عینی شاہدین کے مطابق فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا، جس کے بعد پورا بازار بند کر دیا گیا۔

عالمی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ مظاہرے اس بات کا اشارہ ہیں کہ ایران میں جاری احتجاجی تحریک مزید پھیل سکتی ہے۔ بیرون ملک سرگرم انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اب تک ان مظاہروں میں کم از کم 36 افراد ہلاک جبکہ 2 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

منگل کے روز ایرانی کرنسی ریال مزید کمزور ہو کر 14 لاکھ 60 ہزار ریال فی ڈالر کی تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔ یاد رہے کہ 1979 کے انقلاب سے قبل ایک ڈالر تقریباً 70 ریال کے برابر تھا، جبکہ 2015 کے جوہری معاہدے کے وقت یہ شرح 32 ہزار ریال تھی۔

ایران کے مرکزی بینک نے حالیہ دنوں میں درآمد کنندگان اور صنعتی اداروں کو فراہم کی جانے والی سبسڈی شدہ ڈالر ریٹ سہولت ختم کر دی ہے، سوائے گندم اور ادویات کے۔ اس فیصلے کے بعد اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق کھانے کا تیل دوگنی قیمت پر فروخت ہو رہا ہے، جبکہ پنیر اور مرغی کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ کئی علاقوں میں درآمد شدہ چاول نایاب ہو چکے ہیں اور تاجروں کا کہنا ہے کہ کم قیمت پر فروخت انہیں نقصان میں ڈال سکتی ہے، اسی لیے دکانوں پر اشیاء دستیاب نہیں۔

ایران کے اصلاح پسند صدر مسعود پیزشکیان نے ایک ٹیلی وژن خطاب میں اعتراف کیا کہ حکومت اکیلے اس بحران سے نہیں نمٹ سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر حقیقت پسندانہ فیصلے ملک کو مزید مشکلات میں دھکیل سکتے ہیں۔

ادھر مغربی صوبے ایلام میں مظاہرین کی ہلاکتوں پر صدر پیزشکیان نے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں سیکیورٹی فورسز کو مظاہرین پر فائرنگ کرتے دیکھا گیا۔ اسی صوبے میں ایک اسپتال پر چھاپے کی اطلاعات پر امریکی محکمہ خارجہ نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا ہے۔

ایلام صوبے میں، جہاں زیادہ تر کرد اور لُر نسل کے افراد آباد ہیں، دو مظاہرین کے جنازوں کے بعد مشتعل افراد نے تین بینکوں کو نذر آتش کر دیا، جس کے نتیجے میں مزید جانی نقصان ہوا۔

امریکا میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق احتجاج ایران کے 31 میں سے 27 صوبوں کے 280 سے زائد مقامات تک پھیل چکا ہے، جبکہ ہلاک ہونے والوں میں 30 مظاہرین، 4 بچے اور 2 سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران میں پُرامن مظاہرین کو بے رحمی سے کچلا گیا تو امریکا مداخلت کر سکتا ہے۔ اس کے جواب میں ایران کی اعلیٰ قیادت نے امریکی افواج کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی ہیں۔

یہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حال ہی میں امریکا نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کیا، جو ایران کے قریبی اتحادی تصور کیے جاتے ہیں۔