یہ کہانی شروع ہوتی ہے انیس سو ترپن میں، جب امریکی صدر آئزن ہاور نے ایک تاریخی اور مشہور تقریر کی، جسے "ایٹمز فار پیس" کہا جاتا ہے۔
اس پروگرام کے تحت فیصلہ کیا گیا کہ دنیا بھر کے وہ ممالک جن کے پاس نیوکلیئر پروگرام نہیں ہیں، انہیں پرامن مقاصد کے لیے نیوکلیئر ٹیکنالوجی دی جائے تاکہ وہ اسے زراعت، توانائی اور صحت کے شعبوں میں استعمال کر سکیں۔
اسی پروگرام کے نتیجے میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی، یعنی آئی اے ای اے کا قیام بھی عمل میں آیا، جو آج بھی دنیا بھر کے نیوکلیئر پروگرامز کی نگرانی کرتی ہے۔
امریکہ نے تحقیقاتی ری ایکٹرز، نیوکلیئر فیول اور تکنیکی تربیت کئی ممالک کو فراہم کی گئی جن میں بھارت، پاکستان اور ایران بھی شامل تھے، تاکہ وہ اپنے سویلین نیوکلیئر پروگرام کو شروع کر سکیں۔
یہ دراصل امریکہ کی ایک سافٹ پاور ڈپلومیسی تھی، جسے "ہارٹس اینڈ مائنڈز" کمپین بھی کہا جاتا ہے، تاکہ دنیا کو دکھایا جا سکے کہ وہ اپنی نیوکلیئر برتری کو ترقی کے لیے استعمال کر رہا ہے اور زیادہ سے زیادہ اتحادی اپنے ساتھ ملا رہا ہے۔
اسی پالیسی کے تحت انیس سو سڑسٹھ میں امریکہ نے ایران کو اس کا پہلا نیوکلیئر ری ایکٹر فراہم کیا، ساتھ ہی تقریباً پانچ اعشاریہ پانچ کلوگرام افزودہ یورینیم بھی دیا۔
پھر 1970 کی دہائی میں مغربی کمپنیوں نے ایران کے نیوکلیئر پروگرام میں بھرپور سرمایہ کاری شروع کر دی، اور یہ پروگرام تیزی سے ترقی کرنے لگا۔
لیکن پھر آیا انیس سو اناسی کا انقلاب۔
آیت اللہ خمینی کی قیادت میں نئی حکومت برسرِ اقتدار آئی، اور شروع میں اس حکومت کا نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں نظریہ بالکل مختلف تھا۔
انہوں نے اسے ایک مغربی تعیش قرار دیا اور غیر ضروری سمجھا۔
نتیجتاً تمام منصوبے روک دیے گئے، غیر ملکی ماہرین ایران چھوڑ کر چلے گئے، اور نیوکلیئر پروگرام تقریباً ختم ہو گیا۔
پھر ایران-عراق جنگ شروع ہوئی، جو 1980 سے لے کر 1988 تک جاری رہی۔
یہ جنگ صرف دو ممالک کے درمیان نہیں تھی، بلکہ اس نے ایران کی اسٹریٹجک سوچ کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔
جب عراق نے بڑے پیمانے پر کیمیائی ہتھیار استعمال کیے، تو ایرانی قیادت کو احساس ہوا کہ قومی سلامتی کے لیے صرف نظریہ کافی نہیں ہوتا، بلکہ طاقت اور دفاعی صلاحیت بھی ضروری ہوتی ہے۔
ادھر مغربی طاقتیں عراق کے ساتھ کھڑی تھیں، اور ایران تنہا ہوتا جا رہا تھا۔ سخت پابندیاں لگ چکی تھیں۔
ایسے میں ایران نے اپنے نیوکلیئر پروگرام کو دوبارہ زندہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن اس بار مغرب کے بجائے روس، چین اور شمالی کوریا سے مدد لی گئی۔







