ایک بیان میں روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا کی جانب سے دی جانے والی دھمکیاں یا پابندیوں کی باتیں روس کے ایران کے ساتھ طے شدہ معاہدوں کو متاثر نہیں کر سکتیں، روس اور ایران کے تعلقات آزادانہ فیصلوں اور مشترکہ مفادات کے تحت قائم ہیں۔
انہوں نے امریکا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اپنے ہی بنائے گئے عالمی اصولوں اور قوانین کو نظر انداز کر رہا ہے،امریکا گلوبلائزیشن اور قوانین کی پاسداری کی بات کرتا ہے، مگر عملی طور پر خود ان اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے موجودہ طرزِ عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک قابلِ اعتماد شراکت دار نہیں رہا، اگر ایک طاقتور ملک غیر مہذب اور دھمکی آمیز طریقے اختیار کرے تو اس کا مطلب ہے کہ اس کی عالمی مسابقتی حیثیت کمزور ہو رہی ہے۔
واضح رہے کہ دو روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں اعلان کیا تھا کہ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ امریکی صدر کے مطابق یہ فیصلہ حتمی ہے اور اس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا، جبکہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے تمام ممالک کو امریکا کے ساتھ ہونے والی ہر قسم کی تجارت پر اضافی ٹیرف ادا کرنا ہوگا۔
ماہرین کے مطابق روس کا یہ بیان امریکا کو واضح پیغام ہے کہ ماسکو اپنی خارجہ پالیسی میں دباؤ قبول نہیں کرے گا اور ایران کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھے گا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکا، روس اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات عالمی سیاست اور معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔






