بنگلہ دیش کی سیاست ایک تاریخی اور غیرمعمولی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں دہائیوں بعد جماعتِ اسلامی نہ صرف قومی سیاست میں بھرپور واپسی کرتی دکھائی دے رہی ہے بلکہ ایوانِ اقتدار کے قریب پہنچنے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق جماعت اسلامی پہلی مرتبہ اس پوزیشن میں نظر آ رہی ہے کہ وہ ایک مضبوط حکومتی اتحاد کی قیادت کر سکے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق جماعت اسلامی کے حامیوں میں غیرمعمولی جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ ضلع فریدپور سے تعلق رکھنے والے 45 سالہ بینکر عبدالرزاق کا کہنا ہے کہ یہ ان کی زندگی کا پہلا موقع ہے جب انہیں محسوس ہو رہا ہے کہ جس جماعت کو وہ برسوں سے سپورٹ کرتے آ رہے ہیں، وہ واقعی اقتدار تک پہنچ سکتی ہے۔ عبدالرزاق کے مطابق جماعت کے انتخابی نشان ’ترازو‘ کے حق میں عوامی حمایت روز بروز بڑھ رہی ہے اور مختلف طبقات جماعت کے گرد متحد ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ دنیا کی آٹھویں سب سے زیادہ آبادی والے ملک اور چوتھی سب سے بڑی مسلم آبادی رکھنے والے بنگلہ دیش میں 12 فروری کو عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ یہ انتخابات اگست 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے بعد منعقد ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں طویل عرصے سے اقتدار پر قابض وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا۔
بعد ازاں نوبیل انعام یافتہ ماہرِ معیشت محمد یونس کی سربراہی میں قائم عبوری حکومت نے ایک بڑا سیاسی فیصلہ کرتے ہوئے عوامی لیگ پر پابندی عائد کر دی۔ اس فیصلے کے بعد انتخابی میدان عملاً دو بڑے سیاسی دھڑوں تک محدود ہو گیا ہے، جن میں ایک طرف بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) ہے جبکہ دوسری جانب جماعت اسلامی کی قیادت میں قائم انتخابی اتحاد ہے، جس میں نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) اور دیگر اسلام پسند جماعتیں شامل ہیں۔
سرویز نے سیاسی منظر بدل دیا
جماعت اسلامی کے بڑھتے اعتماد کی ایک بڑی وجہ حالیہ رائے عامہ کے سرویز ہیں۔ امریکی ادارے انٹرنیشنل ری پبلکن انسٹی ٹیوٹ کے دسمبر میں کیے گئے سروے کے مطابق بی این پی کو 33 فیصد جبکہ جماعت اسلامی کو 29 فیصد حمایت حاصل ہے۔ اسی طرح گزشتہ ہفتے بنگلہ دیشی تحقیقی اداروں کے مشترکہ سروے میں بی این پی کو 34.7 فیصد اور جماعت اسلامی کو 33.6 فیصد عوامی حمایت حاصل ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ جماعت اسلامی تیزی سے بی این پی کے قریب آ رہی ہے اور اگر یہی رجحان برقرار رہا تو انتخابی نتائج غیرمتوقع ہو سکتے ہیں۔
سخت ریاستی کریک ڈاؤن سے سیاسی بحالی تک
اگر جماعت اسلامی کی قیادت میں قائم اتحاد کامیاب ہوتا ہے تو یہ اس جماعت کے لیے ایک تاریخی سیاسی واپسی تصور کی جائے گی، جسے شیخ حسینہ کے تقریباً 15 سالہ دورِ حکومت میں سخت ترین ریاستی کریک ڈاؤن کا سامنا رہا۔ اس عرصے کے دوران جماعت پر پابندی عائد رہی، متعدد مرکزی رہنماؤں کو پھانسی یا طویل قید کی سزائیں دی گئیں جبکہ ہزاروں کارکنوں کے لاپتا ہونے یا حراست میں ہلاکت کے واقعات رپورٹ ہوئے۔
یہ تمام کارروائیاں 1971 کی جنگ سے متعلق مقدمات کے تحت قائم کیے گئے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل کے فیصلوں کے نتیجے میں ہوئیں، جنہیں جماعت اسلامی اور اس کے حامی متنازع قرار دیتے رہے ہیں۔
عدالتی تضاد: حسینہ واجد کو بھی سزائے موت
دلچسپ پیش رفت یہ ہے کہ نومبر 2025 میں اسی انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو 2024 کے احتجاجی مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے الزام میں سزائے موت سنائی، جس دوران 1400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس وقت شیخ حسینہ بھارت میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں اور بنگلہ دیش کی بارہا درخواستوں کے باوجود بھارت نے انہیں حوالے نہیں کیا۔
جماعت اسلامی: قیام، ماضی اور تنازعات
جماعت اسلامی کی بنیاد 1941 میں معروف اسلامی مفکر سید ابوالاعلیٰ مودودی نے رکھی۔ 1971 کی جنگ میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کے باعث جماعت کو بنگلہ دیش میں شدید تنقید کا سامنا رہا، جس کے نتیجے میں 1972 میں اس پر پابندی عائد کر دی گئی۔ بعد ازاں 1979 میں جنرل ضیاء الرحمٰن کے دور میں پابندی ختم ہوئی اور جماعت نے دوبارہ سیاسی عمل میں حصہ لینا شروع کیا۔
1991 اور 2001 میں جماعت اسلامی بی این پی کے ساتھ اتحاد کے تحت اقتدار کا حصہ بنی، تاہم 2009 میں شیخ حسینہ کی واپسی کے بعد جماعت ایک بار پھر ریاستی دباؤ کی زد میں آ گئی۔
2024 کے بعد نئی تنظیم اور نئی حکمت عملی
پابندی کے خاتمے اور رہنماؤں کی رہائی کے بعد جماعت اسلامی نے خود کو ازسرِنو منظم کیا۔ جماعت کی موجودہ قیادت میں امیر شفیق الرحمٰن، نائب امیر سید عبداللہ محمد طاہر اور سیکریٹری جنرل میاں غلام پروار شامل ہیں۔ جماعت کا مؤقف ہے کہ اس کی بڑھتی مقبولیت عوامی ہمدردی، سیاسی جبر کے ردعمل اور روایتی سیاست سے بڑھتی مایوسی کا نتیجہ ہے۔
شریعت، خواتین اور اقلیتوں سے متعلق خدشات
جماعت اسلامی کے تیزی سے ابھرنے پر بعض حلقوں کی جانب سے خدشات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ وہ اقتدار میں آ کر شریعت نافذ کرے گی اور خواتین کے حقوق محدود کیے جائیں گے۔ تاہم جماعتی قیادت ان خدشات کو بے بنیاد قرار دیتی ہے۔ جماعت اسلامی کے نائب امیر سید عبداللہ محمد طاہر کے مطابق جماعت آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے حکومت کرے گی اور اس کی ترجیح اصلاحات ہوں گی، نہ کہ نظریاتی جبر۔
اقلیتوں کو متوجہ کرنے کی کوشش
الجزیرہ کے مطابق جماعت اسلامی نے تاریخ میں پہلی بار کھلنا کے حلقے سے ایک ہندو امیدوار، کرشنا نندی، کو انتخابی ٹکٹ جاری کیا ہے۔ سیاسی مبصرین اس اقدام کو اقلیتوں کو اعتماد میں لینے اور اپنی شبیہ بہتر بنانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں، و







