برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ اتوار کے روز صوبہ قرطبہ کے شہر ایڈاموز کے قریب پیش آیا۔

ملک کے سرکاری ٹیلی ویژن کی رپورٹ کے مطابق حادثے میں 100 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے 25 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ میڈرڈ سے ہیلوا جانے والی ٹرین کا ڈرائیور بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہے۔

ریل نیٹ ورک چلانے والے ادارے ایڈف نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا ہے کہ میڈرڈ جانے والی ٹرین ایڈاموز کے قریب اس وقت پٹری سے اتری جب قریبی پٹری سے ایک اور ٹرین گزر رہی تھی۔

بیان کے مطابق حادثہ شام چھ بج کر 40 منٹ پر پیش آیا، جبکہ ٹرین اس سے صرف 10 منٹ قبل قرطبہ سے میڈرڈ کے لیے روانہ ہوئی تھی۔

ایڈف کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والی ٹرین ایریو نامی ایک نجی کمپنی کی تھی، جو سرکاری محکمہ ریلوے کے تحت کام کرتی ہے۔ محکمہ ریلوے نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ تمام ایمرجنسی پروٹوکولز فعال کر دیے گئے ہیں اور حکام ریسکیو ٹیموں سے مسلسل رابطے میں ہیں۔

حادثے کے بعد میڈرڈ اور اندلس کے درمیان ٹرین سروس معطل کر دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک ٹرین میں 300 سے زائد مسافر سوار تھے، جبکہ دوسری ٹرین میں تقریباً 100 مسافر موجود تھے۔

قرطبہ کے فائر چیف پاکو کیرمونا نے سرکاری چینل ٹی وی ای کو بتایا کہ ایک ٹرین سے تمام مسافروں کو نکال لیا گیا ہے، تاہم دوسری ٹرین کی حالت انتہائی خراب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسری ٹرین میں اب بھی لوگ پھنسے ہوئے ہیں اور یہ ایک مشکل ریسکیو آپریشن ہے، تاہم زندہ افراد کو نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔

سپین کے وزیر ٹرانسپورٹ اوسکر پیونٹے نے بتایا کہ وہ ایڈف کے ہیڈکوارٹر میں موجود ہیں اور ریسکیو آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ تازہ اطلاعات انتہائی تشویش ناک ہیں، ایک ٹرین کو شدید نقصان پہنچا ہے اور ہلاک و زخمی ہونے والوں کی حتمی تعداد کا تعین ابھی نہیں ہو سکا۔

ایڈاموز کے میئر رفائل مورینو نے مقامی اخبار ای آئی کو بتایا کہ وہ سب سے پہلے موقع پر پہنچنے والوں میں شامل تھے۔ ان کے مطابق منظر نہایت خوفناک تھا، دونوں ٹرینیں پٹری سے اتر چکی تھیں اور امدادی ٹیمیں مسافروں کو نکالنے میں مصروف ہیں۔