ایرانی سرکاری ٹی وی پریس ٹی وی کے مطابق آئی آر جی سی نے پیر کو جاری بیان میں کہا کہ اس کی ایرو اسپیس فورس نے آبنائے ہرمز کے اوپر پرواز کرنے والے امریکی ڈرون کو جدید فضائی دفاعی نظام کی مدد سے نشانہ بنا کر تباہ کیا۔ تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ ڈرون نے کہاں سے پرواز کی تھی۔

ایرانی میڈیا نے تباہ کیے جانے والے ڈرون کی شناخت ایم کیو-9 ریپر کے طور پر کی ہے، جو بنیادی طور پر امریکی فضائیہ استعمال کرتی ہے۔ آئی آر جی سی کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کی مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

ایرانی بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک ایران 30 سے زائد امریکی ایم کیو-9 ریپر ڈرونز کو روکنے یا تباہ کرنے میں کامیاب رہا ہے، جبکہ ان میں سے دو درجن سے زائد ڈرون مکمل طور پر تباہ کیے جا چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایک ایم کیو-9 ریپر ڈرون کی مالیت تقریباً 3 کروڑ امریکی ڈالر ہے، جبکہ ان نقصانات کی مجموعی مالیت تقریباً ایک ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔

ایرانی حکام کا مزید دعویٰ ہے کہ امریکی فضائیہ کے آپریشنل ایم کیو-9 ریپر ڈرونز کی تعداد کم ہو کر تقریباً 135 رہ گئی ہے، جو امریکی فضائیہ کی مطلوبہ کم از کم تعداد 189 سے بھی کم ہے۔

آئی آر جی سی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایم کیو-9 اے ڈرون تیار کرنے والی کمپنی جنرل ایٹامکس کے پاس فروخت کے لیے 10 سے بھی کم نئے ڈرون باقی ہیں اور اس ماڈل کی پروڈکشن لائن بھی بند کی جا چکی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران، خلیج فارس، کویت اور اردن میں امریکی اڈوں پر مجموعی طور پر 41 سے 42 ایم کیو-9 ریپر ڈرون تباہ کیے جا چکے ہیں۔ ایرانی دعوے کے مطابق آپریشن نصر 2 کے دوران اردن کے کنگ فیصل ایئر بیس پر کنٹینرز میں موجود آٹھ ایم کیو-9 ڈرونز اور رن ویز پر موجود دیگر طیارے بھی تباہ کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی فضائیہ کے لیفٹیننٹ جنرل ڈیوڈ ٹیبر نے کانگریس کو بتایا ہے کہ فضائیہ اپنے بیڑے میں کمی پوری کرنے کے لیے مزید ایم کیو-9 اے ڈرونز کے حصول کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔

دوسری جانب خطے میں تعینات امریکی فوج کی مرکزی کمان سینٹ کام نے تاحال ایران کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا۔ امریکی حکام نے نہ تو ڈرون گرائے جانے کی تصدیق کی ہے اور نہ ہی اس کی تردید کی ہے۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باعث خلیجی خطے کی صورتحال بدستور حساس ہے، جبکہ آبنائے ہرمز عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اہم ترین گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔