وہ پیر کے روز بنگلہ دیش مسلح افواج کے ریٹائرڈ افسران کے ساتھ منعقدہ ایک مکالمے سے خطاب کر رہے تھے، جس کا عنوان تھا آئیں مل کر بنگلہ دیش بنائیں۔ یہ تقریب دارالحکومت ڈھاکہ میں واقع بنگلہ دیش چائنا فرینڈشپ کانفرنس سینٹر میں منعقد ہوئی، جہاں فوج کے متعدد ریٹائرڈ سینیئر افسران اور جماعتِ اسلامی کے رہنما شریک تھے۔
ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کہا کہ ہر شہری کو بلا خوف و خطر پولنگ اسٹیشن جانے اور اپنے ووٹ کا درست عکس انتخابی نتائج میں دیکھنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور الیکشن کمیشن شفاف اور غیرجانبدار انتخابی عمل کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات سے گریزاں نظر آتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام کو آزادانہ طور پر اپنی پسند کے امیدوار کو ووٹ دینے کا ماحول فراہم کرنا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے، اور اگر وہ اس میں ناکام رہیں تو ذمہ داروں کو خود الگ ہو جانا چاہیے۔ انہوں نے منظم یا مفاہمتی انتخابات سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو اپنی قانونی حیثیت عوام کے ووٹ سے حاصل کرنی چاہیے نہ کہ غیر منتخب قوتوں سے۔
نوجوان ووٹروں سے خطاب کرتے ہوئے جماعتِ اسلامی کے امیر نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں نوجوان نسل فیصلہ کن کردار ادا کرے گی اور جماعت ان کے حقِ رائے دہی کے تحفظ کے لیے اپنا کردار نبھائے گی۔ ریٹائرڈ فوجی افسران سے مخاطب ہو کر انہوں نے کہا کہ اب ان کی ذمہ داری صرف قومی دفاع تک محدود نہیں بلکہ سماجی احتساب اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کے تحفظ تک پھیل چکی ہے۔
ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کرپشن کے خلاف جماعتِ اسلامی کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ جماعت نہ خود بدعنوانی میں ملوث ہوگی اور نہ ہی اسے فروغ دینے کا ذریعہ بنے گی۔ انہوں نے قومی ہیروز کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم کے لیے جان قربان کرنے والوں کو مناسب عزت دینا ضروری ہے تاکہ نئی نسل ان کی قربانیوں سے سبق حاصل کر سکے۔
تاریخی تناظر میں انہوں نے مشرقی پاکستان کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت عوام کو انصاف سے محروم رکھا گیا، جس کے نتیجے میں 1971 کی جنگ کے بعد بنگلہ دیش وجود میں آیا۔ انہوں نے اس جدوجہد میں فوج کے کردار کو فیصلہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کردار سے انکار تاریخ کو مسخ کرنے کے مترادف ہوگا۔
انہوں نے حالیہ برسوں میں سیاسی بحران کے دوران مسلح افواج کے ذمہ دارانہ کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک خانہ جنگی کی طرف جانے سے بچا۔ موجودہ سیاست پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جماعتِ اسلامی کو ماضی کی تحریکوں میں جبر و تشدد کا سامنا کرنا پڑا، مگر جماعت نے جماعتی مفاد کے بجائے ملک کے تحفظ کو ترجیح دی۔
انہوں نے حالیہ عوامی تحریکوں کے بارے میں یہ تاثر بھی مسترد کیا کہ یہ کسی ایک فرد کی منصوبہ بندی تھیں، اور کہا کہ اصل طاقت عوام خود تھے۔ انہوں نے وزیر اعظم اور صدر سمیت تمام اداروں اور شخصیات کے احتساب پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی قانون اور نگرانی سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کہا کہ آئندہ انتخابات سے قبل بنگلہ دیش ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے، اور 2014، 2018 اور 2024 کے متنازع انتخابات نے نوجوان نسل کو حقِ رائے دہی سے محروم رکھا۔ انہوں نے ایک ترقی پسند اور محفوظ بنگلہ دیش کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ آنے والی نسلوں کو ایک زیادہ محفوظ اور مستحکم ملک سونپا جائے۔







