کویت میں اب ڈرائیورز اور کچن ہیلپرز کی کیٹیگری میں پاکستانی ورکرز کو ملازمت کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ کویتی آجروں کا کہنا ہے کہ ان شعبوں میں پاکستانی ورکرز کے انتخاب کی وجہ ان کی پیشہ ورانہ مہارت، نظم و ضبط اور خلیجی ماحول سے ہم آہنگی ہے۔

ڈرائیورز کے لیے مقررہ ملازمتوں میں بنیادی شرط یہ رکھی گئی ہے کہ امیدوار کے پاس عملی ڈرائیونگ تجربہ ہو اور وہ طویل اوقات کار کے دوران محفوظ اور ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کی صلاحیت رکھتا ہو۔ کویتی قوانین کے تحت ڈرائیونگ سے متعلق ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے امیدواروں کی جسمانی فٹنس اور کام کے دباؤ کو برداشت کرنے کی صلاحیت کو بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ ان ملازمتوں کے لیے ماہانہ بنیادی تنخواہ 175 کویتی دینار مقرر کی گئی ہے جبکہ اس کے ساتھ 15 کویتی دینار ماہانہ فوڈ الاؤنس بھی دیا جائے گا۔

اسی طرح فوڈ سروسز کے شعبے میں کچن ہیلپرز کی ضرورت بھی سامنے آئی ہے، جہاں امیدواروں سے باورچی خانے کے بنیادی امور، صفائی، کھانے کی تیاری میں معاونت اور ٹیم ورک کی صلاحیت کی توقع کی جا رہی ہے۔ اس کیٹیگری میں کام کرنے والے پاکستانی ورکرز کو ماہانہ 95 کویتی دینار بطور بنیادی تنخواہ دی جائے گی جبکہ انہیں بھی 15 کویتی دینار فوڈ الاؤنس فراہم کیا جائے گا۔ کویتی آجروں کے مطابق یہ شعبہ اُن ورکرز کے لیے موزوں ہے جو محدود مہارت کے باوجود محنت اور نظم و ضبط کے ساتھ کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

ملازمت کے مجموعی پیکج کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ دونوں کیٹیگریز میں منتخب ہونے والے ورکرز کو رہائش کی سہولت فراہم کی جائے گی، جبکہ طبی اخراجات، ورک پرمٹ، ویزا اور دیگر قانونی تقاضے آجر کی جانب سے پورے کیے جائیں گے۔ کویتی لیبر قوانین کے مطابق کام کے اوقات روزانہ آٹھ گھنٹے اور ہفتے میں چھ دن ہوں گے، جبکہ معاہدے کی مدت دو سال مقرر کی گئی ہے جو باہمی رضامندی اور قوانین کے تحت قابل توسیع ہو گی۔ ملازمین کو سالانہ بنیادوں پر آمدورفت کے لیے ایئر ٹکٹ اور دوران ملازمت ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔

اہلیت کے عمومی معیار میں عمر، جسمانی صحت اور کام کی نوعیت سے مطابقت رکھنے کی صلاحیت کو بنیادی حیثیت دی گئی ہے، جبکہ یہ مواقع خاص طور پر اُن پاکستانی نوجوانوں اور محنت کشوں کے لیے اہم قرار دیے جا رہے ہیں جو خلیجی ممالک میں قانونی اور محفوظ روزگار کے خواہاں ہیں۔

ماہرین کے مطابق کویت کی جانب سے پاکستانی ورکرز کے لیے اس نوعیت کے پیکجز اس بات کا ثبوت ہیں کہ کویتی کمپنیاں ایک بار پھر پاکستان کو اپنی لیبر مارکیٹ کے لیے قابل اعتماد شراکت دار سمجھنے لگی ہیں۔ کویت میں پاکستانی ورکرز کی تعیناتی کا یہ نیا مرحلہ 2011 میں سکیورٹی، ویزا اور انتظامی وجوہات کی بنیاد پر عائد غیر اعلانیہ مگر سخت پابندیوں کے بعد اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

حالات میں عملی تبدیلی 2023 کے بعد سامنے آئی جب دونوں ممالک کے درمیان سفارتی روابط میں بہتری اور لیبر فریم ورک پر بات چیت کے نتیجے میں کویت نے محدود پیمانے پر پاکستانی ورکرز کو دوبارہ داخلے کی اجازت دینا شروع کی۔ اس کا پہلا واضح نتیجہ 2024 میں سامنے آیا جب طویل وقفے کے بعد 1883 پاکستانی ورکرز قانونی طریقہ کار کے تحت کویت گئے۔ اگرچہ یہ تعداد ماضی کے مقابلے میں کم تھی لیکن اسے اعتماد کی بحالی کا نقطہ آغاز قرار دیا گیا۔

یہی سلسلہ 2025 میں مزید مضبوط ہوتا دکھائی دیا جب کویت جانے والے پاکستانی ورکرز کی تعداد بڑھ کر 6 ہزار 563 تک جا پہنچی۔ لیبر مارکیٹ کے ماہرین کے مطابق یہ اضافہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ کویتی آجر ایک بار پھر پاکستانی افرادی قوت کو قابل اعتماد اور تیزی سے کام سیکھنے والی لیبر کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

پاکستان میں بھی سرکاری سطح پر اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن کے ذریعے شفاف، محفوظ اور منظم بھرتیوں پر توجہ دی جا رہی ہے تاکہ انسانی سمگلنگ اور غیر قانونی ایجنٹس کے مسائل سے بچا جا سکے۔ سنہ 2026 کے آغاز نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے کیونکہ سال کے ابتدائی ہفتوں میں ہی کویت سے پاکستانی ورکرز کے لیے بڑی طلب سامنے آ چکی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی رفتار برقرار رہی اور دونوں ممالک کے درمیان لیبر تعاون کو مزید وسعت دی گئی تو 2026 نہ صرف کویت بلکہ مجموعی طور پر خلیجی خطے میں پاکستانی افرادی قوت کی مضبوط واپسی کا سال ثابت ہو سکتا ہے۔ ایسے میں کویت کے لیے روزگار کے بڑھتے مواقع ہزاروں پاکستانی خاندانوں کے لیے معاشی استحکام اور قومی معیشت کے لیے ترسیلات زر میں اضافے کی نئی امید بن کر سامنے آئی ہے۔