یہ اعلان جمعرات کی شب ڈھاکا میں انسٹی ٹیوشن آف ڈپلومہ انجینیئرز میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران کیا گیا۔ اگرچہ اس اتحاد کو ’11 جماعتی انتخابی اتحاد‘ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اہم اسلامی سیاسی جماعت اسلامی اندولن بنگلہ دیش تاحال اس میں شامل نہیں ہوئی۔

اتحادی رہنماؤں کے مطابق اسلامی اندولن بنگلہ دیش کے لیے 47 نشستیں خالی رکھی گئی ہیں اور امید ظاہر کی گئی ہے کہ وہ جلد اتحاد میں شامل ہو جائے گی۔

نشستوں کی تقسیم کے تحت بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی 179 حلقوں میں امیدوار میدان میں اتارے گی، نیشنل سٹیزن پارٹی 30، بنگلہ دیش خلافت مجلس 20، خلافت مجلس 10 اور لبرل ڈیموکریٹک پارٹی 7 نشستوں پر انتخاب لڑے گی۔

اس کے علاوہ اے بی پارٹی 3، بنگلہ دیش ڈیولپمنٹ پارٹی 2 اور نظامِ اسلام پارٹی بھی 2 حلقوں میں امیدوار کھڑے کرے گی، جبکہ بنگلہ دیش خلافت اندولن اور نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی اتحاد میں شامل ہونے کے باوجود کسی نشست پر امیدوار نہیں دیں گی۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعتِ اسلامی کے نائب امیر سید عبداللہ محمد طاہر نے کہا کہ یہ انتخابات صرف اقتدار کی تبدیلی نہیں بلکہ ملک کے مستقبل اور ایک نئے بنگلہ دیش کی تعمیر کی جدوجہد ہیں۔

مزید پڑھیں: جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کا معتبر اور شفاف انتخابات پر زور،  نوجوان نسل فیصلہ کن کردار ادا کرے گی

بعد ازاں جماعتِ اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے کہا کہ اسلامی اندولن کی عدم شمولیت کے باوجود اتحاد برقرار ہے اور مذاکرات جاری ہیں، امید ہے کہ اسلامی اندولن آخرکار اتحاد کا حصہ بن جائے گی۔

دوسری جانب اسلامی اندولن بنگلہ دیش نے اعلان کیا ہے کہ وہ جمعہ کو اپنی پوزیشن واضح کرنے کے لیے علیحدہ بریفنگ دے گی۔ جماعت کے ایک سینیئر رہنما کے مطابق جماعتِ اسلامی کے ساتھ حتمی معاہدے کے امکانات انتہائی کم ہیں۔

ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں کے درمیان اختلاف کی بنیادی وجہ نشستوں کی تقسیم ہے۔ اسلامی اندولن نے ابتدا میں 80 نشستوں کا مطالبہ کیا تھا، بعد ازاں یہ مطالبہ 70 تک کم کر دیا گیا، جبکہ جماعتِ اسلامی 45 نشستوں سے زیادہ دینے پر آمادہ نہیں تھی۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات 12 فروری 2026 کو ہوں گے، جن کے ساتھ آئینی اصلاحات پر ریفرنڈم بھی منعقد کیا جائے گا۔ انتخابی معاہدے سے قبل مختلف جماعتوں کی جانب سے جمع کرائے گئے کاغذاتِ نامزدگی میں اب طے شدہ حلقوں میں دستبرداری متوقع ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق جزوی اتحاد کے انتخابی اثرات کا اندازہ لگانا ابھی قبل از وقت ہے، تاہم اسلامی اندولن جیسی بڑی جماعت کی علیحدگی مشترکہ ووٹ بینک پر اثر ڈال سکتی ہے۔