امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کی ماضی کی کارروائیوں نے ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کے قریب پہنچنے سے روک دیا، اگر امریکا بروقت ایران کے جوہری نظام کو نشانہ نہ بناتا تو ایران محض دو ماہ کے اندر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکتا تھا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو اپنی جوہری سرگرمیاں مکمل طور پر ترک کرنا ہوں گی اور عالمی قوانین کی پابندی کرنا ہوگی، خبردار کیا کہ اگر ایران نے دوبارہ جوہری پروگرام کو فعال کیا تو امریکا سخت ردعمل دے گا، تاہم ساتھ ہی یہ امید بھی ظاہر کی کہ آئندہ ایران کے خلاف کسی نئی فوجی کارروائی کی نوبت نہیں آئے گی۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ان کی سخت پالیسی اور واضح پیغامات کے باعث ایران پر دباؤ بڑھا ہے، جس کے اثرات اندرونی صورتحال پر بھی پڑے،ایران میں سڑکوں پر عوام کے خلاف اندھا دھند کارروائیاں ہو رہی تھیں، تاہم امریکا کی جانب سے ممکنہ فوجی اقدام کے اشارے کے بعد ایرانی حکام نے سینکڑوں افراد کو پھانسی دینے کے منصوبے سے دستبرداری اختیار کرلی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا خطے میں امن چاہتا ہے، لیکن جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا،ایران اگر عالمی برادری کے ساتھ تعاون کرے اور جوہری عزائم سے باز رہے تو تنازع کم ہو سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات امریکا کی سخت گیر پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں، جن کا مقصد ایران پر دباؤ برقرار رکھنا اور اسے جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا ہے۔ دوسری جانب ایران کی جانب سے ان بیانات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔







