امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق 17 جولائی کو اردن میں تعینات امریکی اور اتحادی افواج ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے خلاف دفاع کر رہی تھیں کہ اس دوران دو امریکی فوجی ہلاک، ایک لاپتا اور متعدد زخمی ہوگئے۔
چار زخمی اہلکاروں کو اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں سے علاج کے بعد انہیں واپس ڈیوٹی پر بھیج دیا گیا، جب کہ معمولی زخمی دیگر اہلکار بھی دوبارہ اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں۔
گزشتہ چند روز میں کیا ہوا؟
امریکی حکام اور نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایران نے گزشتہ پانچ روز کے دوران اردن میں امریکی تنصیبات پر چار بڑے حملے کیے۔ پہلے حملے میں کنگ فیصل ایئر بیس کی رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا، جس میں کم از کم پانچ امریکی اہلکار زخمی ہوئے۔
اس کے بعد مشرقی اردن میں واقع ایک فوجی اڈے پر حملہ کیا گیا، جہاں امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹر موجود تھے۔ امریکی حکام کے مطابق کئی ہیلی کاپٹرز کو نقصان پہنچا۔
تیسرے حملے میں موافق السلط (الازرق) ایئر بیس کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جہاں بنکروں میں موجود تقریباً 20 امریکی فوجی زخمی ہوئے۔ جمعے کو اسی الازرق ایئر بیس پر دوبارہ حملہ کیا گیا، جس میں دو امریکی فوجی ہلاک اور چار دیگر زخمی ہوگئے۔
ایران کا دعویٰ کیا ہے؟
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اردن میں امریکی الازرق ایئر بیس کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا، جہاں دو امریکی فائٹر جیٹس، تین دیگر طیارے، فائٹر جیٹ شیلٹرز اور پارکنگ ریمپس تباہ کیے گئے۔ تاہم امریکی فوج نے ان دعوؤں کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔
امریکی جوابی کارروائی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر امریکی فوج نے ایران کے خلاف مسلسل آٹھویں رات بھی فضائی حملے کیے۔ سینٹکام کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں عالمی تجارتی جہاز رانی کو لاحق خطرات کم کرنا، ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی عسکری صلاحیت کو مزید محدود کرنا اور اردن میں امریکی فوجیوں پر حملے کرنے والی فورسز کو سزا دینا ہے۔
امریکی فوج نے حملوں کے مقامات اور نقصانات کی تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی طیاروں نے سیرک، حاجی آباد، بندر عباس اور جزیرہ قشم کے اطراف کئی مقامات کو نشانہ بنایا، جہاں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
ایران کی جوابی کارروائی
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکی حملوں کے بعد ایران نے کویت میں موجود دو امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ کیمپ الادیری میں اسلحہ ڈپو اور علی السالم ایئر بیس پر نصب پیٹریاٹ دفاعی نظام کے ریڈار کو ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔ ان دعوؤں پر امریکا یا کویت کی جانب سے فوری طور پر کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
جنگ بندی کیوں ٹوٹی؟
جون میں پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) طے پائی تھی، جس کا مقصد جنگ بندی اور مستقل امن کی راہ ہموار کرنا تھا، تاہم چند ہی ہفتوں بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے اور جنگ بندی عملی طور پر ختم ہوگئی۔
اسی دوران امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی دوبارہ نافذ کی، جب کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا، جس سے عالمی تیل کی ترسیل اور سمندری تجارت پر بھی خدشات بڑھ گئے۔
ایرانی سپریم لیڈر کا سخت ردعمل
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا پر مفاہمتی معاہدے کی بار بار خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کے دستخط بے وقعت اور ناقابلِ اعتبار ثابت ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا تنازع مزید بڑھانا چاہتا ہے، تاہم ایرانی عوام اور مزاحمتی محاذ اس کے لیے ایسے سبق تیار کیے بیٹھے ہیں جنہیں وہ کبھی فراموش نہیں کرے گا۔
CENTCOM Statement on Recently Fallen, Missing U.S. Service Members
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 18, 2026
TAMPA, Fla. — On July 17, two U.S. service members in Jordan were killed in action as U.S. Central Command (CENTCOM) and partner forces defended against Iranian ballistic missile and drone attacks. Additionally,…
ٹرمپ کا ردعمل
دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت پر ردعمل دیتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں اس واقعے پر بے حد افسوس ہے اور امریکا ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے گا۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بھی کہا کہ امریکی فوجیوں کی قربانی سے امریکا کا عزم مزید مضبوط ہوا ہے۔
کیا جنگ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے؟
اردن میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت، ایران اور امریکا کے درمیان مسلسل میزائل و فضائی حملے، آبنائے ہرمز کی صورتحال، خلیجی ممالک میں بڑھتی کشیدگی اور جنگ بندی کے مکمل خاتمے نے اس خدشے کو تقویت دی ہے کہ تنازع اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں کسی بھی نئی کارروائی سے پورے خطے میں جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔
عالمی برادری کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا سفارت کاری ایک بار پھر اس بحران کو روک پائے گی یا مشرقِ وسطیٰ مزید بڑی جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے۔







