وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ صدر ٹرمپ اور ان کی قومی سلامتی ٹیم ایران میں جاری حالات پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں،ایران میں مظاہروں کے دوران شہریوں کی ہلاکتوں پر امریکی حکومت کو شدید تشویش ہے اور اسی تناظر میں تہران کو سنگین نتائج سے خبردار بھی کیا جا چکا ہے۔

ان  کے مطابق امریکی دباؤ کے نتیجے میں ایران میں مبینہ طور پر 800 افراد کو دی جانے والی سزائے موت پر عملدرآمد روکا گیا ہے، جب کہ ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کی پالیسی بھی پوری شدت سے جاری ہے، امریکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموش نہیں رہ سکتا اور اس معاملے پر عالمی برادری کے ساتھ مشاورت بھی جاری ہے۔

انہوں  نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ سفارتی، اقتصادی اور دیگر تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کر رہے ہیں اور کسی بھی ممکنہ اقدام سے قبل خطے کے اتحادیوں سے مشاورت کو اہمیت دی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا: منیسوٹا میں احتجاج شدت اختیار کر گیا، ٹرمپ کی فوج تعینات کرنے کی دھمکی کیا رنگ لائے گی؟

دوسری جانب برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر نے ایران پر ممکنہ فوجی حملے سے متعلق فیصلہ وقتی طور پر تبدیل کر لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت خلیجی ممالک کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں سامنے آئی، جنہوں نے واشنگٹن پر زور دیا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی راستہ اختیار کیا جائے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق امریکہ کی جانب سے سخت بیانات اور اقتصادی پابندیوں کے ساتھ ساتھ سفارتی دروازے کھلے رکھنے کی حکمت عملی خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کی کوشش کا حصہ ہے۔ ایران سے متعلق آئندہ دنوں میں امریکی پالیسی کس رخ پر جاتی ہے، اس پر عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔