FAA کی جانب سے جاری کردہ نوٹم (Notices to Airmen) کے مطابق یہ وارننگ 16 جنوری سے نافذ العمل ہوگی اور تقریباً 60 دن تک جاری رہے گی۔ ایوی ایشن اتھارٹی نے کہا ہے کہ یہ انتباہ اس لیے جاری کیا گیا ہے تاکہ ہوائی جہاز کے تمام ارتفاعات پر ممکنہ خطرات کو کم کیا جا سکے، خصوصاً اوور فلائٹس اور ایئرپورٹ پر آمد و روانگی کے دوران۔
DEVELOPING: The FAA is warning U.S. airlines that "potential risks exist for aircraft at all altitudes" over wide swaths of Pacific airspace near Mexico, Central America, and South America because of military activity and possible satellite navigation interference. pic.twitter.com/s5zwirgvMW
— Pete Muntean (@petemuntean) January 16, 2026
FAA نے خبردار کیا ہے کہ ان علاقوں میں GPS اور سیٹلائٹ نیویگیشن میں خلل، فضائی راستوں میں مداخلت اور ممکنہ فوجی سرگرمیاں ہو سکتی ہیں، جو پروازوں کی حفاظت کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ اس وارننگ کا مقصد ہوابازی کے دوران مسافروں اور عملے کی حفاظت کو یقینی بنانا اور ایئر لائنز کو اپنے روٹس اور آپریشنز کو مناسب انداز میں منظم کرنے کی ہدایت دینا ہے۔
یہ انتباہ عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے تناؤ کے دوران سامنے آیا ہے، خاص طور پر گزشتہ ماہ جب امریکہ نے وینزویلا میں فوجی کارروائی کی اور وہاں کے صدر نیکولس مادورو کی گرفتاری کے خدشات سامنے آئے، تب FAA نے کیریبین کے اوپر بھی پروازوں کے لیے محتاط اقدامات کی ہدایات جاری کی تھیں۔
میکسیکو کی حکومت نے FAA کی جاری کردہ وارننگ کو صرف احتیاطی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی فضائی حدود یا مقامی ایئر لائنز پر کسی قسم کی پابندی نہیں لگائی گئی۔
حکام نے مزید کہا کہ میکسیکو میں فضائی آپریشن معمول کے مطابق جاری ہے اور مسافروں کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔
مزید پڑھیں: ایران سے کشیدگی کم کرانے کی روسی کوشش، پیوٹن کا اسرائیل کو پیغام
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت فضائی تحفظ اور بین الاقوامی فضائی روٹس کی نگرانی کے لیے اہم ہے، کیونکہ خطرات کا بروقت ادراک اور الرٹ سسٹم پر عمل درآمد پروازوں کے دوران حادثات کے امکانات کو کم کرتا ہے۔ FAA کی یہ ہدایات ایئر لائنز کے لیے ایک وارننگ کی حیثیت رکھتی ہیں تاکہ وہ پرواز کی روٹس، اونچائی، اور ایئرپورٹس کے آپریشنز کے دوران احتیاطی اقدامات اختیار کریں۔






