نوراڈ کے مطابق امریکا اور کینیڈا کے یہ طیارے براعظمی بیسز سے جاری آپریشنز کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے تحت کام کریں گے اور دفاعی کمانڈ کی طویل المدتی منصوبہ بند سرگرمیوں میں حصہ لیں گ،یہ اقدامات خطے میں فضائی نگرانی اور دفاعی تیاریوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ دفاعی سرگرمیاں امریکا اور کینیڈا کے درمیان مضبوط دوطرفہ دفاعی شراکت داری کے تحت انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ ان میں ڈنمارک کی بادشاہت کے ساتھ دیرینہ تعلقات اور تعاون کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے، تمام سرگرمیاں ڈنمارک کی حکومت کے ساتھ مکمل ہم آہنگی میں کی جائیں گی۔
ڈیفنس کمانڈ کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ اس مشن میں شامل تمام افواج ضروری سفارتی اجازت ناموں کے ساتھ آپریشن کریں گی، جبکہ حکومتِ گرین لینڈ کو بھی منصوبہ بند سرگرمیوں سے پیشگی طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔
North American Aerospace Defense Command (NORAD) aircraft will soon arrive at Pituffik Space Base, Greenland. Along with aircraft operating from bases in the continental United States and Canada, they will support various long-planned NORAD activities, building on the enduring…
— North American Aerospace Defense Command (@NORADCommand) January 19, 2026
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مقامی حکام کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھا جائے گا تاکہ تمام دفاعی اقدامات شفاف اور باہمی اعتماد کے تحت مکمل ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ نارتھ امریکن ایروسپیس ڈیفنس کمانڈ شمالی امریکا کے دفاع کے لیے ہمہ وقت اور وسیع پیمانے پر آپریشنز انجام دیتا ہے۔ یہ کارروائیاں الاسکا، کینیڈا اور امریکا کے براعظمی علاقوں میں کسی ایک یا بیک وقت متعدد کمانڈ خطوں میں کی جاتی ہیں، جن کا مقصد فضائی و خلائی خطرات کی بروقت نشاندہی اور مؤثر دفاع کو یقینی بنانا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق گرین لینڈ میں امریکا اور کینیڈا کی بڑھتی ہوئی موجودگی آرکٹک خطے کی اسٹریٹجک اہمیت کو ظاہر کرتی ہے، جہاں عالمی طاقتوں کی دلچسپی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام خطے میں سیکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ شمالی امریکا کے دفاعی نظام کو مزید مستحکم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔







