امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اگر گرین لینڈ سے متعلق امریکی مؤقف پر پیش رفت نہ ہوئی تو یکم فروری سے آٹھ یورپی ممالک پر 10 فیصد اضافی ٹیرف عائد کر دیا جائے گا۔ ان ممالک میں ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز، فن لینڈ اور برطانیہ شامل ہیں، خبردار کیا ہے کہ اگر یکم جون تک کوئی معاہدہ نہ ہو سکا تو یہ ٹیرف بڑھا کر 25 فیصد تک کر دیا جائے گا۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس اعلان کے بعد یورپی اور عالمی اسٹاک مارکیٹس میں مندی دیکھی گئی، جبکہ کرنسی مارکیٹس میں بھی غیر معمولی اتار چڑھاؤ سامنے آیا۔ ڈالر کی قدر میں کمی نے سرمایہ کاروں کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے اور عالمی تجارت کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

یورپی ممالک نے امریکی صدر کی دھمکی کو سخت الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اسے گرین لینڈ کے معاملے پر دباؤ ڈالنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ فرانس سمیت کئی یورپی طاقتوں نے اس اقدام کو "معاشی بلیک میلنگ" کہا ہے۔ فرانسیسی حکام نے تجویز دی ہے کہ امریکا کو جواب دینے کے لیے اس بار ایسے معاشی اقدامات کیے جائیں جو ماضی میں استعمال نہیں کیے گئے۔

مزید پڑھیں: یورپ کو بلیک میل نہیں کیا جا سکتا، گرین لینڈ کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں: ڈنمارک اور نیٹو ممالک کا ٹرمپ کو سخت پیغام

مارکیٹ رپورٹس کے مطابق یورو اس وقت امریکی ڈالر کے مقابلے میں قدرے مستحکم ہے، تاہم اس سے قبل یورو نومبر کے بعد اپنی کم ترین سطح تک گر گیا تھا۔ سرمایہ کاروں نے بڑی تعداد میں ڈالر فروخت کیے جس کے باعث دیگر بڑی کرنسیوں کو عارضی فائدہ ہوا۔ یورپی اسٹاک مارکیٹس میں یوروسٹاکس اور جرمن ڈیکس انڈیکس میں تقریباً ایک اعشاریہ ایک فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

بیرن بینک کے چیف اکانومسٹ ہولگر شمائیڈنگ کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی صورتحال گزشتہ برس موسم بہار کے دوران پیدا ہونے والی بے یقینی سے ملتی جلتی ہے، جہاں سیاسی فیصلوں نے مارکیٹس کو غیر مستحکم کر دیا تھا۔

ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اپریل 2025 میں صدر ٹرمپ کی جانب سے ’لبریشن ڈے‘ کے موقع پر ٹیرف کے اعلان نے بھی عالمی مارکیٹس میں شدید ہلچل پیدا کی تھی۔ اس کے بعد سرمایہ کاروں کو خدشہ تھا کہ سال کے دوسرے نصف میں امریکی تجارت شدید دباؤ کا شکار رہے گی، تاہم بعد ازاں برطانیہ اور یورپی یونین کے بعض ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدوں نے وقتی ریلیف فراہم کیا تھا۔

پیر کو مارٹن لوتھر کنگ ڈے کی تعطیل کے باعث امریکی مارکیٹس بند رہیں، جس کے سبب وال اسٹریٹ کا مکمل ردعمل سامنے نہیں آ سکا۔ ایشیائی مارکیٹس میں ابتدائی کاروبار کے دوران معمولی کمی دیکھی گئی، جبکہ جمعے کے روز وال اسٹریٹ اسٹاکس جزوی طور پر نچلی سطح پر بند ہوئے تھے۔

اے این زیڈ بینک کے ایشیا ریسرچ ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ خون گوہ کا کہنا ہے کہ اگرچہ بظاہر یورپ امریکی ٹیرف سے زیادہ متاثر ہوتا دکھائی دے رہا ہے، تاہم حقیقت میں سب سے زیادہ نقصان امریکی ڈالر کو ہو رہا ہے، کیونکہ مارکیٹس بڑھتے ہوئے سیاسی خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈالر کی قیمت طے کر رہی ہیں۔

ادھر کیپٹل اکنامکس نے خبردار کیا ہے کہ جرمنی اور برطانیہ وہ ممالک ہیں جو امریکی ٹیرف سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ ادارے کے مطابق 10 فیصد ٹیرف سے ان ممالک کی مجموعی پیداوار میں تقریباً زیرو اعشاریہ ایک فیصد کمی آ سکتی ہے، جبکہ 25 فیصد ٹیرف کی صورت میں یہ کمی زیرو اعشاریہ دو سے زیرو اعشاریہ تین فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔

واضع  رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کھل کر گرین لینڈ کی ملکیت حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں، جس پر ڈنمارک اور گرین لینڈ کی قیادت نے سخت ردعمل دیا ہے۔ گرین لینڈ میں عوامی سطح پر بھی احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، جبکہ یورپ اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔