رپورٹ کے مطابق ملبہ ہٹانے کے لیے بھاری مشینری درکار ہے. اسرائیل نے ان مشینریوں کے غزہ میں داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے. سرحدی گزرگاہیں بند ہیں اور امدادی سامان محدود ہے.
غزہ کے حکام نے مطالبہ کیا ہے کہ گزرگاہیں فوری طور پر کھولی جائیں تاکہ صفائی اور تعمیر نو شروع ہو سکے. حکام نے خبردار کیا ہے کہ نہ پھٹے ہوئے بم شہریوں اور فیلڈ ورکرز کی زندگیوں کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں. ان بموں کی صفائی کے لیے خصوصی انجینئرنگ اور حفاظتی آلات کی ضرورت ہے.
ہینڈی کیپ انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے بعد جب فلسطینی اپنے گھروں کو واپس جا رہے ہیں تو یہ بم ان کے لیے بہت زیادہ خطرہ ہیں. تنظیم نے بم ناکارہ بنانے والے آلات اور ماہرین کی فوری رسائی کی درخواست کی ہے. اقوام متحدہ کی مائن ایکشن سروس نے بھی اطلاع دی تھی کہ داغے گئے گولہ بارود کا پانچ سے 10 فی صد حصہ پھٹنے سے رہ گیا ہے. یہ حصہ علاقے میں مستقل خطرہ بن چکا ہے.
حکومتی اور امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ ملبہ ہٹانے اور بم ناکارہ کرنے کے عمل کے بغیر بحالی ممکن نہیں ہے. امدادی کارکنان اور مقامی آبادی کی حفاظت کے لیے فوری اور مسلسل رسائی لازمی ہے. غزہ کے حکام نے عالمی برادری اور متعلقہ فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ انسداد بم اور صفائی کے وسائل جلد از جلد فراہم کیے جائیں.





