امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ مجوزہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ اقوام متحدہ کا متبادل نہیں ہوگا بلکہ اسے عالمی سطح پر امن کے قیام اور تنازعات کے حل کے لیے ایک اضافی اور مؤثر فورم کے طور پر تشکیل دینے کی تجویز زیر غور ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ ایک طویل عرصے سے کام کرنے والا عالمی ادارہ ہے، جس کا اپنا دائرہ اختیار، کردار اور ذمہ داریاں ہیں، اور امریکا اس ادارے کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے۔
🇺🇳 UN vs Trump’s “Board of Peace”
— Drop Site (@DropSiteNews) January 20, 2026
UN Deputy Spokesperson said, “The Board of Peace has been authorized by the Security Council for its work on Gaza — strictly for that. We’re not talking about the wider operations or any of the aspects that have been in the media for the last… pic.twitter.com/XWx3tGeSLF
انہوں نے کہا کہ بورڈ آف پیس کو اقوام متحدہ کی جگہ لینے کے تناظر میں دیکھنا درست نہیں، کیونکہ یہ ایک مختلف نوعیت کا پلیٹ فارم ہوگا جو مخصوص عالمی تنازعات، ثالثی اور امن سے متعلق معاملات پر توجہ مرکوز کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ عالمی حالات میں کئی ایسے تنازعات ہیں جن کے حل کے لیے تیز رفتار اور عملی فیصلوں کی ضرورت ہے، تاہم اقوام متحدہ کے طریقہ کار کے باعث بعض اوقات فیصلوں میں تاخیر ہو جاتی ہے۔
ان کے مطابق بورڈ آف پیس کا تصور اسی خلا کو پُر کرنے کی ایک کوشش ہے تاکہ فوری ثالثی، بات چیت اور امن کے امکانات کو فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کر دیا کہ امریکا اقوام متحدہ کو کمزور کرنا چاہتا ہے یا اس کی جگہ کوئی نیا عالمی ادارہ قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ صدر ٹرمپ کے بقول، ’’ہم اقوام متحدہ کے کردار کے حامی ہیں، مگر دنیا کو اس وقت ایسے اضافی فورمز کی بھی ضرورت ہے جو عملی اور مؤثر انداز میں تنازعات کے حل میں مدد دے سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ بورڈ آف پیس کے قیام کا مقصد دنیا کے مختلف خطوں میں جاری تنازعات کے فریقین کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جہاں غیر جانبدار ثالثی کے ذریعے بات چیت کو آگے بڑھایا جا سکے اور امن کی راہ ہموار ہو۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر اقوام متحدہ کے کردار اور کارکردگی سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں گردش کر رہی تھیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کی وضاحت سے یہ تاثر کمزور ہوا ہے کہ واشنگٹن اقوام متحدہ کے متوازی کوئی نیا عالمی نظام متعارف کرانا چاہتا ہے۔
ذرائع کے مطابق بورڈ آف پیس سے متعلق مزید تفصیلات اور اس کے ممکنہ ڈھانچے پر مشاورت جاری ہے، تاہم امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ اس فورم کو عالمی امن کے لیے ایک معاون پلیٹ فارم کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ کسی موجودہ عالمی ادارے کے متبادل کے طور پر۔







