ترکیہ کی خبر رساں ایجنسی انادولو نے یمن کے حکومت نواز نشریاتی ادارے الجمهوریہ ٹی وی کے حوالے سے بتایا ہے کہ حملے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق 2 پاکستانی اور ایک انڈونیشی شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والے تجارتی جہاز کی شناخت فوری طور پر سامنے نہیں آسکی، جب کہ جہاز کے مالک اور اس پر موجود دیگر عملے کے بارے میں بھی تاحال تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔
یمنی حکومت سے وابستہ نشریاتی ادارے کے مطابق ہلاکتوں سے متعلق اطلاعات ابتدائی نوعیت کی ہیں اور واقعے کے بارے میں مزید معلومات سامنے آنے کا انتظار ہے۔
دوسری جانب حوثیوں کی جانب سے حملے پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا اور نہ ہی گروپ نے حملے کی ذمہ داری یا اس میں ہونے والے جانی نقصان سے متعلق کوئی تفصیلات جاری کی ہیں۔
باب المندب آبنائے بحیرۂ احمر اور خلیج عدن کو ملانے والی انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے، جو ایشیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ کے درمیان تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔
اس علاقے میں حالیہ برسوں کے دوران تجارتی جہازوں پر ہونے والے حملوں کے باعث عالمی شپنگ کمپنیوں کو سکیورٹی خدشات کا سامنا رہا ہے۔ متعدد کمپنیوں نے خطرات کے پیش نظر اپنے بحری جہازوں کے راستے تبدیل کیے ہیں، جس کے باعث سفر کے دورانیے اور اخراجات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق باب المندب میں کسی بھی نئے حملے سے نہ صرف بحری جہازوں کی سلامتی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوسکتا ہے بلکہ عالمی تجارت اور خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی بھی مزید متاثر ہوسکتی ہے۔
واقعے میں جاں بحق ہونے والے پاکستانی شہریوں کی شناخت، ان کے آبائی علاقوں اور تجارتی جہاز سے متعلق مزید تفصیلات تاحال سامنے نہیں آسکی ہیں۔







