یورپی ذرائع کے مطابق امریکا اور یورپی یونین کے درمیان یہ تجارتی معاہدہ گزشتہ سال طے پایا تھا، جس کا مقصد دونوں فریقین کے درمیان تجارتی تعلقات کو مستحکم بنانا تھا۔ معاہدے کے تحت امریکا نے زیادہ تر یورپی مصنوعات پر عائد ٹیرف کو 30 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد تک محدود کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی، جبکہ یورپی یونین نے امریکی سرمایہ کاری کے فروغ اور امریکا سے درآمدات میں اضافے کے لیے اقدامات کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
تاہم حالیہ مہینوں میں امریکی صدر کی جانب سے گرین لینڈ سے متعلق متنازع بیانات اور یورپ پر مزید تجارتی پابندیاں لگانے کی دھمکیوں کے بعد یورپی یونین میں شدید تشویش پائی جا رہی تھی۔ اسی پس منظر میں یورپی پارلیمنٹ کی بین الاقوامی تجارتی کمیٹی نے معاہدے پر نظرثانی کا عمل شروع کیا، جس کے بعد اسے معطل کرنے کی منظوری دے دی گئی۔
مزید پڑھیں: ایران نے جوہری سرگرمیاں دوبارہ شروع کیں تو سخت ردعمل دیں گے، صدر ٹرمپ
یورپی پارلیمنٹ کی بین الاقوامی تجارتی کمیٹی کے چیئرمین نے اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکی دھمکیوں کے باعث یورپی یونین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو براہ راست خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں معمول کے تعلقات برقرار رکھنا ممکن نہیں رہا، اس لیے معاہدہ معطل کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا تھا۔
یورپی حکام کا کہنا ہے کہ یورپی یونین اپنے مفادات، خودمختاری اور رکن ممالک کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر امریکا نے اپنا رویہ تبدیل کیا اور باہمی احترام کی بنیاد پر بات چیت کی راہ اپنائی تو مستقبل میں مذاکرات دوبارہ شروع کیے جا سکتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس فیصلے سے امریکا اور یورپی یونین کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ عالمی تجارتی نظام پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب امریکا کی جانب سے اس فیصلے پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔







