بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں عام انتخابات سے قبل ووٹر لسٹ سے بڑے پیمانے پر نام خارج کیے جانے کے معاملے نے سیاسی اور انتظامی سطح پر تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق مجموعی طور پر تقریباً 90 لاکھ ووٹرز کے نام فہرست سے نکالے گئے ہیں، جن میں ایک بڑی تعداد مسلمانوں کی بھی بتائی جا رہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ووٹر لسٹ کی درستگی کے لیے کیا گیا ہے تاکہ جعلی اندراجات اور وفات پا جانے والے افراد کے نام حذف کیے جا سکیں۔ تاہم اس فیصلے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور تقریباً 27 لاکھ افراد نے اپنے نام خارج کیے جانے کو چیلنج کیا ہے، لیکن رپورٹس کے مطابق ان میں سے بڑی تعداد اب بھی ووٹر لسٹ میں بحال نہیں ہو سکی۔
مغربی بنگال میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 27 فیصد ہے اور یہ ووٹ بینک عام طور پر ریاست کی حکمراں جماعت کی حمایت کرتا ہے۔ ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی پہلے کبھی حکومت قائم نہیں کر سکی اور اسے اہم اپوزیشن جماعت سمجھا جاتا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت کا موقف ہے کہ یہ کارروائی غیر قانونی تارکینِ وطن اور “دراندازوں” کو فہرست سے نکالنے کے لیے ضروری تھی، تاہم ناقدین اسے ایک سیاسی بیانیہ قرار دے رہے ہیں جس کے ذریعے اقلیتی ووٹرز کو غیر متناسب طور پر متاثر کیا جا رہا ہے۔
الیکشن کمیشن آف انڈیا، جو ملک میں انتخابات کا ذمہ دار ادارہ ہے، ماضی میں اپنی غیر جانبداری کے حوالے سے پہچانا جاتا رہا ہے، لیکن اس بڑے پیمانے پر ووٹر اخراج کے بعد اس کی خودمختاری اور شفافیت پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
چونکہ انتخابی عمل جاری ہے، اس لیے جن افراد کے نام فہرست سے نکالے جا چکے ہیں، ان کے لیے ووٹ ڈالنے کا امکان عملاً ختم ہو گیا ہے، جس سے اس پورے عمل کی شفافیت پر بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔






