اپنے تازہ بیان میں محسن رضائی نے امریکا کو سخت لہجے میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر خطے میں مزید جنگی بحری جہاز یا فوجی قوت تعینات کی گئی تو ایران اس کا بھرپور جواب دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی قومی سلامتی اور سمندری حدود کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے جاری کی جانے والی وارننگ کے بعد متعدد بحری جہاز اپنا راستہ تبدیل کرکے واپس جا چکے ہیں۔ محسن رضائی کے مطابق جو جہاز امریکی ہدایات پر عمل کرتے ہیں، انہیں نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے بعد وہ بھی اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
سینیئر ایرانی رہنما نے مزید کہا کہ ایران کا مؤقف واضح ہے کہ آبنائے ہرمز کو امریکا کی شرائط کے مطابق دوبارہ نہیں کھولا جائے گا اور اس حوالے سے کسی بھی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
محسن رضائی نے یوکرین سے متعلق بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے یوکرین میں تین مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کی تیاری مکمل کر لی تھی، تاہم بعد ازاں یوکرین کی جانب سے ایرانی جہاز پر حملے کو غلطی قرار دینے اور اس کا اعتراف کرنے کے بعد یہ کارروائی مؤخر کر دی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ مجوزہ حملہ روک دیا گیا، لیکن ایران کے نزدیک یوکرین کو اس واقعے کی قیمت ہر صورت ادا کرنا ہوگی اور اس معاملے کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں پیدا ہونے والی کشیدگی عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔






