امریکی تاریخ میں چار صدور ایسے ہیں جو قاتلانہ حملوں میں اپنی جان سے گئے۔

پہلے ابراہم لنکن 1865 میں واشنگٹن کے فورڈز تھیٹرمیں ایک ڈرامہ دیکھ رہے تھے۔ اسی دوران جان ولکس بوتھ  جو ڈرامہ آرٹسٹ تھے اس نے قریب آ کر ان کے سر میں گولی مار دی۔ لمحوں میں ایک تاریخی دور ختم ہو گیا۔

اس کے بعد جیمز اے گارفیلڈ 1881 میں وہ واشنگٹن کے ریلوے اسٹیشن پر موجود تھے۔ وہاں چارلس جے گائٹو نے انہیں گولی مار دی جس سے وہ فوراً نہیں مرے، لیکن کئی ہفتوں بعد زخموں اور انفیکشن کی وجہ سے جان سے گئے۔

پھر ولیم میک کنلے1901 میں جب وہ نیویارک کے شہر بفیلو میں ایک بڑی نمائش میں موجود تھے۔ وہاں ایک شخص نے قریب آ کر فائر کیا۔ چند دن بعد وہ بھی چل بسے۔

اور پھر وہ واقعہ جس نے پوری دنیا کو ہلا دیا… 1963 میں جان ایف کینیڈی ڈیلس ٹیکساس میں ایک کھلی گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔ اسی دوران ایک شخص نے فائرنگ کی اور وہ موقع پر ہی جان سے گئے۔

لیکن کہانی صرف یہاں ختم نہیں ہوتی… کئی امریکی صدور ایسے بھی تھے جو انہی خطرات سے بچ نکلے۔

اینڈریو جیکسن پر 1835 میں حملہ ہوا، مگر حملہ آور کی دونوں پستولیں فائر نہ ہو سکیں جس وجہ سے ان کی جان بچ گئی۔

تھیوڈور روزویلٹ کو 1912 میں انتخابی مہم کے دوران سینے میں گولی لگی، مگر وہ رکنے کے بجائے زخمی حالت میں بھی اپنی تقریر مکمل کرتے رہے۔

فرینکلن ڈی روزویلٹ پر 1933 میں حملہ ہوا، لیکن وہ محفوظ رہے جبکہ ایک اور شخص مارا گیا۔

ہیری ایس ٹرومین پر 1950 میں واشنگٹن کے باہر فائرنگ ہوئی، جس میں ایک سیکیورٹی اہلکار جان سے گیا مگر وہ خود بچ گئے۔

جیرالڈ فورڈ  پر 1975 میں ایک ہی مہینے میں دو حملے ہوئے، مگر دونوں ناکام رہے۔

اور رونالڈ ریگن 1981 میں واشنگٹن میں ان پر گولی لگی جس سے ان کا پھیپھڑا متاثر ہوا، مگر بروقت علاج نے ان کی جان بچا لی۔

اسی طرح جارج ڈبلیو بش  پر 2005 میں ایک جلسے کے دوران گرنیڈ پھینکا گیا لیکن وہ پھٹا ہی نہیں۔

موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بھی تین بار جان لیوا حملوں کی کوششیں ہوئیں، لیکن ہر بار وہ محفوظ رہے۔ اب چوتھی بار 25 اپریل ہفتہ کی رات وائٹ ہاؤس میں میڈیا نمائندگان کے اعزاز میں عشائیہ جاری تھا جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، خاتونِ اول، نائب صدر اور وزیرِ دفاع سمیت اعلیٰ قیادت موجود تھی۔

تقریب کے دوران مبینہ طور پر فائرنگ کی آوازیں سنائی دینے کے بعد ہلچل مچ گئی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فوری طور پر وہاں سے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔