علی لاریجانی اس وقت ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری ہیں، جو دفاع، جوہری پالیسی اور علاقائی حکمت عملی سے متعلق ملک کا سب سے طاقتور ادارہ سمجھا جاتا ہے۔
جیسے جیسے امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان محاذ آرائی شدت اختیار کر رہی ہے،ایران میں ایک مانوس مگر تیزی سے بااثر ہوتی شخصیت طاقت کے مرکز میں آ گئی ہے۔ بند دروازوں کے پیچھے اور میڈیا کی نظروں سے دور، علی لاریجانی ایران کے نہایت حساس سیاسی، عسکری اور سفارتی فیصلوں کی نگرانی کر رہے ہیں، ایسے وقت میں جب ملک گزشتہ کئی دہائیوں کے سب سے خطرناک مرحلے سے گزر رہا ہے۔
جنوری کے اوائل میں، جب ایران بھر میں احتجاج پھیل رہے تھے اور ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کے خدشات بڑھ رہے تھے، سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے نظام کو مستحکم کرنے کے لیے لاریجانی پر انحصار کیا۔ تب سے لاریجانی نے بحران سے نمٹنے کی قیادت سنبھال لی ہے اور منتخب حکومت کو عملی طور پر پس منظر میں دھکیل دیا گیا ہے۔
علی لاریجانی کون ہیں اور اب اتنے بااثر کیوں ہیں؟
67 سالہ علی اردشیر لاریجانی ایران کے ایک بااثر مذہبی و سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ چار دہائیوں پر محیط کیریئر کے دوران انہوں نے مذہبی، عسکری اور انٹیلی جنس اداروں میں گہرے روابط قائم کیے، جو آج انہیں فیصلہ سازی کے مرکز میں لے آئے ہیں۔
بطور سیکریٹری سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل، انہیں ایسے اختیارات حاصل ہیں جو عام طور پر وزارتوں، فوج اور صدر کے دائرہ کار سے جڑے ہوتے ہیں۔ اگرچہ صدر مسعود پیزشکیان بظاہر حکومت کا چہرہ ہیں، مگر ان کا اثر کم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ پیزشکیان خود کہہ چکے ہیں، "میں ڈاکٹر ہوں، سیاست دان نہیں۔"
مزید پڑھیں: امریکی و اسرائیلی حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوگئے: ایرانی سرکاری میڈیا
گزشتہ چندمہینوں میں لاریجانی کی ذمہ داریاں تیزی سے بڑھی ہیں۔ اسلامی نظام کے خاتمے کا مطالبہ کرنے والے مظاہروں کے خلاف ریاستی ردعمل کی نگرانی کی۔ ساتھ ہی وہ امریکا کے ساتھ حساس جوہری مذاکرات کی قیادت کر رہے تھے اور پس پردہ قطر اور عمان جیسے علاقائی ثالثوں سے رابطے میں تھے۔
عالمی سطح پر وہ روس سمیت بڑے اتحادیوں سے رابطے کا اہم ذریعہ رہے ہیں۔ وہ ماسکو جا کر صدر ولادیمیر پیوٹن سے سیکیورٹی تعاون پر بات چیت کر چکے ہیں، خاص طور پر خطے میں مغربی فوجی موجودگی کے تناظر میں۔
امریکا کی جانب سے فوجی تعیناتی بڑھائے جانے کے بعد لاریجانی نے ممکنہ تصادم کے لیے ہنگامی منصوبہ بندی بھی شروع کر دی۔ دوحہ کے دورے کے دوران انہوں نے کہا:
"ہم اپنے ملک میں تیار ہیں۔ ہم جنگ نہیں چاہتے اور نہ ہی جنگ شروع کریں گے، لیکن اگر ہم پر مسلط کی گئی تو جواب دیں گے۔"
ایران کے نظامِ اقتدار میں طویل کیریئر
لاریجانی ابتدائی دور میں اسلامی انقلابی گارڈ کور کے ارکان میں شامل تھے۔ بعد ازاں وہ ایران کے چیف جوہری مذاکرات کار بنے اور سرکاری نشریاتی ادارے کے سربراہ بھی رہے۔
2008 سے 2020 تک وہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر رہے، جو انہیں بعد از انقلاب دور کے طویل عرصہ خدمات انجام دینے والے رہنماؤں میں شامل کرتا ہے۔ 2021 میں خامنہ ای نے انہیں چین کے ساتھ 25 سالہ اسٹریٹجک معاہدے پر مذاکرات کی ذمہ داری دی، جو ایران کی طویل مدتی معاشی حکمت عملی کا اہم ستون ہے۔
کیا علی لاریجانی خامنہ ای کے جانشین بن سکتے ہیں؟
علاقائی کشیدگی کے باعث ایران کی قیادت کے مستقبل پر قیاس آرائیاں بڑھ گئی ہیں، اطلاعات کے مطابق خامنہ ای نے ممکنہ جانشینوں کے نام نجی طور پر طے کیے ہیں، تاہم لاریجانی کا باضابطہ طور پر سپریم لیڈر بننا مشکل سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہ اعلیٰ شیعہ مذہبی عالم نہیں ہیں، جو آئینی تقاضا ہے۔
اس کے باوجود ایرانی تجزیہ کار انہیں ایک مستحکم طاقت کے منتظم کے طور پر دیکھتے ہیں، جو جنگ یا قیادت کی منتقلی کے دوران نظام کو سنبھال سکتے ہیں۔
اس وقت علی لاریجانی کیوں اہم ہیں؟
ایسے وقت میں جب ایران بیرونی فوجی دباؤ اور اندرونی بے چینی کا سامنا کر رہا ہے، لاریجانی تسلسل اور کنٹرول کی علامت سمجھے جا رہے ہیں۔ سپریم لیڈر کے معتمد اور مختلف اداروں میں قابل قبول شخصیت کے طور پر وہ تہران میں خاموش مگر مؤثر مرکزِ ثقل بن چکے ہیں، جو ایران کی جدید تاریخ کے ایک بڑے بحران میں ملک کی سمت طے کر رہے ہیں۔







