امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ سے ایران کی جانب سے مبینہ دھمکیوں کے حوالے سے سوال کیا گیا، جس پر انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں ایران ایسا قدم اٹھانے کی جرات نہیں کرے گا، تاہم اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے پہلے ہی ایک باضابطہ نوٹیفکیشن تیار کر رکھا ہے۔

ان  کا کہنا تھا کہ اگر ایران کی جانب سے انہیں کوئی نقصان پہنچایا گیا تو امریکا فوری اور فیصلہ کن ردعمل دے گا، جس کے نتیجے میں ایران کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے،امریکا اپنی قیادت اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر حد تک جا سکتا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حال ہی میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران میں ہونے والے حالیہ مظاہروں کے دوران جانی و مالی نقصان کا ذمہ دار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قرار دیا جانا چاہیے۔

دوسری جانب چند روز قبل امریکا کے سابق سفیر ڈان شپیرو نے ایک دعویٰ کیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ آئندہ ہفتوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتی ہے، تاہم اس دعوے کی باضابطہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات اور الزامات خطے میں پہلے سے موجود عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتے ہیں، جبکہ عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔