یہ منفرد منظر مغربی بنگال کے شہر مرشدآباد میں منعقد ہونے والے درگا پوجا فیسٹیول میں سامنے آیا، جہاں مقامی فنکاروں نے ٹرمپ کے مجسمے کو ’برائی کی قوتوں‘ کی علامت کے طور پر پیش کیا۔
تنقیدی علامتوں سے بھرپور اس آرٹ انسٹالیشن نے نہ صرف ہزاروں کی توجہ حاصل کی بلکہ امریکا اور انڈیا کے بگڑتے تعلقات پر ایک گہرا سیاسی تبصرہ بھی پیش کیا۔
عالمی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے فیسٹیول کے منتظم سنجے بوسک کا کہنا تھا کہ کبھی انڈیا اور امریکا کے تعلقات خوشگوار تھے، مگر ٹرمپ کے دور میں انہوں نے انڈیا کو دبانے کی کوشش کی۔ اسی لیے ہم نے انہیں دیوی کے ہاتھوں ہارنے والے دیو کے طور پر دکھایا۔
مرشدآباد کے اس پوجا پینڈال میں تین ماہ تک سخت رازداری میں تیاری جاری رہی۔ بوسک نے کا کہنا تھا کہ دیو کی شناخت آخری دنوں تک خفیہ رکھی گئی تھی، تاکہ انکشاف کے لمحے میں حیرت کا اثر زیادہ ہو۔
سنجے بوسک کا کہنا تھا کہ جب مجسمے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو عوام کا ہجوم یہ منظر خود دیکھنے کے لیے امنڈ آیا۔
بنگال میں مذہبی تہوار صرف عبادت کا موقع نہیں بلکہ سماجی و سیاسی اظہار کا پلیٹ فارم بھی ہوتا ہے۔ درگا پوجا کے موقع پر ہر سال بننے والے پینڈالز (عارضی مندر) کسی نہ کسی موجودہ مسئلے جیساکہ کبھی مائیگریشن کرائسس، کبھی پاکستان-انڈیا تنازعہ اور کبھی عالمی سیاست کو آرٹ کے ذریعے بیان کرتے ہیں۔
کلکتہ کے ثقافتی مبصر سشوان سرکار کا کہنا تھا کہ یہ روایت نئی نہیں۔ 2001 میں اوسامہ بن لادن، 2020 میں ژی جن پنگ اور اب 2025 میں ٹرمپ، ہر دور کا دیو وہی بنتا ہے، جو عوام کے دلوں میں غصہ یا خوف پیدا کرتا ہے۔
یاد رہے کہ چند سال قبل ہاؤڈی مودی اور نمستے ٹرمپ جیسے پروگراموں میں دونوں رہنماؤں کی دوستی کے چرچے تھے، مگر اب تعلقات میں سرد مہری آچکی ہے۔
ٹرمپ نے انڈیا کو مردہ معیشت قرار دیتے ہوئے اس پر تاریخی بلند ترین تجارتی محصولات عائد کیے، ساتھ ہی H-1B ویزا کی فیس میں ایک لاکھ ڈالر اضافہ کر کے انڈین ماہرینِ تعلیم و ٹیکنالوجی کو نشانہ بنایا۔
انڈیا نے ان اقدامات کو غیر منصفانہ قرار دیا، مگر ٹرمپ انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ سب امریکا فرسٹ پالیسی کا حصہ ہے۔
کلکتہ کے شہری تنیِر مکھرجی نے کہا ہے کہ ٹرمپ کو مہیشاسر کے طور پر دکھانا صرف سیاسی طنز نہیں بلکہ عوامی غصے کا فنکارانہ اظہار ہے۔ یہ پیغام سادہ مگر طاقتور ہے، جو ظلم کرے گا، وہ ماں درگا کے غصے سے نہیں بچ پائے گا۔
بنگال ہمیشہ سے فن کے ذریعے مزاحمت کا گہوارہ رہا ہے۔ آزادی کے دور میں وندے ماترم سے لے کر رابندر ناتھ ٹیگور کے نغموں تک، یہاں آرٹ نے ہی سیاسی شعور کو جنم دیا۔
اب یہی روایت جدید روپ میں زندہ ہے، پینڈالز میں بننے والی یہ مجسمہ سازی عوامی مکالمے کا ذریعہ بن چکی ہے۔
منتظم سنجے بوسک نے کہا کہ آج جب ٹرمپ بار بار محصولات بڑھا رہے ہیں، یہ ہمارا فریضہ ہے کہ ہم انہیں اپنے فن کے ذریعے جواب دیں۔ درگا پوجا کے لاکھوں زائرین کے لیے، ماں درگا کے قدموں تلے گرتا، ٹرمپ محض ایک مجسمہ نہیں بلکہ عالمی طاقت کے غرور پر عوامی فتح کی علامت بن چکا ہے۔






