے کے آخر میں اسی یونٹ نے اعلان کیا کہ وہ مظاہرین پر گولی نہیں چلائے گا اور دارالحکومت کے مرکزی چوک میں احتجاج میں شامل ہو گیا۔
اس کے بعد یونٹ نے خود کو فوج کا نیا سربراہ قرار دیا، جب کہ صدر نے اقتدار پر قبضے کی کوشش سے خبردار کیا۔
پیر کے روز ژنڈرمری (نیم فوجی دستے) کے ایک دھڑے نے بھی مظاہرین کے ساتھ شامل ہو کر اپنے ہی ادارے کا کنٹرول سنبھال لیا۔
مڈغاسکر کے آئین کے مطابق، صدر کی غیر موجودگی میں سینیٹ کا سربراہ عبوری صدر بن جاتا ہے۔ دارالحکومت انتاناناریوو میں ہزاروں مظاہرین نے جمع ہو کر نعرے لگائے کہ صدر کو ابھی استعفیٰ دینا ہوگا!
22 سالہ ہوٹل ورکر ادریانا ریونی فانومیگانتسوا نے خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تنخواہیں اتنی کم ہیں کہ صرف کھانے پر خرچ ہو جاتی ہیں۔ صدر نے 16 سال میں صرف اپنے آپ کو امیر کیا، عوام غریب ہی رہے۔
BREAKING NEWS:
— African Hub (@AfricanHub_) October 13, 2025
Madagascar’s President Andry Rajoelina has reportedly fled to France following escalating Gen Z–led protests in the country. The unrest intensified as young demonstrators demanded political change, denouncing poor governance and economic hardship.
The situation… pic.twitter.com/tLN4KzCG4w
اقوامِ متحدہ کے مطابق، 25 ستمبر سے اب تک جھڑپوں میں کم از کم 22 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
تقریباً تین کروڑ آبادی والے ملک کی نصف سے زیادہ آبادی 20 سال سے کم عمر ہے، جب کہ تین چوتھائی لوگ غربت میں زندگی گزار رہے ہیں۔
ورلڈ بینک کے مطابق، 1960 میں آزادی کے بعد سے 2020 تک فی کس آمدنی میں 45 فیصد کمی واقع ہوئی۔
مڈغاسکر دنیا کی زیادہ تر ونیلا پیدا کرتا ہے جب کہ نکل، کوبالٹ، ٹیکسٹائل اور جھینگے بھی اس کے اہم برآمدی ذرائع ہیں۔
ملک چھوڑنے سے پہلے صدر راجویلینا نے دو فرانسیسی شہریوں سمیت کئی قیدیوں کو معاف کر دیا، جو 2021 میں ایک ناکام بغاوت کے مقدمے میں سزا یافتہ تھے۔







